قیدی عمران خان کا پروٹوکول بتا رہا ، فیلڈ مارشل، ڈیفنس کمانڈر عاصم منیر کا کھیل ختم ہونے کو ہے
عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، صدارتی پروٹوکول،پاکستان ہی نہیں دنیا کو چونکا دیا، کیا طاقت کے مراکز میں خاموش بغاوت شروع ہو چکی ہے، ملک کا وزیرداخلہ پلٹی مار چکا ؟
عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے لیے جس غیر معمولی انداز میں سکیورٹی حصار، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور طبی عملے پر مشتمل قافلہ ترتیب دیا گیا، اس کے مناظر نے پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جسے محض ایک قیدی کی طبی منتقلی کہہ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں،اگرچہ کسی ریاستی ادارے کے اندر بغاوت یا باقاعدہ بغاوت کے کوئی قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آئے، لیکن اس پورے واقعے کی سیاسی علامتیں ضرور غیر معمولی ہیں
یہ وہ عمران خان ہیں جو گزشتہ 3 سال سے جیل میں ہیں، جنہیں موجودہ نظام ایک سزا یافتہ قیدی کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، لیکن آج اسی قیدی کی نقل و حرکت ایسے سکیورٹی انتظامات کے ساتھ ہوئی جس نے انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے طاقتور ترین سیاسی کردار کے طور پر عوام اور دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا
اصل سوال قافلے کی گاڑیوں کی تعداد نہیں، بلکہ اس قافلے کا سیاسی پیغام ہے
سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے علاج کے لیے طبی ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جائے،عدالت نے انہیں 16 ستمبر تک ہسپتال میں رکھنے کی ہدایت بھی کی تھی،حکومت نے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، لیکن 20 اگست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراضات کے بعد درخواست واپس کر دی۔ یوں حکومت کی قانونی مزاحمت بھی فوری طور پر نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی
یہاں سے معاملہ محض صحت اور علاج کا نہیں رہتا، بلکہ طاقت، اختیار اور سیاسی تاثر کا بن جاتا ہے
حکومت ایک طرف یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ عمران خان کو قانون اور جیل قواعد کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور نجی ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم پر قانونی وضاحت چاہتی ہے،دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور سکیورٹی انتظامات پر مشاورت بھی ہوئی،شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں
یہ تمام واقعات مل کر ایک عجیب سیاسی تضاد پیدا کرتے ہیں
جس شخص کو حکومت سیاسی طور پر ختم شدہ کردار سمجھ کر جیل میں رکھنا چاہتی ہے، اسی شخص کے گرد آج ریاستی مشینری کا ایک ایسا حصار دکھائی دیتا ہے جس نے اسے دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس منظر کو عمران خان کے حامی یقیناً اپنی سیاسی فتح سمجھیں گے، جبکہ حکومت کے مخالفین اسے موجودہ بندوبست کی کمزوری کی علامت قرار دے سکتے ہیں
لیکن کیا اسے ’’اندرونی بغاوت‘‘ کہنا درست ہوگا؟
ابھی نہیں
بغاوت ایک بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں،محض غیر معمولی پروٹوکول، سکیورٹی کا بڑا انتظام یا کسی فیصلے پر ریاستی اداروں کا عمل درآمد کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ طاقت کے مراکز میں کسی نے حکومت یا عسکری قیادت کے خلاف بغاوت کر دی ہے
تاہم اس واقعے کو نظر انداز کرنا بھی سیاسی غلطی ہوگی، اور بغاوت نہیں بھی ہوئی تو بغاوت کے اشارے ضرور دیدئیے گئے ہیں ،
اگر ایک ایسے شخص کو، جسے حکومت طویل عرصے سے قید اور قانونی مقدمات کے ذریعے سیاسی طور پر محدود رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے، آخرکار ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حکم پر نجی ہسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے، حکومت کی نظرثانی درخواست ابتدائی مرحلے ہی میں واپس ہو جاتی ہے اور منتقلی کے وقت ریاست کو غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کرنا پڑتے ہیں، تو یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان کا سیاسی وزن ختم نہیں ہوا
بلکہ اس کے برعکس، ان کی قید نے ان کی سیاسی علامت کو مزید مضبوط کر دیا ہے
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان کی منتقلی کا منظر بیرونِ ملک بھی سیاسی تاثر پیدا کر رہا ہے،مغربی ذرائع ابلاغ پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکم، عمران خان کی صحت اور ان کی طویل قید کو نمایاں کر رہے ہیں،خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی 20 اگست کو رپورٹ کیا کہ عمران خان کی جماعت کے ترجمان ذوالفقار بخاری نے فوج اور آرمی چیف کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی بات کی ہے،یہ بھی اس بدلتے ہوئے سیاسی ماحول کی ایک اہم علامت ہے
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے،کیا پاکستان میں طاقت کے مراکز عمران خان کے معاملے پر پہلے سے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں؟
اس سوال کا جواب فی الحال قطعی طور پر نہیں دیا جا سکتا، لیکن اشارے ضرور موجود ہیں کہ عمران خان کے معاملے کو اب صرف جیل، مقدمات یا انتظامی پابندیوں کے ذریعے حل کرنا آسان نہیں رہا
اور اگر یہی صورتحال آگے بڑھتی ہے، اگر عدالتیں مسلسل عمران خان کے بنیادی حقوق کے معاملے میں حکومت کے مؤقف پر سوال اٹھاتی رہیں، اگر ان کی صحت کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوتا رہا، اور اگر حکومت کے اندر بھی عمران خان کے بارے میں پالیسی پر اختلافات نمایاں ہونے لگے، تو پھر موجودہ سیاسی بندوبست کے لیے اصل خطرہ سڑکوں پر موجود ہجوم نہیں بلکہ ریاستی اور سیاسی طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ ہوگا
اسی لیے آج کے قافلے کو محض ایک قیدی کی ہسپتال منتقلی سمجھنا شاید سیاسی منظرنامے کو بہت سطحی انداز میں دیکھنا ہوگا
یہ بغاوت کا ثبوت نہیں، لیکن یہ ضرور ایک بڑا سیاسی اشارہ ہے
اور اس اشارے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جس عمران خان کو قید کے ذریعے سیاست کے منظرنامے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تھی، وہ آج بھی اتنی ہی سیاسی طاقت کے ساتھ موجود ہیں کہ ان کی ایک ہسپتال منتقلی بھی پورے نظام کی طاقت، کمزوری اور مستقبل پر سوال کھڑے کر دیتی ہے
اگر اسے عمران خان کی ’’فتح‘‘ کہا جائے تو یہ سیاسی طور پر قابلِ فہم ہے، لیکن زیادہ درست تجزیہ یہ ہوگا کہ آج کی صورتحال نے کم از کم یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان کو پاکستانی سیاست سے خارج کرنے کی کوشش ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی، البتہ یہ ضرور سمجھا محسوس کیا جاسکتا ہے قیدی عمران خان کا پروٹوکول بتا رہا ، فیلڈ مارشل، ڈیفنس کمانڈر عاصم منیر کا کھیل ختم ہونے کو ہے




