مولانا فضل الرحمٰن کا اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو کھلا چیلنج، عاصم منیر کو براہ راست نشانے پر لے لیا، معدنی وسائل کے معاہدوں پر بھی سخت سوالات
مولانا نے قبائلی اضلاع میں معدنی ذخائر کے معاملے کو اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معدنیات کی تلاش، بیرونی سرمایہ کاری یا عالمی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ معاہدے کن شرائط پر کیے جا رہے ہیں، قومی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں حکومت، سرمایہ کار کمپنیوں اور مقامی آبادی کا حصہ کتنا ہوگا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں،ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کو پہلے سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا اور اب ان کے معاشی حقوق بھی چھینے جا رہے ہیں
انہوں نے فیلڈ مارشل پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا ہم تو انہیں ایک حافظ قران سمجھتے تھے جس کے سینے میں ایک گداز دل ہونا چاہیے تھا مگر سن کچھ انکی آنکھ کے نیچے ہورہا ہے ، مولانا نے جمعیت علمائے اسلام کے ایک اجلاس میں پارٹی کے اکابرین سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقوں کے قیمتی پتھر امریکی حکام کے دفاتر تک پہنچائے گئے ہیں اور امریکی حکام بھی اس معاملے میں پیش رفت کا اعتراف کر چکے ہیں،مولانا کے مطابق پاکستان نے چین کی سرمایہ کاری اور سی پیک کے صنعتی منصوبوں کو مایوس کیا ہے اور اب ان کی جگہ امریکی مفادات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے،انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ قومی معدنی ذخائر سے متعلق معاہدوں کی تفصیلات عوام سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں
مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سخت اعتراض کیا،ان کے مطابق ایمرجنسی کے تحت آنے والے اضلاع براہ راست وفاقی وزارت داخلہ کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ گورنر راج والے علاقوں میں وزیراعظم کو جواب دہ ایک کونسل روزمرہ معاملات کی نگرانی اور ہدایات دے رہی ہے،انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسے نظام میں گورنر کا کردار کیا رہ جاتا ہے، وہ صرف تھری پیس سوٹ پہننے کے لیے رہ گئے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی صوبے میں دو الگ انتظامی نظام قائم کرنے کی منطق بھی عوام کو سمجھائی جائے
انہوں نے ایمرجنسی کے جواز کے طور پر دہشت گردی کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے اور الزام لگایا کہ پہلے دہشت گردی کا بیانیہ سامنے رکھا گیا، لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد بحث کا رخ معدنی وسائل اور ان کے معاہدوں کی طرف مڑ گیا،انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کے ساتھ قانونی تجارت کے راستے بند ہیں، مگر اسمگلنگ کے راستے بدستور موجود ہیں،ان کے بقول ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سمیت مختلف علاقوں کو ایمرجنسی میں شامل کرنے کے پس پردہ محرکات کی وضاحت ضروری ہے،انہوں نے کوہاٹ ڈویژن میں بھی ایمرجنسی نافذ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا
خواجہ آصف کے ساتھ حالیہ لفظی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ وزیر دفاع ان کے محترم اور بڑے بھائی ہیں، انہوں نے تو صرف تھوڑی سی گدگدی کی تھی، لیکن جواب اگلے روز آیا،ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دیے گئے جواب پر انہیں اعتراض نہیں، تاہم ان کے اصل سوالات کا جواب نہیں دیا گیا،انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن اگر جواب دینے پر آئے تو مخالفین کے لیے اسے برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا
خطاب کا ایک اہم سیاسی پہلو یہ بھی تھا کہ مولانا نے اپنی جماعت پر دباؤ ڈالنے اور کارکنوں کو اپنے خلاف بیانات دینے کے لیے مجبور کرنے کے الزامات عائد کیے،ان کے مطابق جے یو آئی کے کارکنوں، کاروباری افراد، علما اور ارکان اسمبلی سے رابطے کرکے ان پر ان کے خلاف بولنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلاف کا جواب گالیوں، کردار کشی اور جعلی ویڈیوز سے نہیں دیا جا سکتا، حکومت ان کے سوالات کا جواب دے اور کھلے مکالمے کا راستہ اختیار کرے
انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں صوبے کے وزرائے اعلیٰ کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کی گئی، لیکن جمعیت علمائے اسلام کو اس طرح قابو نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے اپنے سیاسی مؤقف کو آئین، عوام کے منتخب نمائندوں کے اختیار اور قومی وسائل کے تحفظ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں، اصل مسئلہ پاکستان کے مفادات اور عوام کے حقوق کا ہے
مولانا کے اس خطاب کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں مقتدر حلقوں اور وفاقی حکومت دونوں کے سامنے کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج، 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور قبائلی علاقوں کے مستقبل پر شدید سیاسی بحث جاری ہے،حالیہ ہفتوں میں ان کی اعلیٰ سطحی سیاسی و سفارتی ملاقاتوں اور مختلف حلقوں میں ان کے لیے ممکنہ حمایت کی قیاس آرائیوں کے تناظر میں ان کا یہ جارحانہ مؤقف سیاسی منظرنامے میں ایک نئی پیش رفت ہے،
اس تمام صورت حال میں مولانا فضل الرحمٰن کا بنیادی سیاسی پیغام واضح ہے،وہ معدنی وسائل کے معاہدوں کی شفافیت، قبائلی عوام کے معاشی حقوق اور خیبر پختونخوا کے آئینی و سیاسی مستقبل پر خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں،ان کا حکومت اور مقتدر حلقوں کو چیلنج ہے کہ الزامات اور دباؤ کے بجائے ان کے سوالات کا دلیل اور حقائق کے ساتھ جواب دیا جائے، مولانا فضل الرحمان جو بیک وقت فوج اور حکومت سے ٹکرا رہے ہیں انکے اس سخت رویہ پر کہا جارہا ہے انہیں جہاں ایک طرف کچھ بااثر بیرونی قوتوں کی حمایت حاصل ہے تو دوسری طرف فوج میں بھی کوئ بڑا گروپ انکی پشت پناہی کررہا ہے جو فیلڈ مارشل کے ضرورت سے زیادہ اختیارات پر خوش نہیں ہے





