مشی گن کی سینیٹ نشست : دو مختلف نظریات کی جنگ عظیم ، ڈیموکریٹس کی ترقی پسند سیاست اور ری پبلکنز کی کڑی آزمائش
واشنگٹن: مشی گن میں امریکی سینیٹ کی اہم نشست کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید اور ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کے درمیان انتخابی مقابلہ دو مختلف سیاسی نظریات کی آزمائش بن گیا ہے،ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ مقابلہ سینیٹ میں اکثریت کے تعین پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ مشی گن ملک کی اہم سیاسی طور پر غیر یقینی ریاستوں میں شمار ہوتا ہے
عبدال السید اس انتخاب میں اپنے ترقی پسند سیاسی ایجنڈے، بالخصوص تمام شہریوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کیئر کی پالیسی کو بنیاد بنا رہے ہیں،وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایسی سیاست بھی عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے جس میں صحت کی سہولتوں کو ہر شہری کا حق قرار دیا جائے، حالانکہ 2 سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ریاست میں کامیابی حاصل کی تھی
سابق ڈائریکٹر صحت وین کاؤنٹی عبدل السید نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب میں ایوان نمائندگان کی رکن ہیلی اسٹیونز کو سخت اور مہنگی انتخابی مہم کے بعد معمولی فرق سے شکست دی تھی،اسٹیونز کو پارٹی کے روایتی اور بااثر حلقوں کی حمایت حاصل تھی، لیکن عبدل السید نے ترقی پسند سیاست کے پلیٹ فارم پر کامیابی حاصل کی
مشی گن کی نسلی اور مذہبی تنوع رکھنے والی آبادی نے انتخابی مقابلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،دونوں امیدوار ریاست بھر میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں یہودی، مسلمان اور سیاہ فام برادریاں انتخابی سیاست میں اہم حیثیت رکھتی ہیں،اسرائیل کے لیے امریکی حمایت اور یہود دشمنی کے الزامات پر تلخ سیاسی اختلافات نے بھی انتخابی مہم کو متاثر کیا،ان اختلافات کا ایک غیر معمولی اظہار اس وقت سامنے آیا جب ڈیموکریٹک پرائمری میں شکست کھانے والی ہیلی اسٹیونز نے انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا
مائیک راجرز کے لیے یہ انتخاب 2024 کی شکست کے بعد دوبارہ سینیٹ تک پہنچنے کی کوشش ہے،وہ اس وقت 20 ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے سینیٹ کا انتخاب ہار گئے تھے،اس مرتبہ انہیں انتخابی میدان میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس حمایت اور سیاسی سرگرمی سے بھی محرومی کا سامنا ہے جو گزشتہ انتخاب میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے ری پبلکن ووٹروں کو متحرک کرنے کا ذریعہ بنی تھی
اس طرح مشی گن کی سینیٹ نشست پر مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند سیاسی ایجنڈے، روایتی سیاسی قیادت اور ری پبلکن جماعت کی انتخابی حکمت عملی کے درمیان بھی ایک اہم آزمائش بن گیا ہے





