آئیووا میں ری پبلکن سینیٹ امیدوار ایشلے ہنسن ڈیموکریٹک حریف کے لیے سخت چیلنج بن گئیں، انتخابی مقابلہ کانٹے دار
واشنگٹن پوسٹ | 2 نومبر 2026
واشنگٹن:مڈٹرم انتخابات سے قبل ری پبلکن پارٹی کے لیے سینیٹ کی جن نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہی ہے، ان میں آئیووا کا مقابلہ ایک اہم مقابلہ بن کر سامنے آیا ہے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ری پبلکن امیدوار اور کانگریس کی رکن ایشلے ہنسن اپنے ڈیموکریٹک حریف جوش ٹورک کے مقابلے میں تقریباً برابر کی پوزیشن پر پہنچ گئی ہیں، جس سے وہ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے لیے سب سے زیادہ مضبوط اور مسابقتی امیدواروں میں شمار ہونے لگی ہیں
اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہنسن نے انتخابی مہم میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ بعض معاملات پر ان سے اختلاف کا راستہ بھی اختیار کیا،وہ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں میں شریک ہوئیں اور اپنی مہم کے اشتہارات میں ان کی حمایت کو نمایاں کیا، تاہم گائے کے گوشت اور روسی ڈیزل کی درآمد جیسے معاملات پر بعض مواقع پر ٹرمپ سے مختلف مؤقف بھی اپنایا
ہنسن نے اپنی انتخابی تشہیر پر بھی لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں اور اشتہارات میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں،آئیووا کے ری پبلکن سیاسی مشیر ایرک وولسن کے مطابق ہنسن نے ٹرمپ کی حمایت اور ان سے محدود اختلاف کے درمیان توازن قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے،ان کی ایک اضافی طاقت یہ بھی ہے کہ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک سیڈر ریپڈز میں ٹیلی ویژن نیوز اینکر رہ چکی ہیں، جس کی وجہ سے ریاست میں ان کی پہچان خاصی مضبوط ہے
ری پبلکن پولسٹر برینٹ بوکانن کا کہنا ہے کہ ہنسن کی کامیابی کے پیچھے منظم اور واضح انتخابی حکمت عملی ہے، جبکہ ان کے ڈیموکریٹک حریف کی مہم زیادہ تر مخالف حالات کے ردعمل میں چلتی رہی ہے،واشنگٹن پوسٹ کے تجزیے کے مطابق ہنسن کی انتخابی حکمت عملی اب نتائج دکھا رہی ہے، تاہم تازہ ترین پول کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار 46.6 کے ساتھ ہنسن کے 5.9 کے مقابلے میں ابھی آدھا پوائنٹ آگے ہیں جنہیں انتخابی سائنس میں بے معنی سمجھا جاتا ہے





