Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

امریکی مڈٹرم انتخابات: مہنگائی، سیاسی تقسیم، صحت اور امیگریشن، آئینی حقوق ووٹروں کی ترجیحات میں سرفہرست، مختلف ریاستوں کے شہریوں نے اپنے خدشات اور امیدیں

امریکی مڈٹرم انتخابات: مہنگائی، سیاسی تقسیم، صحت اور امیگریشن، آئینی حقوق ووٹروں کی ترجیحات میں سرفہرست، مختلف ریاستوں کے شہریوں نے اپنے خدشات اور امیدیں

واشنگٹن: امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں لاکھوں ووٹرز کانگریس، ریاستی اور مقامی عہدوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں، لیکن اس مرتبہ انتخابی میدان میں اترنے والے امیدواروں کے ساتھ ووٹروں کی معاشی مشکلات، سیاسی تقسیم، حکومتی احتساب اور ملک کے مستقبل سے وابستہ امیدیں بھی نمایاں ہیں،واشنگٹن پوسٹ نے مختلف ریاستوں کے ووٹروں سے گفتگو کے ذریعے ان کے خیالات اور ترجیحات کی عکاسی کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معاشرہ کئی اہم معاملات پر مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے
بہت سے ووٹروں کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافہ سب سے بڑا مسئلہ ہے،مشی گن کے 70 سالہ پیٹر جینٹلز کا کہنا ہے کہ ہر چیز کی قیمتیں بلاوجہ بڑھ گئی ہیں، جبکہ بدعنوانی اور بڑے مالی مفادات کا بوجھ عام شہری برداشت کر رہے ہیں،ان کے مطابق وہ ہمیشہ محنت کش طبقے کے نمائندوں کو ووٹ دیتے ہیں اور ڈیموکریٹ ہیں
واشنگٹن کے 68 سالہ ایگبرٹ گڈمین نے بھی بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کسی نہ کسی معاشی مشکل سے گزر رہا ہے اور ملک کو اپنی موجودہ سمت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،ان کے خیال میں گزشتہ 2 برس کی پالیسیوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے
صحت عامہ بھی ووٹروں کے اہم مطالبات میں شامل ہے،ڈیٹرائٹ کے 70 سالہ ریگی اوسبورن نے سب کے لیے میڈیکیئر اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا سکتے ہیں تو یہی وسائل عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے پر بھی خرچ ہونے چاہییں،ان کا مؤقف ہے کہ علاج اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے نے عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں
دوسری جانب انتخابی ترجیحات میں امیگریشن، امریکی آئین اور قومی اقدار کے تحفظ کے معاملات بھی نمایاں ہیں،مشی گن کے شہر بلوم فیلڈ ہلز کی 64 سالہ تھیوڈورا کالواس نے امیگریشن کے حوالے سے انضمام اور امریکی آئینی اقدار کی پاسداری کو اہم مسئلہ قرار دیا،انہوں نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت اور ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید سے اختلاف کا اظہار بھی کیا
مشی گن کے ڈیئربورن سے تعلق رکھنے والے علی بلیڈ المکلیانی نے کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم بات ایسے امیدوار کا انتخاب ہے جو امریکی آئین پر یقین رکھتا ہو اور ملک کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے،ان کے مطابق امیدوار کو نوجوانوں، مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہیے
سیاسی تقسیم کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بعض ووٹرز نے جماعتی وابستگی کو اپنی انتخابی ترجیح قرار دیا،48 سالہ انتونیو مارٹینیز نے کہا کہ وہ کسی صورت ری پبلکن امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے، جبکہ ورجینیا کے شہر آرلنگٹن کی 68 سالہ لیزا ٹل مین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے خواہش ظاہر کی کہ سینیٹ میں ری پبلکنز کو مکمل اکثریت حاصل ہو
تعلیم، مساوی حقوق اور ووٹ ڈالنے کے حق کا تحفظ بھی انتخابی بحث کا حصہ ہے،ٹیکساس کے شہر سان انتونیو کی 58 سالہ ماریا راموس نے تعلیمی نظام پر اثرات کو اپنی سب سے اہم انتخابی ترجیح بتایا،ورجینیا کے آرلنگٹن سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ جیسل لوپیز نے ڈیٹا سینٹرز کے معاملات میں حکومتی احتساب کو ضروری قرار دیا، جبکہ واشنگٹن کی 24 سالہ زاریا اسمتھ نے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کی حمایت کی
جارجیا میں ووٹروں کے ایک اجتماع میں شریک 67 سالہ بیٹسی بروگن نے ووٹ ڈالنے کے حقوق کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ مختلف ریاستوں میں یہ حقوق محدود کیے جا رہے ہیں،ورجینیا کی 39 سالہ ایشلی کاٹر نے ریاستی بیلٹ پر موجود 3 آئینی ترامیم کو خواتین کے حق انتخاب کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا
دریں اثنا جارجیا کے ڈگ کمنگز نے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو اقتدار میں توازن بحال کرنے کے لیے ضروری قرار دیا،ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی حمایت کرنے والی کانگریس کے دور میں جمہوری اور آئینی نظام متاثر ہوا ہے، اس لیے ڈیموکریٹس کی مختلف سطحوں پر کامیابی اہم ہے
واشنگٹن پوسٹ کے ان انٹرویوز سے امریکی ووٹروں کی ترجیحات کا ایک متنوع نقشہ سامنے آتا ہے،کسی کے لیے مہنگائی اور علاج کے اخراجات اہم ہیں، کسی کے لیے امیگریشن اور قومی اقدار، جبکہ دوسرے ووٹرز جمہوری اداروں، آئینی حقوق، تعلیم اور سیاسی طاقت میں توازن کو اپنا بنیادی انتخابی مسئلہ سمجھتے ہیں،ان مختلف آوازوں میں مشترک بات یہ ہے کہ ووٹرز اپنے اپنے تجربات اور توقعات کی بنیاد پر ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید