Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چین کی مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، ایران، سعودی عرب اور عمان کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

چین کی مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، ایران، سعودی عرب اور عمان کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی ختم کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پیر کو بیجنگ میں ایران اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کرکے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے چین کے کردار کو مزید بڑھانے کی پیشکش کی
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو 8 ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں اور اس کے اثرات خلیجی ممالک سمیت پورے مشرق وسطیٰ تک پھیل چکے ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور بحری تجارت میں رکاوٹوں نے عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی سے ملاقات میں کہا کہ چین ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقوں کو عقل مندی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی حل پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ دوبارہ مسلح تصادم کی طرف بڑھنا چاہیے
وانگ یی کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی علاقائی تنازعات ختم کرنے کا مناسب راستہ ہیں انہوں نے ایران کے ساتھ چین کے تعلقات کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ بیجنگ خطے میں امن کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے
اس کے بعد چینی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ اور امن کے درمیان انتہائی اہم موڑ پر کھڑا ہے تمام ممالک کو اختلافات ختم کرنے، مذاکرات کے ذریعے دشمنی کا خاتمہ کرنے اور توانائی کی فراہمی سمیت بحری تجارتی راستوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے
چین نے واضح کیا کہ خطے میں امن صرف اسی صورت قائم ہوسکتا ہے جب ممالک ایک دوسرے کے تحفظات سمجھیں، اعتماد بحال کریں اور باہمی تعاون کے ذریعے طویل المدتی سلامتی کا نظام تشکیل دیں سعودی حکام نے بھی خطے کی صورتحال پر چین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ملاقات کے دوران سعودی قومی سلامتی کے مشیر نے ولی عہد محمد بن سلمان کا ایک خط بھی چینی صدر شی جن پنگ کے حوالے کیا
ادھر چینی صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے بیجنگ میں ملاقات کی یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد کسی عمانی سلطان کا چین کا پہلا دورہ ہے شی جن پنگ نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے
چینی صدر نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطہ بڑی طاقتوں کی باہمی رقابت اور جغرافیائی سیاسی تنازعات کا میدان نہیں بننا چاہیے ان کے مطابق خطے کے ممالک کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور بیرونی طاقتوں کی کشمکش سے بچنے کی ضرورت ہے
عمان کے سلطان نے بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے چین کی تجاویز کی حمایت کی اور خطے میں مستقل استحکام کے حصول کے لیے بیجنگ کا کردار مزید بڑھانے کا خیرمقدم کیا۔ عمان طویل عرصے سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان رابطوں اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے
چینی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ رواں ماہ چین کا خصوصی مشرق وسطیٰ ایلچی ایران، عمان اور سعودی عرب کا دورہ کرے گا اس دورے کا مقصد مختلف ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بڑھانا، امن مذاکرات کو آگے بڑھانا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرنا ہے
چین کی ان کوششوں کی ایک اہم وجہ مشرق وسطیٰ میں توانائی اور تجارتی راستوں کا تحفظ بھی ہے چین ایران کا بڑا اقتصادی شراکت دار ہے اور خلیجی ممالک سے بھی بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی مصنوعات حاصل کرتا ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات چین سمیت دنیا کی بڑی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج ایران کی زیادہ تر فوجی صلاحیت کو تباہ کرچکی ہے، تاہم ایک یا 2 اہداف کے خلاف مزید کارروائی باقی ہے ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا
چین کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بیجنگ اب مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے اگر چین ایران، سعودی عرب اور عمان کے درمیان اعتماد کی بحالی اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور عالمی تجارتی راستوں کو دوبارہ محفوظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات اور فوجی کارروائیوں کے خدشات کے باعث امن کا راستہ اب بھی مشکل دکھائی دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید