Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کراچی میں ڈارک ویب گروپ کے جال میں پھنسی کم عمر لڑکی کو خود کو نقصان پہنچانے سے پہلے بچا لیا گیا

کراچی میں ڈارک ویب گروپ کے جال میں پھنسی کم عمر لڑکی کو خود کو نقصان پہنچانے سے پہلے بچا لیا گیا

پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کراچی میں ایک کم عمر لڑکی کو آن لائن گروہ کے خطرناک جال سے نکال لیا، جو مبینہ طور پر اسے خود کو نقصان پہنچانے پر آمادہ کر رہا تھا حکام کے مطابق لڑکی کا رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس گروہ سے ہوا تھا، جس کے بعد اسے پیغام رسانی کی ایک ایپلی کیشن پر مختلف خطرناک کام کرنے کی ہدایات دی جا رہی تھیں ایجنسی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لڑکی تک رسائی حاصل کی اور اسے خود کو نقصان پہنچانے کے اگلے مرحلے سے پہلے بچا لیا
ایجنسی کے کراچی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق کارروائی ایک غیر ملکی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے موصول ہونے والی اطلاع کے بعد کی گئی اس ادارے نے ایجنسی کو ایک ای میل اور متعلقہ انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کے بارے میں معلومات فراہم کیں، جن کی مدد سے تفتیش کاروں نے آن لائن سرگرمی کا سراغ لگایا اور لڑکی تک پہنچے
حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا کہ لڑکی سوشل میڈیا کے ذریعے اس گروہ کے رابطے میں آئی تھی بعد ازاں اسے پیغام رسانی کی ایک ایپلی کیشن پر مختلف کام سونپے جانے لگے ایجنسی کے افسر نے بتایا کہ ان کاموں میں لڑکی کے پالتو جانور کو نقصان پہنچانے کی ہدایت بھی شامل تھی، جبکہ اگلا کام خود کو نقصان پہنچانا تھا حکام نے بروقت مداخلت کرکے اسے اس اگلے مرحلے سے پہلے تلاش کرلیا
لڑکی کے والدین نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ گزشتہ 3 سے 4 ماہ کے دوران ان کی بیٹی کے رویے میں نمایاں تبدیلی آئی تھی وہ اکثر پریشان اور اداس رہتی تھی، تاہم والدین کے بار بار پوچھنے کے باوجود اپنی پریشانی کی وجہ نہیں بتاتی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی آن لائن سرگرمیاں اس کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہو رہی تھیں
ایجنسی نے لڑکی کے زیر استعمال موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا ہے حکام کے مطابق لڑکی کو اس صدمے سے نکلنے میں مدد دینے کے لیے نفسیاتی مشاورت بھی فراہم کی گئی ہے تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اسی گروہ نے پاکستان یا دوسرے ممالک میں مزید بچوں اور نوجوانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے تاحال اس معاملے میں مشتبہ افراد کی شناخت یا گرفتاریوں کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا
ڈارک ویب انٹرنیٹ کا ایسا حصہ ہے جس تک عام سرچ انجنوں کے ذریعے براہ راست رسائی ممکن نہیں ہوتی اور جہاں صارفین اپنی شناخت چھپانے کے لیے مخصوص ٹیکنالوجی استعمال کرسکتے ہیں اس کے تمام استعمال غیر قانونی نہیں، لیکن اس کی گمنامی بعض جرائم پیشہ گروہوں کو لوگوں کو دھوکا دینے، بلیک میل کرنے اور خطرناک سرگرمیوں میں پھنسانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے بچوں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا، آن لائن گیمز اور پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز کے ذریعے نشانہ بنایا جاسکتا ہے، خصوصاً جب مجرم ان کے اعتماد کو جیت کر بعد میں دھمکیوں یا بلیک میلنگ کا سہارا لیں
یہ واقعہ پاکستان میں آن لائن تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی نشاندہی کرتا ہے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے رویے میں اچانک تبدیلی، غیر معمولی پریشانی، آن لائن سرگرمیوں کو چھپانے یا کسی نامعلوم شخص کے دباؤ میں آنے جیسی علامات کو سنجیدگی سے لیں بچوں سے سختی یا الزام تراشی کے بجائے اعتماد کے ساتھ بات کرنا اہم ہے تاکہ وہ کسی خطرناک آن لائن رابطے کی صورت میں مدد مانگ سکیں
اسی ماہ ایجنسی کو ایک دوسرے کم عمر ملزم کے معاملے میں بھی غیر ملکی ادارے سے اطلاع ملی تھی اس نوجوان پر الزام ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے زہریلے مادوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اپنے والد کو زہر دینے کی کوشش کی اسے ستمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تاہم یہ ایک الگ معاملہ ہے اور حکام نے دونوں واقعات کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی
کراچی کی لڑکی کے معاملے میں تحقیقات کا اہم مقصد نہ صرف اس کے ساتھ رابطہ کرنے والوں کی شناخت کرنا ہے بلکہ یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ آیا اس نوعیت کے آن لائن گروہ مزید بچوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید