عالمی بینک کی پاکستان کو تنبیہ، مستقل معاشی ترقی کے لیے ٹیکس، بجلی اور برآمدات کے نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر
پاکستان کی معیشت کو مالی بحران سے نکال کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے صرف قرضوں، ترسیلات زر اور اخراجات میں کمی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ حکومت کو ٹیکسوں، توانائی، کاروباری ضابطوں اور صنعتی پیداوار کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی عالمی بینک کی تازہ پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ کے مطابق اگر پاکستان اپنی پالیسیوں اور اداروں کو اوسط درمیانی آمدنی والے ملک کے معیار کے مطابق بہتر بنا لے تو سالانہ معاشی ترقی کی شرح 6.2 سے 6.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے اس رفتار سے پاکستان 2050 تک اپنی فی کس آمدنی تین گنا کرنے اور ویتنام کی موجودہ آمدنی کی سطح تک پہنچنے کا ہدف حاصل کر سکتا ہے
پاکستان کی معیشت میں حالیہ عرصے کے دوران کچھ بہتری ضرور آئی ہے مالی سال 2026 میں مجموعی ملکی پیداوار کی حقیقی شرح نمو 3.65 فیصد رہی، جبکہ بنیادی بجٹ سرپلس مجموعی ملکی پیداوار کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا بنیادی بجٹ سرپلس سے مراد قرضوں پر سود کی ادائیگی سے پہلے حکومتی آمدنی اور اخراجات کا فرق ہے اس بہتری کے باوجود عام شہری کی آمدنی میں اضافے کی رفتار تقریباً 1.6 فیصد رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کے مالی اعداد و شمار بہتر ہونے کے باوجود اس کے فوائد عوام کی بڑی تعداد تک محدود انداز میں پہنچ رہے ہیں
پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دینے والی تنظیموں کی جانب سے معاشی استحکام کے حوالے سے پذیرائی ملی ہے، لیکن مالی استحکام اور تیز رفتار ترقی دو مختلف چیزیں ہیں۔ حکومت نے بلند شرح سود، مالی اخراجات میں سختی اور توانائی کی زیادہ قیمتوں کے ذریعے معیشت پر دباؤ کم کیا اس سے درآمدات اور ملکی طلب میں کمی آئی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو سنبھالنے میں مدد ملی، لیکن اس حکمت عملی نے کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو بھی متاثر کیا
بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم نے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر بنانے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح بیرونی قرضوں نے حکومت کو فوری مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے وقت فراہم کیا تاہم ترسیلات زر سے براہ راست ملکی صنعتی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوتا اور قرضوں سے حاصل ہونے والی رقم واپس بھی کرنا پڑتی ہے اگر پاکستان کی برآمدات، صنعتی صلاحیت اور پیداواری کارکردگی بہتر نہ ہو تو معیشت کا استحکام بیرونی رقوم اور قرضوں کے مسلسل حصول پر منحصر رہ سکتا ہے
پاکستان ماضی میں بھی کئی مرتبہ معاشی بحران سے نکلنے کے بعد ترقی کی رفتار بڑھانے کی کوشش کر چکا ہے، لیکن درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں محدود ترقی کے باعث بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔ جب ملک صنعتی مشینری، ایندھن اور خام مال درآمد کرتا ہے تو اسے زیادہ زرمبادلہ درکار ہوتا ہے اگر اسی دوران برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو تو زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھتا ہے اور حکومت کو دوبارہ اخراجات محدود کرنے، شرح سود بلند رکھنے یا درآمدات کم کرنے جیسے اقدامات کرنا پڑتے ہیں
اس مسئلے کا مستقل حل صرف معاشی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے بجائے اس بات میں ہے کہ پاکستان زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی صنعتیں قائم کرے، معیاری مصنوعات تیار کرے اور عالمی منڈیوں میں اپنی برآمدات بڑھائے اس کے لیے صنعتی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر مشینری، ہنرمند کارکنوں اور قابل اعتماد توانائی کی ضرورت ہے
پاکستان کی معیشت میں اصلاحات کی ایک بڑی رکاوٹ ٹیکسوں کا محدود دائرہ ہے حکومت کو بار بار ان افراد اور کاروباروں پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانا پڑتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جبکہ کئی شعبے اپنی آمدنی اور معاشی سرگرمیوں کے تناسب سے مناسب ٹیکس ادا نہیں کرتے اس صورت حال سے کاروباری اداروں کی لاگت بڑھتی ہے اور ٹیکس ادا کرنے والوں میں عدم مساوات کا احساس پیدا ہوتا ہے
ٹیکس نظام کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے اور ان شعبوں کو بھی مناسب طور پر ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے جو اب تک کم ٹیکس ادا کرتے ہیں اس کے ساتھ ٹیکس قوانین کو آسان اور قابل پیش گوئی بنانا بھی ضروری ہے تاکہ کاروباری ادارے طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے اعتماد کے ساتھ کر سکیں
توانائی کا شعبہ بھی صنعتی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے بجلی اور دیگر توانائی کے ذرائع کی بلند قیمتیں پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مہنگا بنا دیتی ہیں۔ حکومت کو صرف بجلی کے اخراجات ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں منتقل کرنے کے بجائے پورے نظام کی لاگت کم کرنے پر توجہ دینا ہوگی بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم میں موجود مسائل دور کرنا اور توانائی کے شعبے میں مالی نقصانات کم کرنا صنعتی مسابقت کے لیے ضروری ہے
کاروباری ماحول میں غیر ضروری ضابطے، سرکاری کارروائیوں میں تاخیر اور پالیسیوں کا بار بار تبدیل ہونا بھی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتا ہے جب کسی صنعت کار کو یہ یقین نہ ہو کہ آئندہ چند برسوں میں ٹیکس، توانائی کی قیمتیں یا درآمدی قواعد کیا ہوں گے تو وہ بڑے منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے گریز کر سکتا ہے اس لیے حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانا ہوں گی جو طویل عرصے تک برقرار رہیں اور جن پر عمل درآمد کے واضح اصول موجود ہوں
برآمدات میں اضافے کے لیے بھی محض عارضی مراعات کافی نہیں پاکستانی مصنوعات کو معیار، قیمت اور وقت پر ترسیل کے حوالے سے عالمی خریداروں کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے، کارکنوں کی مہارت بہتر بنانے اور نئی مصنوعات تیار کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح تجارتی معاہدوں اور بیرونی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے پاکستانی کاروباروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں
تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی میں مسلسل سرمایہ کاری کے بغیر تیز رفتار ترقی کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ ہنرمند کارکن زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکتے ہیں، بہتر صحت کی سہولتوں سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور جدید سڑکیں، بندرگاہیں اور مواصلاتی نظام کاروباری اخراجات کم کرتے ہیں ان شعبوں میں سرمایہ کاری کا فائدہ فوری طور پر سامنے نہ بھی آئے تو طویل مدت میں معیشت کی پیداواری صلاحیت بہتر ہو سکتی ہے
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ موجودہ مالی استحکام کو مستقل معاشی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جائے اگر حکومت ٹیکسوں، توانائی، کاروباری ضابطوں اور برآمدات کے شعبوں میں دیرپا اصلاحات کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں اس کے برعکس اگر معیشت کی بہتری صرف قرضوں، ترسیلات زر اور اخراجات میں کمی تک محدود رہی تو ترقی کی رفتار دوبارہ سست پڑنے اور مالی مشکلات لوٹ آنے کا خدشہ برقرار رہے گا
عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق 2050 تک آمدنی تین گنا کرنے کا ہدف ایک امکان اور اصلاحات کے لیے رہنما منزل ہے، اس کی ضمانت نہیں اسے حاصل کرنے کے لیے مسلسل حکومتی عزم، مستحکم پالیسیاں، مؤثر ادارے اور ایسی ترقی ضروری ہوگی جس کے ثمرات صرف مجموعی معاشی اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عام شہری کی آمدنی، روزگار اور معیار زندگی میں بھی نظر آئیں






