Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کلاڈ مونے کی پینٹنگ 56 ملین ڈالر میں فروخت، فرانس کی نیلامی میں آرٹ کا نیا عالمی ریکارڈ قائم

کلاڈ مونے کی پینٹنگ 56 ملین ڈالر میں فروخت، فرانس کی نیلامی میں آرٹ کا نیا عالمی ریکارڈ قائم

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں معروف فرانسیسی مصور کلاڈ مونے کی پینٹنگ ’’آئرس‘‘ 50 ملین یورو، یعنی تقریباً 56 ملین امریکی ڈالر میں فروخت ہوگئی، جس کے بعد یہ فرانس میں نیلامی کے ذریعے فروخت ہونے والا تاریخ کا سب سے مہنگا فن پارہ بن گیا یہ پینٹنگ 22 اکتوبر کو نیلامی کے دوران فروخت ہوئی، جہاں 6 خریداروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا اور بولی کا عمل تقریباً 45 منٹ تک جاری رہا
یہ فن پارہ 1924 سے 1925 کے دوران تیار کیا گیا تھا اور اس کا تعلق کلاڈ مونے کی زندگی کے آخری برسوں سے ہے۔ پینٹنگ کی لمبائی تقریباً 1.8 میٹر اور اونچائی 1.6 میٹر ہے اس میں آئرس کے پھولوں کو نمایاں کیا گیا ہے، جو مصور کے پسندیدہ پھولوں میں شمار ہوتے تھے مونے نے اپنی زندگی کے آخری دور میں روشنی، رنگوں اور قدرتی مناظر کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا، جس نے جدید مصوری پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے
اس پینٹنگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کئی دہائیوں تک عوام کی نظروں سے اوجھل رہی یہ پیرس میں ارب پتی شلومبرگر خاندان کی نجی رہائش گاہ میں محفوظ تھی اور اس کے بارے میں عام لوگوں کو بہت کم معلومات تھیں نیلامی سے پہلے یہ فن پارہ زیادہ تر صرف ایک سیاہ اور سفید تصویر کے ذریعے ہی جانا جاتا تھا اسے جین شلومبرگر نے اپنے ذاتی فن پاروں کے مجموعے کے لیے حاصل کیا تھا
نیلامی میں اس پینٹنگ کی ابتدائی قیمت کا اندازہ 22 سے 30 ملین یورو لگایا گیا تھا، لیکن خریداروں کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث اس کی قیمت اندازوں سے کہیں زیادہ بڑھ گئی بالآخر ایک ایشیائی نجی خریدار نے ٹیلی فون کے ذریعے بولی لگاتے ہوئے اسے 50 ملین یورو میں حاصل کرلیا اس رقم میں خریدار کی جانب سے ادا کی جانے والی اضافی فیس بھی شامل ہے
اس فروخت نے فرانس میں فن پاروں کی نیلامی کا سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیا اس سے پہلے یہ اعزاز اطالوی مصور آمیدیو موڈیلیانی کے مجسمہ نما فن پارے ’’ہیڈ آف اے کیریاٹڈ‘‘ کو حاصل تھا، جو 2010 میں 43.2 ملین یورو میں فروخت ہوا تھا
کلاڈ مونے کو مصوری کے اس انداز کا بانی سمجھا جاتا ہے جسے امپریشنزم کہا جاتا ہے اس طرز میں مصور کسی منظر کی ہر باریک تفصیل بنانے کے بجائے روشنی، رنگوں اور ماحول کے مجموعی تاثر کو نمایاں کرتا ہے مونے کے پھولوں، باغات، پانی اور قدرتی مناظر پر بنائے گئے فن پارے دنیا بھر کے عجائب گھروں اور نجی مجموعوں میں موجود ہیں ان کی تخلیقات آج بھی عالمی آرٹ مارکیٹ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں
اس نیلامی میں صرف ’’آئرس‘‘ ہی توجہ کا مرکز نہیں تھی بلکہ شلومبرگر خاندان کے فن پاروں کے مجموعے نے بھی ریکارڈ کامیابی حاصل کی اس مجموعے کے تمام فروخت کے لیے پیش کیے گئے فن پارے خریداروں کو مل گئے اور مجموعی طور پر 74.4 ملین یورو حاصل ہوئے کئی فن پارے اپنی متوقع قیمت سے بھی زیادہ میں فروخت ہوئے
ماہرین کے نزدیک اس فروخت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے مصوروں کی نایاب اور تاریخی اہمیت رکھنے والی تخلیقات میں دولت مند خریداروں کی دلچسپی برقرار ہے کسی فن پارے کی قیمت کا تعین صرف اس کے حجم یا ظاہری خوبصورتی سے نہیں ہوتا بلکہ مصور کی شہرت، تخلیق کی تاریخ، اس کی نایابی، سابقہ ملکیت اور آرٹ کی دنیا میں اس کی اہمیت بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے
کلاڈ مونے کی ’’آئرس‘‘ کی ریکارڈ قیمت نے نہ صرف فرانس کی آرٹ مارکیٹ میں نئی تاریخ رقم کی ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایک صدی سے زیادہ پرانی مصوری آج بھی عالمی سطح پر کروڑوں یورو کی سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید