امریکی انتخابات میں اسرائیل کی حمایت مہنگی پڑنے لگی، اے آئی پیک نے امیدواروں کی براہ راست حمایت سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کر دیا
امریکا میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی بااثر لابی تنظیم امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی، جسے اے آئی پیک کہا جاتا ہے، نے امریکی انتخابات میں امیدواروں کی براہ راست حمایت اور انہیں انتخابی مہم کے لیے براہ راست مالی امداد دینے کی پالیسی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، ایران کے ساتھ جنگ اور اسرائیل کو امریکی مالی و فوجی امداد دینے کے معاملے پر امریکا میں بحث تیز ہو رہی ہے
اے آئی پیک نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ اب امریکی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی کھلے عام توثیق نہیں کرے گی اور نہ ہی انہیں براہ راست انتخابی عطیات دے گی تنظیم نے 2021 میں امیدواروں کی انتخابی مہم میں براہ راست مالی کردار ادا کرنا شروع کیا تھا، جبکہ اسرائیل کے حق میں امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کے لیے اس کی لابنگ کئی دہائیوں سے جاری ہے
تاہم اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی پیک امریکی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ ختم کر رہی ہے تنظیم انفرادی عطیہ دہندگان کو متحرک کرنے اور اپنے حامیوں کے ذریعے امیدواروں کی انتخابی مہموں پر اثرانداز ہونے کی کوشش جاری رکھ سکتی ہے اس اعلان کو امریکی سیاست میں اسرائیل نواز لابی کے لیے بدلتے ہوئے ماحول اور اس سے کھلے عام وابستگی کے بڑھتے ہوئے سیاسی نقصان کی علامت قرار دیا جا رہا ہے
غزہ میں جنگ اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں نے امریکی عوام کے ایک حصے میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں کس حد تک ملوث ہونا چاہیے اور امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم بیرون ملک فوجی امداد پر خرچ کرنے کے بجائے ملک کے اندر صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں پر کیوں نہ لگائی جائے امریکا ہر سال اسرائیل کو تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جس پر بعض امریکی سیاست دانوں نے نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے
اس بدلتے ہوئے سیاسی ماحول کی ایک نمایاں مثال ریاست مشی گن میں امریکی سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مقابلہ ہے، جہاں ڈاکٹر عبدال السید نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ابتدائی انتخاب میں اے آئی پیک کی حمایت یافتہ امیدوار ہیلی اسٹیونز کو شکست دی۔ انتخابی مہم کے دوران اے آئی پیک نے اسٹیونز کی حمایت میں تقریباً 30 ملین ڈالر خرچ کیے، جبکہ عبدال السید کی انتخابی مہم پر تقریباً 3.2 ملین ڈالر خرچ ہوئے، جن میں زیادہ تر رقم انفرادی عطیہ دہندگان سے حاصل کی گئی تھی
اس کے باوجود عبدال السید کی کامیابی نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا انتخابی مہم میں بھاری مالی وسائل کسی امیدوار کی کامیابی کی ضمانت دے سکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب ووٹرز کے لیے مہنگائی، صحت کی سہولتیں اور بیرونی جنگوں پر سرکاری اخراجات اہم مسائل بن چکے ہوں
عبدال السید نے اپنی انتخابی مہم میں اے آئی پیک کے کردار اور اسرائیل کو امریکی امداد فراہم کرنے کے معاملے پر کھل کر سوالات اٹھائے ان کا مؤقف تھا کہ جب امریکی شہری صحت کی سہولتوں اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں تو حکومت کو یہ وضاحت دینی چاہیے کہ عوامی رقم بیرون ملک جنگوں اور فوجی امداد پر کیوں خرچ کی جا رہی ہے
ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی اہم موضوع رہی وہ حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والے ایسے صحت کے نظام کے حامی ہیں جس کے تحت زیادہ سے زیادہ امریکی شہری علاج معالجے کی سہولتیں حاصل کر سکیں صحت عامہ کے شعبے میں ان کا پس منظر بھی ان کی مہم کا ایک نمایاں پہلو رہا ہے
اے آئی پیک سے وابستہ ایک سیاسی ایکشن کمیٹی نے اب سینیٹ کے انتخابی مقابلے میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف عبدال السید کی حمایت میں اخراجات کرنے کے بجائے ان کے خلاف مہم پر رقم خرچ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے یہ صورت حال تنظیم کی روایتی سیاسی حکمت عملی سے مختلف ہے، کیونکہ ماضی میں وہ مشی گن سمیت کئی ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت بھی کرتی رہی ہے
اس تبدیلی کے وسیع سیاسی اثرات بھی ہو سکتے ہیں اگر اسرائیل کو فوجی امداد دینے اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں میں امریکی کردار پر سوال اٹھانے والے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو کانگریس کے ارکان کے لیے اسرائیل کی مالی و فوجی امداد کے حق میں ووٹ دینا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے تاہم اس کا انحصار آئندہ انتخابات کے نتائج، امیدواروں کے مؤقف اور کانگریس میں سیاسی توازن پر ہوگا
امریکا میں اسرائیل نواز لابی کے کردار پر تنقید نئی نہیں، لیکن غزہ میں جنگ کے بعد اس معاملے کو زیادہ توجہ حاصل ہوئی ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ بیرونی ملکوں کو دی جانے والی امداد پر امریکی عوام اور منتخب نمائندوں کو کھل کر بحث کرنی چاہیے دوسری طرف اسرائیل کی حمایت کرنے والے حلقے اسے امریکی خارجہ پالیسی اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں
امریکی سیاست میں اس بحث کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ انتخابی مہموں میں بڑی رقوم خرچ کرنے والی تنظیمیں ووٹروں کی ترجیحات اور منتخب نمائندوں کے فیصلوں پر کس حد تک اثرانداز ہوتی ہیں اے آئی پیک کا حالیہ اعلان اس بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے، اگرچہ تنظیم کے پاس اپنے حامیوں اور عطیہ دہندگان کے ذریعے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے راستے اب بھی موجود ہیں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا میں آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی صف بندیاں شروع ہو چکی ہیں غزہ اور ایران کی جنگوں، مہنگائی، صحت کے اخراجات اور بیرونی امداد کے معاملات پر جاری بحث یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ امریکی ووٹرز آئندہ کن امیدواروں کو ترجیح دیتے ہیں اور واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی میں کس نوعیت کی تبدیلیاں آتی ہیں






