اردن میں چرچ پر مسلح حملہ، 7 افراد ہلاک اور 34 زخمی، بادشاہ کا سخت جوابی کارروائی کا اعلان
اردن کے جنوبی علاقے کرک میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 7 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے فائرنگ اس وقت کی گئی جب چرچ میں ایک جنازے کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی، جبکہ اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے
حکام کے مطابق یہ واقعہ جمعہ 23 اکتوبر کو کرک گورنری کے گاؤں حمود میں پیش آیا۔ مسلح افراد ایک گاڑی سے اترے اور جنازے میں شریک افراد پر فائرنگ شروع کردی فائرنگ کے باعث چرچ اور اس کے آس پاس موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق حملہ آوروں نے تقریباً 5 منٹ تک مسلسل فائرنگ کی اور اس کے بعد فرار ہوگئے واقعے کے وقت چرچ کے اندر اور باہر تقریباً 150 سے 200 افراد موجود تھے
اردن کے محکمہ پبلک سکیورٹی کے سربراہ میجر جنرل عبداللہ المعیطہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 6 بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں یہ تعداد بڑھ کر 7 ہوگئی زخمی ہونے والے 34 افراد میں سے 27 کو اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی تھی سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں مسلح افراد کو فائرنگ کرتے دیکھا گیا اطلاعات کے مطابق 2 حملہ آور پستولوں سے مسلح تھے جبکہ ایک تیسرے شخص کے پاس لمبی بندوق تھی
اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کرک میں دہشت گردی کے اس واقعے کا سخت ترین جواب دیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ملک کو دھمکانے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے کارروائی کی جائے گی بادشاہ جمعہ کی شام کرک بھی پہنچے حکام نے حملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور ذمہ دار افراد کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے محرکات کے بارے میں بھی حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں
اردن مسلم اکثریتی ملک ہے جہاں مسیحی آبادی اقلیت میں ہے ملک کی مجموعی آبادی تقریباً 1 کروڑ 15 لاکھ بتائی جاتی ہے، جبکہ مسیحیوں کی تعداد تقریباً 3 لاکھ کے قریب ہے۔ کرک کا علاقہ تاریخی طور پر مسیحی اور مسلمان آبادیوں کے باہمی رہن سہن کے لیے جانا جاتا ہے اردن میں اس نوعیت کے چرچ پر مسلح حملے غیر معمولی ہیں، اسی لیے اس واقعے نے ملک میں مذہبی مقامات اور شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے
کرک میں اس سے پہلے بھی تشدد کا بڑا واقعہ پیش آچکا ہے۔ 2016 میں شدت پسندوں کے حملے کے دوران 10 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سکیورٹی اہلکار اور ایک کینیڈین سیاح بھی شامل تھے تازہ حملے کے بعد اردن میں حکام کے سامنے فوری چیلنج حملہ آوروں کو گرفتار کرنے، حملے کے محرکات معلوم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا ہے کہ اس واقعے سے مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان ہم آہنگی متاثر نہ ہو






