Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 70,000 پولیس اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کر دیا

فرانس میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 70,000 پولیس اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کر دیا

فرانس میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور تعلیمی اداروں کی خراب صورت حال کے خلاف ملک گیر احتجاج کے نئے سلسلے کے پیش نظر حکومت نے ہفتے کے روز ملک بھر میں 70,000 پولیس اہلکار اور سکیورٹی فورسز کے ارکان تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے یہ اقدام ایک ہفتہ قبل ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد کیا جا رہا ہے، جن کے دوران کئی شہروں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ لگانے کے واقعات پیش آئے تھے
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پیرس میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکومت کو سوشل میڈیا پر تشدد اور لوٹ مار کی اپیلوں کے حوالے سے اطلاعات ملی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ اس بار سکیورٹی انتظامات گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں زیادہ سخت کیے جا رہے ہیں تاکہ مظاہرین اور عام شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے
احتجاج کا آغاز ہائی اسکولوں کے طلبہ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں سہولتوں کی خراب صورت حال اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات سے ہوا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تحریک ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہوگئی اب اس میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافے اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال پر پائی جانے والی ناراضی بھی شامل ہوگئی ہے
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ہائی اسکولوں کے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کی، تاہم ملاقات کے بعد طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات کے حوالے سے ٹھوس تجاویز پیش نہیں کرتی، احتجاج جاری رہنا چاہیے طلبہ تعلیمی اداروں کی سہولتوں بہتر بنانے اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام میں تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں
حکومت نے ایک طرف مظاہرین کے جائز مطالبات اور دوسری طرف تشدد، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں فرق کرنے کی کوشش کی ہے فرانسیسی وزیر انصاف جیرالڈ درمانین کے مطابق گزشتہ ہفتے کے واقعات کے سلسلے میں عدالتیں 217 افراد کو قید کی سزا سنا چکی ہیں، جن میں تقریباً نصف ایسے افراد ہیں جنہیں پہلی مرتبہ جرم کرنے پر سزا ہوئی
صدر میکرون نے بھی تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے گزشتہ ہفتے کے واقعات میں انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں کے کردار پر تنقید کی، تاہم احتجاج میں شریک تمام افراد کو تشدد میں ملوث قرار نہیں دیا گیا
اس ہفتے کے احتجاج کے باعث مختلف شہروں میں اجتماعات اور جلوسوں پر پابندیاں یا محدود راستوں کی شرائط عائد کی گئی ہیں پیرس میں مزدور تنظیموں کے ایک مجوزہ جلوس کے راستے کی اجازت واپس لے لی گئی اور مظاہرین کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی۔ تاہم مزدور تنظیموں نے متبادل راستے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پہلے طے شدہ راستے پر مارچ کرنے پر اصرار کیا ہے
جنوبی فرانس کے شہر مارسی میں بھی احتجاج پر پابندی کے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک مزدور تنظیم کو خصوصی اجازت دی گئی ہے دوسری جانب لیون شہر کے مرکزی علاقوں میں مظاہرین کے داخلے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں
پیرس کے جنوب میں واقع شہر اورلیاں میں بھی کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کا اجتماع منعقد ہونا ہے اس جماعت کی سربراہ میرین لے پین کے حامیوں کے علاوہ ان کے مخالفین بھی شہر میں جمع ہونے کی تیاری کر رہے ہیں مقامی حکام کو خدشہ ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان تصادم ہوسکتا ہے، اسی لیے شہر کے مرکز میں مخالف مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی
احتجاج کے باعث دارالحکومت میں ثقافتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں لوور سمیت بعض بڑے عجائب گھروں کو ہفتے کے روز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ آرٹ بیسل کے فنون لطیفہ کے میلے کو بھی مختصر کر دیا گیا
حکومت کی جانب سے مظاہروں پر پابندیوں اور سکیورٹی اقدامات میں اضافے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ احتجاج پر سخت پابندیاں شہریوں کے پُرامن مظاہرے کے حق کو متاثر کر سکتی ہیں
ہیومن رائٹس واچ کی یورپ سے متعلق سینئر محقق ایوا کوس نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو تشدد سے محفوظ رکھنے کے ساتھ پُرامن احتجاج کے انعقاد کو بھی یقینی بنائے انہوں نے حالیہ مظاہروں کے دوران ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں سے بچوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی
فرانس میں جاری احتجاج ایسے وقت ہو رہا ہے جب ملک میں آئندہ صدارتی انتخابات میں تقریباً 6 ماہ باقی ہیں صدر میکرون کی جگہ لینے کے لیے سیاسی جماعتیں اپنی تیاریاں کر رہی ہیں اور حالیہ بدامنی نے حکومت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ملک کے بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور معاشی صورت حال پر بھی سرمایہ کاروں کو تشویش ہے
حالیہ واقعات کے بعد کیے گئے ایک سروے میں میرین لے پین کو صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں 33 سے 35 فیصد حمایت کے ساتھ آگے دکھایا گیا ہے سروے کے مطابق بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں کے بھی دوسرے مرحلے تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم یہ اعداد و شمار سروے کے نتائج ہیں، حتمی انتخابی نتائج نہیں
فرانس میں موجودہ صورت حال حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے اسے ایک طرف مہنگائی اور تعلیمی سہولتوں سے متعلق عوامی شکایات کا جواب دینا ہے اور دوسری طرف تشدد اور لوٹ مار کی روک تھام بھی یقینی بنانی ہے آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ اضافی سکیورٹی انتظامات احتجاج کو پُرامن رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور حکومت عوامی مطالبات کے حل کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے

قومی خبریں سے مزید