Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران 517 افغان باشندے گرفتار، 3 سال میں 27 لاکھ سے زائد افراد افغانستان واپس بھیجے گئے

پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران 517 افغان باشندے گرفتار، 3 سال میں 27 لاکھ سے زائد افراد افغانستان واپس بھیجے گئے

پاکستان میں دستاویزات کے بغیر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 517 افغان باشندوں کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 11 اکتوبر سے 17 اکتوبر 2026 کے دوران ہونے والی ان گرفتاریوں میں زیادہ تر ایسے افغان باشندے شامل تھے جن کے پاس پاکستان میں قیام کی قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں یا وہ افغان سٹیزن کارڈ رکھتے تھے
رپورٹ کے مطابق اس ہفتے ہونے والی مجموعی گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے کے واقعات میں سے تقریباً 56 فیصد بلوچستان، 34 فیصد پنجاب اور 10 فیصد خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوئے گرفتار یا حراست میں لیے گئے افراد میں 97 فیصد افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے اور دستاویزات کے بغیر مقیم افغان باشندے تھے، جبکہ تقریباً 3 فیصد افراد کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت موجود تھا
پاکستان میں افغان باشندوں کی واپسی اور ملک بدری کے عمل کے اعداد و شمار جمع کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 17 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 27 لاکھ 44 ہزار 68 افغان باشندوں کو پاکستان سے واپس افغانستان بھیجا جا چکا ہے اس عرصے میں کچھ افراد اپنی مرضی سے واپس گئے، جبکہ دیگر کو پاکستانی حکام نے ملک بدر کیا
11 اکتوبر سے 17 اکتوبر کے دوران 3,883 افغان باشندے طورخم، چمن اور بہرامچہ کی سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان واپس گئے۔ ان میں 499 افراد کو ملک بدر کیا گیا اس سے پچھلے ہفتے، یعنی 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر کے دوران 4,295 افغان باشندے واپس گئے تھے، جن میں 961 افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے میں افغانستان واپس جانے والوں کی مجموعی تعداد میں 10 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ملک بدری کے واقعات میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر جائزہ ہفتے کے دوران جبری واپسی کی رفتار زیادہ نمایاں طور پر کم ہوئی، اگرچہ پاکستان سے افغانستان واپس جانے والوں کا سلسلہ جاری رہا
واپس جانے والے افغان باشندوں میں 83 فیصد ایسے افراد تھے جن کے پاس قیام کی دستاویزات موجود نہیں تھیں، 9 فیصد افغان سٹیزن کارڈ رکھتے تھے اور 8 فیصد کے پاس رجسٹریشن کا ثبوت تھا رجسٹریشن کا ثبوت رکھنے والے بیشتر افراد کی واپسی اقوام متحدہ کے ادارے کے زیر انتظام رضاکارانہ وطن واپسی کے مراکز کے ذریعے عمل میں آئی
رپورٹ کے مطابق جن افغان باشندوں کو 11 اکتوبر سے 17 اکتوبر کے دوران ملک بدر کیا گیا، ان میں تقریباً 99 فیصد ایسے افراد تھے جن کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں باقی افراد میں رجسٹریشن کا ثبوت یا افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے شامل تھے
یکم اپریل 2025 سے 17 اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 18 لاکھ 90 ہزار 35 افغان باشندے پاکستان سے واپس گئے ان میں سے 2 لاکھ 37 ہزار 387 افراد کو ملک بدر کیا گیا، جو اس عرصے میں واپس جانے والے تمام افراد کا تقریباً 13 فیصد بنتے ہیں
رپورٹ میں ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ افغان باشندوں کی وطن واپسی کی بڑی وجہ گرفتاری کا خوف ہے دستاویزات کے بغیر مقیم افغان باشندوں اور افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں میں 95 فیصد نے گرفتاری کے خوف کو واپسی کی بنیادی وجہ بتایا، جبکہ رجسٹریشن کا ثبوت رکھنے والوں میں یہ شرح 68 فیصد رہی
افغان باشندوں کی واپسی کا معاملہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں اہم حیثیت رکھتا ہے پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا رہا ہے، لیکن اب حکومت غیر قانونی قیام، سرحدی سلامتی اور ملک میں رہائش کی قانونی حیثیت کے معاملات پر سختی کر رہی ہے دوسری جانب بڑے پیمانے پر واپسی سے افغان خاندانوں کی رہائش، روزگار، بچوں کی تعلیم اور بنیادی سہولتوں تک رسائی جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں
افغان باشندوں کی واپسی کے عمل میں افغان سٹیزن کارڈ اور رجسٹریشن کے ثبوت کی حیثیت مختلف ہے افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد اور رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی قانونی حیثیت ایک جیسی نہیں، جبکہ دستاویزات کے بغیر مقیم افراد کے معاملات الگ ہیں اس لیے گرفتاریوں اور ملک بدری کے اعداد و شمار کو سمجھتے وقت ان زمروں میں فرق کرنا ضروری ہے
تازہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سے افغان باشندوں کی واپسی کا عمل اب بھی جاری ہے، اگرچہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ملک بدری کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم رہی گرفتاری کے خوف کو واپسی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس عمل کے انسانی اور سماجی اثرات بھی اہم ہیں، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جو کئی برس سے پاکستان میں مقیم ہیں

قومی خبریں سے مزید