مقتول کی اے آئی ویڈیو نے قاتل کی سزا متاثر کی، اپیل عدالت نے سزا منسوخ کردی
امریکی ریاست ایریزونا کی اپیل عدالت نے سڑک پر جھگڑے کے دوران ایک شخص کو قتل کرنے والے مجرم کی ساڑھے 10 سال قید کی سزا منسوخ کرتے ہوئے دوبارہ سزا سنانے کا حکم دے دیا ہے،عدالت کے مطابق مقتول کی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو نے سزا سنانے والے جج کے فیصلے کو متاثر کیا اور اس کے باعث عدالتی کارروائی بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہوگئی
واقعہ نومبر 2021 میں پیش آیا تھا جب 37 سالہ کرسٹوفر پیلکی کو سڑک پر جھگڑے کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا،54 سالہ گیبریئل پال ہورکاسیتاس کو بعد میں غیر ارادی قتل اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا
گزشتہ سال سزا سنائے جانے کے موقع پر مقتول کے اہل خانہ نے اس کی شکل و صورت اور آواز سے مشابہت رکھنے والی اے آئی ویڈیو تیار کرکے عدالت میں پیش کی،ویڈیو میں مقتول کی مصنوعی شکل نے قاتل کو معاف کرنے کا پیغام دیا
ماریکوپا کاؤنٹی کی اعلیٰ عدالت کے جج ٹوڈ لینگ نے ہورکاسیتاس کو زیادہ سے زیادہ ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی تھی،جج نے اے آئی ویڈیو کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں یہ بہت پسند آئی اور انہیں محسوس ہوا کہ اس میں مقتول کی معافی حقیقی تھی
ایریزونا اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جج کی جانب سے اس اے آئی ویڈیو کو سزا مقرر کرتے وقت مدنظر رکھنا ہورکاسیتاس کے لیے اتنا نقصان دہ تھا کہ پوری سزا سنانے کی کارروائی بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہوگئی
اپیل عدالت نے قتل کی سزا منسوخ کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ نچلی عدالت کو بھیج دیا ہے تاکہ ملزم کو دوبارہ سزا سنائی جائے
یہ فیصلہ امریکی عدالتوں میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز اور دیگر مصنوعی مواد کے استعمال سے متعلق ایک اہم قانونی سوال بھی سامنے لاتا ہے کہ کیا کسی مقتول یا متاثرہ شخص کی مصنوعی تصویر یا آواز سزا سنانے کے مرحلے میں جج کے فیصلے پر اثرانداز ہو سکتی ہے





