Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت: ووٹ تنازعہ، مودی حکومت لبِ دم،الیکشن کمیشن کے خلاف سڑکوں پر اپوزیشن، طلبہ، سول سوسائٹی اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘

بھارت: ووٹ تنازعہ، مودی حکومت لبِ دم،الیکشن کمیشن کے خلاف سڑکوں پر اپوزیشن، طلبہ، سول سوسائٹی اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘

دہلی:بھارت میں ووٹر فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی اب محض الیکشن کمیشن اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ ایک وسیع عوامی اور آئینی تنازعہ کی شکل اختیار کر گئی ہے،13 کروڑ سے زیادہ نام انتخابی فہرستوں کے ڈرافٹ سے خارج کیے جانے، ووٹ کے حق سے محرومی کے خدشات، الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات اور سڑکوں پر بڑھتے ہوئے احتجاج نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے
نئی دہلی میں منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی متنازعہ خصوصی جامع نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کو واپس لینے کا مطالبہ کیا،پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کے لیے تقریباً 140 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی شرکت متوقع تھی جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی،پولیس نے علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور احتجاجی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کیں
لیکن اس احتجاج کی خاص بات یہ ہے کہ سڑکوں پر صرف روایتی اپوزیشن جماعتیں نہیں،طلبہ تنظیمیں، شہری کارکن، سول سوسائٹی، سماجی شخصیات اور نوجوانوں کی نئی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھی مہم میں شامل ہو چکی ہے،اکتوبر کے آغاز میں ممبئی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ دہلی اور لکھنؤ سمیت کئی شہروں میں طلبہ، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی احتجاج یا گرفتاریوں کا سامنا کر چکے ہیں
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ دراصل روایتی سیاسی جماعتوں سے مختلف ایک نوجوانوں کی سیاسی تحریک کے طور پر ابھری ہے،اس کے رہنما ابھیجیت ڈپکے ہیں،یہ تحریک پہلے امتحانی پرچوں کے افشا اور نوجوانوں کے مسائل پر احتجاج کے ذریعے نمایاں ہوئی اور اس کے احتجاج کے نتیجے میں بھارت کے وزیر تعلیم کو جولائی میں عہدہ چھوڑنا پڑا،اب اسی نوجوان تحریک نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کو اپنا مرکزی مطالبہ بنا لیا ہے
اس تحریک کی موجودہ مہم کا مرکز ایک بنیادی سوال ہے؟اگر کسی شہری کا نام ووٹر فہرست سے ہی غائب کر دیا جائے تو وہ اپنے ووٹ کا حق کیسے استعمال کرے گا؟
تنازعہ کی جڑ گزشتہ سال بہار سے شروع ہونے والی خصوصی جامع نظرثانی ہے، جسے اب بھارت کی بیشتر ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں تک پھیلا دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کو صاف اور درست کرنے کے لیے مردہ افراد، ایک سے زیادہ جگہ درج ووٹرز، دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والے افراد اور ایسے افراد کے نام نکالنا ضروری ہے جن کا سراغ نہیں مل رہا،کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی ووٹر کا نام حذف کرنے کی صورت میں وجہ درج کی جاتی ہے اور متاثرہ شہری دوبارہ نام شامل کرانے اور اپیل کرنے کا حق رکھتے ہیں
لیکن مسئلہ اس وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا جب ملک گیر نظرثانی کے ابتدائی ڈرافٹ میں 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں،رائٹرز کے مطابق تقریباً 130 ملین افراد ابتدائی فہرستوں سے باہر رہ گئے اور انہیں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے،بھارتی حکومت اور الیکشن کمیشن کے مطابق یہ مستقل طور پر 13 کروڑ افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا مرحلہ ہے،تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دوبارہ اپنی شہریت یا ووٹ کی اہلیت ثابت کرنے پر مجبور کرنا خود ایک بڑا انتظامی اور جمہوری خطرہ ہے
تنازعہ کو مزید سنگین بنانے والی بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اندر بھی اس عمل پر اختلافات سامنے آئے ہیں،انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض اقدامات، ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار، نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے عمل پر باضابطہ اعتراضات ریکارڈ کرائے،رپورٹ کے مطابق قومی سطح پر ایس آئی آر کے تحت 30 ریاستوں اور وفاقی علاقوں کے ڈرافٹ ووٹر رولز سے 13 کروڑ سے زیادہ نام متاثر ہوئے ہیں
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں معاملہ محض اپوزیشن کے سیاسی الزام سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی بحث بن گیا ہے
سول سوسائٹی کے مختلف گروپ بھی سامنے آ گئے ہیں،کرناٹک میں اداکار پرکاش راج کی قیادت میں ایک شہری اتحاد نے الیکشن فہرستوں کی نظرثانی کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں پر رپورٹ تیار کرکے ریاستی حکومت کو پیش کی اور مطالبہ کیا کہ جب تک تمام اہل ووٹرز کو دوبارہ فہرست میں شامل نہیں کیا جاتا، نظرثانی شدہ فہرست کو انتخابات کے لیے استعمال نہ کیا جائے؟اس اتحاد نے ایس آئی آر کے عمل میں متعدد مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی کی ہے
طلبہ اور نوجوانوں کی شرکت نے اس بحران کو مزید مختلف شکل دے دی ہے،دہلی میں احتجاج کے دوران طلبہ گروپوں کے کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لیا جبکہ یوگندر یادو، عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں اور دیگر سماجی کارکنوں سمیت متعدد افراد کو بھی احتجاج کے دوران گرفتار یا حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں
مقامی سطح پر بھی کئی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جنہیں اپوزیشن اور سول سوسائٹی ووٹر فہرستوں میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں،بعض حلقوں میں ہزاروں نام حذف ہونے اور اس کے نتیجے میں انتخابی مقابلوں پر اثر پڑنے کے دعوے کیے گئے ہیں،
یہی وجہ ہے کہ 13 کروڑ کا عدد اس وقت اس پورے تنازعہ کا مرکزی سیاسی عدد بن چکا ہے، لیکن اس عدد کا مطلب سمجھنا ضروری ہے،یہ 13 کروڑ ایسے نام ہیں جو مختلف ریاستوں اور وفاقی علاقوں میں ایس آئی آر کے ابتدائی ڈرافٹ سے خارج یا متاثر ہوئے،
اس کے باوجود اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف دوبارہ نام شامل کرانے کا نہیں،ان کا مؤقف ہے کہ اگر عام شہری کو پہلے اپنے ووٹ کے حق کے لیے دستاویزات، درخواستیں، تصدیق اور اپیل کے کئی مراحل سے گزرنا پڑے تو غریب، دیہی، نقل مکانی کرنے والے اور کم دستاویزات رکھنے والے شہری سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
اپوزیشن جماعتیں خاص طور پر اس بات پر سوال اٹھا رہی ہیں کہ یہ عمل ایسے وقت میں کیوں کیا جا رہا ہے جب بھارت کئی اہم ریاستوں کے انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے،رائٹرز کے مطابق اگلے سال کم از کم سات ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں، جن میں اتر پردیش بھی شامل ہے، جہاں ملک کی قومی سیاست پر نتائج کا بڑا اثر پڑ سکتا ہے،اتر پردیش میں نظرثانی کے دوران مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 13 فیصد نام متاثر ہوئے
تنازعہ اب بھارت کی سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے، عدالت نے حکومت اور الیکشن کمیشن سے اس عمل کے بارے میں جواب طلب کیا ہے، جبکہ انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے طریقہ کار اور بعض نوٹسز کے حوالے سے بھی سوالات اٹھے ہیں،اس عدالتی نگرانی نے معاملے کو مزید قومی اہمیت دے دی ہے، تاہم سول سوسائٹی کی اکثریت سمجھتی ہے سپریم کورٹ خود ایک الیکشن کمیشن جیسا ادارہ ہے جو مودی حکومت کے تابع ہے، جہاں فریاد لے جانے سے ووٹ چوری تحریک کو نقصان پہنچ سکتا ہے
ادھر الیکشن کمیشن اپنے دفاع میں کہتا ہے کہ یہ عمل کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ ووٹر فہرستوں کی درستگی کے لیے کیا جا رہا ہے،کمیشن کے مطابق مردہ، ڈپلیکیٹ، منتقل ہو جانے والے یا ناقابلِ تصدیق ووٹرز کا نام فہرست میں برقرار رکھنا خود انتخابی نظام کی ساکھ کے لیے مسئلہ ہے،حکومت اور بی جے پی بھی ووٹر فہرستوں میں سیاسی مداخلت کے الزامات مسترد کر چکی ہیں
لیکن سڑکوں پر اب سوال صرف اپوزیشن کا نہیں رہا،نوجوان پوچھ رہے ہیں، سول سوسائٹی دستاویزات پیش کر رہی ہے، دانشور اور سماجی شخصیات پریس کانفرنسیں کر رہی ہیں، طلبہ تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں اور کاکروچ جنتا پارٹی ایک نئی سیاسی زبان میں نوجوانوں کو متحرک کر رہی ہے،اپوزیشن جماعتوں نے بھی مشترکہ طور پر الیکشن کمیشن کے خلاف مہم شروع کر دی ہے، اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کا کہنا ہے” فائنلی ووٹ چوری کے الزام میں مودی ، امیت شاہ اور گنیش کمار کو جیل جانا ہے “
ممبئی کے حالیہ مظاہروں میں فلمی دنیا کی شخصیات، جن میں نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی، وشال دادلانی اور وشال بھردواج شامل تھے، بھی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں نظر آئے،دہلی میں عام آدمی پارٹی، بائیں بازو کے گروپوں، کانگریس سے وابستہ طلبہ تنظیموں اور آزاد شہری کارکنوں کی شرکت نے اس احتجاج کو مزید وسیع بنا دیا
اس سارے بحران میں مودی حکومت کے لیے اصل سیاسی چیلنج یہ ہے کہ وہ اس معاملے کو محض اپوزیشن کا سیاسی احتجاج قرار دے کر نظرانداز نہیں کر سکتی، کیونکہ اب الیکشن کمیشن کی اندرونی کارروائی، سپریم کورٹ کی مداخلت، سول سوسائٹی کی رپورٹس، طلبہ احتجاج اور ایک نئی نوجوان سیاسی تحریک سب ایک ہی سوال کے گرد جمع ہو گئے ہیں،بھارت میں ووٹ کس کا ہے اور ووٹر لسٹ سے کسی شہری کا نام نکالنے کا اختیار کس حد تک اور کس طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
یہی سوال بھارت کے دنیا کے سب سے بڑے انتخابی نظام کے لیے اس تنازعہ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے،اگر الیکشن کمیشن یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج قانونی معیار کے مطابق ہوا تو یہ ایک وسیع انتخابی صفائی کا عمل قرار پائے گا،لیکن اگر عدالت، آزاد تحقیقات یا مستقبل کے انتخابی اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اہل ووٹر بڑی تعداد میں غلط طور پر خارج ہوئے تو یہ معاملہ محض ووٹر لسٹ کی غلطی نہیں رہے گا بلکہ بھارت کے انتخابی نظام پر ایک بنیادی آئینی سوال بن جائے گا
اور اسی لیے اس وقت بھارت میں اصل لڑائی صرف گیانیش کمار کے استعفے کی نہیں، بلکہ ووٹر لسٹ، ووٹ کے حق اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابی نظام پر اعتماد کی بنتی جا رہی ہے

قومی خبریں سے مزید