برازیل میں دائیں بازو کا بڑا اپ سیٹ، فلاویو بولسونارو پہلے مرحلے میں لولا سے آگے، 25 اکتوبر کو فیصلہ کن مقابلہ
برازیل کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو نے ایسا نتیجہ حاصل کیا ہے جس نے ملک کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے،سابق صدر جائر بولسونارو کے 45 سالہ بیٹے فلاویو نے پہلے مرحلے میں موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا کو پیچھے چھوڑ دیا، جس کے بعد 25 اکتوبر کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں انتہائی سخت مقابلے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے
فلاویو بولسونارو کو تقریباً 5 کروڑ 61 لاکھ ووٹ ملے، جو کل ووٹوں کا 47.03 فیصد بنتے ہیں، جبکہ 80 سالہ لولا ڈا سلوا کو تقریباً 5 کروڑ 38 لاکھ ووٹ ملے اور ان کا حصہ 45.16 فیصد رہا
یہ نتیجہ برازیل کے ترقی پسند اور بائیں بازو کے حلقوں کے لیے بڑا دھچکا ہے، کیونکہ لولا حکومت میں رہتے ہوئے دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں فلاویو بولسونارو انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے بڑے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں
فلاویو کی کامیابی کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ برازیل میں 1985 میں فوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کی واپسی کے بعد اب تک کوئی ایسا امیدوار پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر آنے کے بعد دوسرے مرحلے میں صدارتی انتخاب جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا
اسی تاریخی رجحان کی وجہ سے لولا کے لیے 25 اکتوبر کو ہونے والا مقابلہ انتہائی مشکل قرار دیا جا رہا ہے، اگرچہ دوسرے مرحلے سے قبل سیاسی اتحاد، ووٹوں کی منتقلی اور انتخابی مہم کی سمت نتیجہ تبدیل بھی کر سکتی ہے
سیاسی تجزیہ کار میگوئل لاگو نے لولا کی واپسی کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں معجزے ممکن ہیں، لیکن انہیں اس وقت فلاویو کی شکست کا امکان نظر نہیں آتا
فلاویو کی یہ پیش قدمی دراصل برازیل میں بولسونارو خاندان کی سیاسی واپسی بھی ہے۔ جائر بولسونارو کی سیاست نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران برازیل کو گہرے نظریاتی اور سیاسی تقسیم کے مرحلے میں پہنچایا تھا،ان کے حامیوں کے لیے فلاویو اب اسی دائیں بازو کی سیاست کا نیا چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں
دوسری جانب لولا کی مہم کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ پہلے مرحلے میں فلاویو کے مقابلے میں تقریباً 23 لاکھ ووٹ پیچھے رہنے کے بعد ان ووٹرز کو اپنی طرف کیسے لاتے ہیں جنہوں نے پہلے مرحلے میں تیسرے اور دیگر امیدواروں کو ووٹ دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فلاویو کی کامیابی کو ’’بڑی فتح‘‘ قرار دیا، اگرچہ انہوں نے اسے قریبی مقابلہ بھی کہا
اب برازیل کی سیاست کی نظریں 25 اکتوبر پر ہیں،پہلے مرحلے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مقابلہ صرف لولا اور فلاویو کے درمیان دو امیدواروں کی جنگ نہیں بلکہ برازیل کے مستقبل کی سمت پر ایک بڑا نظریاتی مقابلہ بھی بن چکا ہے،کیا ملک لولا کے بائیں بازو کے ترقی پسند ماڈل کے ساتھ آگے بڑھے گا یا بولسونارو خاندان کی قیادت میں ایک بار پھر دائیں بازو کی طرف فیصلہ کن رخ کرے گا




