Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

دنیا کے سب سے بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر کا منصوبہ، 40 ہزار ایکڑ زمین، امریکی ریاست کی موجودہ ضرورت سے زیادہ بجلی اور یوٹاہ کے لوگوں کی مزاحمت نے امریکا میں نئی جنگ چھیڑ دی

دنیا کے سب سے بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹر کا منصوبہ، 40 ہزار ایکڑ زمین، امریکی ریاست کی موجودہ ضرورت سے زیادہ بجلی اور یوٹاہ کے لوگوں کی مزاحمت نے امریکا میں نئی جنگ چھیڑ دی

امریکا میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہی,اس دوڑ نے زمین، بجلی، پانی، ماحولیات اور مقامی جمہوریت کو بھی براہ راست اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،یوٹاہ میں معروف سرمایہ کار اور شارک ٹینک کے ’’مسٹر ونڈرفل‘‘ کیون او’لیری کا مجوزہ اسٹریٹوس، جسے ونڈر ویلی بھی کہا جا رہا ہے، اسی نئی جنگ کی سب سے نمایاں مثال بن گیا ہے
دی ورج کی تفصیلی تحقیق کے مطابق یوٹاہ کے دور دراز علاقے باکس ایلڈر کاؤنٹی میں تقریباً 40 ہزار ایکڑ پر پھیلنے والے اس منصوبے کو دنیا کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر کی شکل دینے کا تصور پیش کیا گیا تھا،منصوبے کا حجم اتنا بڑا ہے کہ اس میں صرف کمپیوٹر سرورز رکھنے والی عمارتیں ہی نہیں بلکہ اپنی بجلی پیدا کرنے کا پورا نظام، توانائی اور دیگر بنیادی ڈھانچہ بھی شامل ہوگا
یہ علاقہ گریٹ سالٹ لیک کے شمالی حصے کے قریب واقع ہے اور زیادہ تر کھلا صحرائی علاقہ اور مویشیوں کے چرنے کی زمین ہے،باکس ایلڈر کاؤنٹی کے مطابق پورا منصوبہ تقریباً 40 ہزار ایکڑ پر محیط ہے، جبکہ اصل ڈیٹا سینٹر کی عمارتوں کا حتمی رقبہ ابھی طے نہیں ہوا،منصوبے میں ڈیٹا سینٹر کے ساتھ بجلی گھر، ممکنہ صنعتی اور دیگر سہولتیں بھی شامل کی جا سکتی ہیں
9 گیگاواٹ بجلی، یعنی ایک پوری امریکی ریاست کی کھپت سے بھی زیادہ
اس منصوبے کا سب سے حیران کن پہلو اس کی بجلی کی ضرورت ہے،ابتدائی تصور میں سائٹ پر تقریباً 9 گیگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھی گئی تھی،دی ورج کے مطابق یہ یوٹاہ کی اوسط مجموعی بجلی کی کھپت سے دو گنا سے بھی زیادہ بنتی ہے
یہ بجلی عام طور پر ریاست کے موجودہ گرڈ سے لینے کے بجائے منصوبے کے اندر ہی قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے ذریعے پیدا کرنے کی تجویز ہے،اس مقصد کے لیے علاقے سے گزرنے والی روبی قدرتی گیس پائپ لائن سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے،اس طرح ڈیٹا سینٹر کو انتہائی بڑی مقدار میں مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے گی اور مقامی گرڈ پر براہ راست بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی
او’لیری کے منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں کئی گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت قائم کی جا سکتی ہے،موجودہ منصوبہ بندی میں پہلے مرحلے کے لیے تقریباً 2 گیگاواٹ کی آن سائٹ بجلی اور زیادہ سے زیادہ 10 ڈیٹا سینٹر عمارتوں کا تصور پیش کیا گیا ہے، ہر عمارت تقریباً 100 میگاواٹ آئی ٹی لوڈ کے لیے ڈیزائن کی جا سکتی ہے،طویل مدت میں مجموعی صلاحیت تقریباً 7.5 گیگاواٹ تک پہنچانے کا ہدف بتایا گیا ہے
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے،ابتدائی عوامی اور میڈیا بیانات میں 40 ہزار ایکڑ اور 9 گیگاواٹ تک کی وسیع تر منصوبہ بندی سامنے آئی تھی، جبکہ موجودہ او’لیری ڈیجیٹل معلومات میں یوٹاہ کے ونڈر ویلی منصوبے کو تقریباً 13 ہزار ایکڑ کے ابتدائی ترقیاتی علاقے اور مرحلہ وار 7.5 گیگاواٹ تک توسیع کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے،یعنی منصوبے کا اصل حجم وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے اور اسے ایک ہی وقت میں 40 ہزار ایکڑ پر مکمل تعمیر ہونے والا ڈیٹا سینٹر سمجھنا درست نہیں ہوگا
اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، مگر ابھی کوئی بڑا اینکر صارف سامنے نہیں
یہاں کہانی کا ایک انتہائی اہم پہلو سامنے آتا ہے،اتنا بڑا منصوبہ ابھی مکمل تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر نہیں ہے بلکہ پری کنسٹرکشن اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے
دی ورج کے مطابق منصوبے کے ڈویلپرز زمین، بجلی اور اجازت ناموں کا بنیادی ڈھانچہ پہلے تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ بعد میں کوئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بطور اینکر ٹیننٹ سامنے آئے،ڈیٹا سینٹر کی دنیا میں یہ ایک اہم کاروباری ماڈل ہے،ڈویلپر پہلے زمین اور بجلی کی صلاحیت تیار کرتا ہے اور پھر گوگل، مائیکروسافٹ، ایمیزون یا کسی دوسری بڑی کمپنی جیسے ممکنہ صارف کو راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق او’لیری نے ابتدائی مرحلے میں فی گیگاواٹ تقریباً 15 ارب ڈالر تک ترقیاتی لاگت کا تخمینہ بتایا تھا،اگر کئی گیگاواٹ کا منصوبہ حقیقت میں تعمیر ہوتا ہے تو سرمایہ کاری کا حجم دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے
یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو صرف ایک ڈیٹا سینٹر کہنا شاید اس کی اصل نوعیت کو کم کرکے بیان کرنا ہوگا،یہ دراصل زمین، بجلی، قدرتی گیس، فائبر، کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا صنعتی شہر نما انفراسٹرکچر بنانے کی کوشش ہے
فوج اور قومی سلامتی کا پہلو
اس منصوبے کو اتنا سیاسی وزن دینے والی ایک بڑی وجہ اس کا امریکی قومی سلامتی سے جوڑا جانا بھی ہے
یوٹاہ کی ملٹری انسٹالیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی، یعنی ایم آئی ڈی اے نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے،ریاستی حکام نے اسے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور قومی دفاع کے لیے اہم انفراسٹرکچر قرار دیا ہے،منصوبے کے علاقے میں فوجی اور ریاستی ملکیت کی تقریباً 1,200 ایکڑ زمین بھی شامل ہونے کی بات سرکاری معلومات میں سامنے آئی ہے
لیکن دی ورج کی تحقیق کے مطابق اب تک عوامی طور پر کسی مخصوص فوجی صارف، معاہدے یا فوجی پروگرام کی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں،یہی ابہام منصوبے کے ناقدین کے لیے ایک بڑا سوال بن گیا کہ آخر قومی سلامتی کے نام پر اتنے بڑے منصوبے کو اتنی تیزی سے آگے بڑھانے کی اصل وجہ کیا ہے
او’لیری نے خود اس منصوبے کو امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت، اقتصادی طاقت اور فوجی برتری کی دوڑ کا حصہ قرار دیا ہے،ان کا مؤقف ہے کہ اگر امریکا کو چین کے مقابلے میں اے آئی کی بالادستی برقرار رکھنی ہے تو اسے بہت بڑی مقدار میں محفوظ اور قابل اعتماد کمپیوٹنگ صلاحیت اور بجلی پیدا کرنا ہوگی
اصل لڑائی بجلی سے بھی زیادہ جمہوریت پر ہے
اس منصوبے نے سب سے بڑا تنازعہ اس وقت پیدا کیا جب مقامی لوگوں کو معلوم ہوا کہ ان کے علاقے میں اتنے بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے
دی ورج کے مطابق باکس ایلڈر کاؤنٹی کے کمشنروں کو منصوبے کے بارے میں باقاعدہ طور پر مارچ 2026 میں بتایا گیا، حالانکہ منصوبہ اس سے پہلے ریاستی سطح پر آگے بڑھ رہا تھا،مقامی کمشنروں کو رسمی بریفنگ کے بعد ووٹ کے لیے تقریباً 40 دن کا وقت ملا
اس کے بعد مقامی سطح پر شدید ردعمل پیدا ہوا،حیران کن بات یہ تھی کہ مخالفت صرف ماحولیات پسندوں تک محدود نہیں رہی،قدامت پسند ری پبلکن، ماحولیات کے کارکن، مقامی زمین مالکان اور شہری آزادیوں کے حامی مختلف وجوہات کے باوجود منصوبے کی مخالفت میں ایک دوسرے کے قریب آ گئے
مقامی لوگوں کا بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر ان کی زمین، بجلی کے نظام، پانی، ماحول اور آنے والی نسلوں پر اتنے بڑے منصوبے کے اثرات پڑنے ہیں تو فیصلہ ان سے مکمل مشاورت کے بغیر اتنی تیزی سے کیوں کیا جا رہا ہے؟
منصوبے کے مالی ڈھانچے نے بھی سوالات پیدا کیے،دی ورج کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت ڈیٹا سینٹر کے سرورز اور دیگر آلات پر عملاً پراپرٹی ٹیکس نہ ہونے کے برابر ہو سکتا تھا جبکہ عمارتوں اور زمین سے حاصل ہونے والے ٹیکس میں سے ہر ڈالر کے 80 سینٹ ڈویلپر کو انفراسٹرکچر کے لیے واپس دینے کا انتظام زیر بحث آیا
حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایسے بڑے منصوبے کے لیے سڑکوں، بجلی، پانی اور دوسرے بنیادی ڈھانچے پر بھاری ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوگی، اس لیے خصوصی مالی انتظام ضروری ہے،مخالفین کے لیے سوال یہ ہے کہ آخر مقامی حکومت اور عوام کو اس کے بدلے میں حقیقی مالی فائدہ کتنا ملے گا
پانی کا سوال، گریٹ سالٹ لیک کے قریب اے آئی کا دیو
یوٹاہ پہلے ہی پانی کے بحران اور گریٹ سالٹ لیک کے مستقبل کے حوالے سے حساس ریاست ہے،اس لیے ہزاروں ایکڑ پر پھیلنے والے ڈیٹا سینٹر اور بجلی گھر نے پانی کے استعمال پر بھی تشویش پیدا کی
ریاستی حکام اور منصوبے کے حامی کہتے ہیں کہ ڈیٹا سینٹر میں جدید بند سرکٹ کولنگ نظام استعمال کیا جائے گا، جس میں پانی کو بار بار گردش کرایا جاتا ہے،سرکاری وضاحت کے مطابق منصوبے کے لیے گریٹ سالٹ لیک سے نیا پانی لینے کی تجویز نہیں ہے بلکہ موجودہ زرعی پانی کے حقوق سے حاصل ہونے والے پانی کو استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے
سرکاری مؤقف یہ بھی ہے کہ سب سے قریب ڈیٹا سینٹر گریٹ سالٹ لیک سے تقریباً 10 میل دور ہوگا اور وسیع کھلا علاقہ اس کے درمیان موجود ہوگا،تاہم منصوبے کے لیے پانی، ماحولیاتی اثرات اور فضائی آلودگی سے متعلق متعدد اجازت نامے اور مطالعات اب بھی ضروری ہیں
تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب او’لیری نے منصوبے کے مخالفین کو مبینہ طور پر چین سے جوڑنا شروع کیا،انہوں نے ٹیلی ویژن پر دعویٰ کیا کہ منصوبے کے خلاف آن لائن سرگرمی کے پیچھے چینی مفادات ہوسکتے ہیں
بعد میں او’لیری نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس بعض مخالفین کے چین یا چینی کمیونسٹ پارٹی سے مالی تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ہے،اس کے باوجود معاملہ قانونی تنازعہ تک پہنچ گیا اور او’لیری اور فاکس کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا گیا
مقامی دباؤ اتنا بڑھا کہ جون 2026 میں او’لیری نے منصوبے کے رقبے کو کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی،یوٹاہ پبلک ریڈیو کے مطابق ابتدائی 40 ہزار ایکڑ کے منصوبے کو تقریباً 20 ہزار ایکڑ تک کم کرنے کی بات سامنے آئی، جبکہ ریاستی سینیٹ کے صدر جے اسٹورٹ ایڈمز نے اس سے بھی زیادہ کمی، ماحولیاتی تحفظ اور شفافیت کا مطالبہ کیا تھا
بعد کی موجودہ منصوبہ بندی میں او’لیری ڈیجیٹل نے یوٹاہ کے ونڈر ویلی حصے کو تقریباً 13 ہزار ایکڑ کے ابتدائی ترقیاتی علاقے کے طور پر بیان کیا ہے، جس میں پہلے مرحلے کے بعد مزید توسیع کا امکان رکھا گیا ہے
باکس ایلڈر کاؤنٹی نے نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے لیے 180 روزہ عارضی ضابطہ/روک بھی نافذ کیا تاکہ اس دوران ڈیٹا سینٹرز کے لیے زمین کے استعمال اور ترقیاتی اصولوں کا جائزہ لیا جا سکے
منصوبہ ابھی تعمیر نہیں ہوا، مگر اس نے امریکا کے مستقبل کا ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے
یہاں اصل کہانی شاید کیون او’لیری سے بھی بڑی ہے
مصنوعی ذہانت کے لیے دنیا بھر میں کمپیوٹنگ کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے،اے آئی ماڈلز کو چلانے کے لیے ہزاروں طاقتور سرورز، مسلسل بجلی، کولنگ، فائبر نیٹ ورک اور بڑی عمارتیں درکار ہیں،اس لیے امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اب ایک نئی صنعتی دوڑ بن چکی ہے
لیکن اس دوڑ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ایک اے آئی ڈیٹا سینٹر کسی عام دفتر یا فیکٹری سے کہیں زیادہ بجلی استعمال کر سکتا ہے،بڑے منصوبوں کو زمین، قدرتی گیس، پانی اور نئے انفراسٹرکچر کی ضرورت پڑ سکتی ہے،اس لیے اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ اے آئی کون بنائے گا؟
اصل سوال یہ بنتا جا رہا ہے کہ اے آئی کی طاقت کے لیے زمین کون دے گا، بجلی کون پیدا کرے گا، پانی کون استعمال کرے گا، ماحولیاتی قیمت کون ادا کرے گا اور فیصلہ کون کرے گا؟
یوٹاہ میں او’لیری کا منصوبہ اسی بڑے امریکی تضاد کی علامت بن گیا ہے،ایک طرف واشنگٹن، ریاستی حکومتیں اور ٹیکنالوجی سرمایہ کار چین کے مقابلے میں اے آئی کی دوڑ جیتنے کے لیے رفتار چاہتے ہیں،دوسری طرف مقامی شہری پوچھ رہے ہیں کہ قومی سلامتی اور مصنوعی ذہانت کے نام پر کیا ان کی زمین، پانی اور مستقبل کے بارے میں فیصلے ان کی رضامندی کے بغیر کیے جا سکتے ہیں؟
اور یہی وجہ ہے کہ 40 ہزار ایکڑ کے اس منصوبے کی اصل اہمیت صرف یہ نہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر کہاں بنے گا،اصل سوال یہ ہے کہ آنے والے اے آئی دور میں امریکا میں طاقت کس کے ہاتھ میں ہوگی: ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں کے، ریاستی حکومتوں کے، فوج کے، یا ان مقامی لوگوں کے جو اپنی زمین پر ہونے والی تبدیلی کا فیصلہ اپنے ووٹ سے کرنا چاہتے ہیں

قومی خبریں سے مزید