Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اکتوبر 7 حملے کے تین سال، اسرائیل میں یادیں بھی تازہ، انتخابات سے پہلے غصہ اور سوالات بھی گہرے

اکتوبر 7 حملے کے تین سال، اسرائیل میں یادیں بھی تازہ، انتخابات سے پہلے غصہ اور سوالات بھی گہرے

اسرائیل میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کو تین سال مکمل ہونے پر سوگ اور یاد کے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک ایک ایسے انتخاب کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں جنگ کے دوران حکومت کی کارکردگی، سکیورٹی کی ناکامی اور یرغمالیوں کی واپسی جیسے سوالات ووٹروں کے فیصلے پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں
جنوبی اسرائیل کے شہر سدیروت اور دیگر علاقوں میں لوگوں نے اپنے گھروں، سڑکوں کے کناروں اور ان مقامات پر اپنے پیاروں کو یاد کیا جہاں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اچانک حملے نے اسرائیل کی تاریخ کا ایک انتہائی ہولناک باب رقم کیا تھا،نووا میوزک فیسٹیول کا مقام بھی یادگاری سرگرمیوں کا مرکز بنا، جہاں حملے کے دوران بڑی تعداد میں افراد مارے گئے تھے
تین سال گزرنے کے باوجود بہت سے اسرائیلی خاندانوں کے لیے 7 اکتوبر محض ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا صدمہ ہے جس کے اثرات آج بھی ان کی زندگیوں میں موجود ہیں،بعض خاندان اپنے مقتول عزیزوں کی یاد میں جمع ہوئے جبکہ یرغمال بنائے گئے افراد کے خاندانوں کے لیے یہ دن ان کے اپنے پیاروں کی واپسی کے سوال کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے جنگجوؤں نے غزہ سے اسرائیل کی سرحد عبور کرکے جنوبی اسرائیل کی آبادیوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے؟اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 250 سے زیادہ افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا،اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں فلسطینی علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، تباہی اور انسانی بحران پیدا ہوا
تین سال بعد اسرائیلی معاشرہ اس سوال کا سامنا کر رہا ہے کہ 7 اکتوبر جیسا حملہ کیسے ممکن ہوا اور اس کی ذمہ داری کس حد تک سیاسی اور سکیورٹی قیادت پر عائد ہوتی ہے،حملے کے وقت حکومت اور سکیورٹی اداروں کی تیاری، انٹیلی جنس کی ناکامی اور سرحدی دفاع میں موجود خامیوں پر اسرائیل میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے
اب یہ بحث انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ مزید سیاسی اہمیت اختیار کر رہی ہے،ووٹرز پہلی مرتبہ جنگ شروع ہونے کے بعد قومی انتخابات میں اپنے غصے، خوف، امید اور مایوسی کا اظہار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،حکومت کے حامی جنگ کے دوران کیے گئے اقدامات اور سکیورٹی پالیسی کو اپنی دلیل بنائیں گے، جبکہ ناقدین 7 اکتوبر کی ناکامی اور جنگ کے طویل ہوجانے کو حکومت سے جواب طلبی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں
اسرائیلی سیاست میں یرغمالیوں کا مسئلہ بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے،یرغمالیوں کے خاندان اور ان کے حامی طویل عرصے سے حکومت پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ ان افراد کی واپسی کو اولین ترجیح دی جائے،ان خاندانوں کے لیے تین سال مکمل ہونا صرف ایک تاریخی موقع نہیں بلکہ اس اذیت کی یاد بھی ہے جو ان کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ طویل ہوتی رہی
اسرائیل میں ہونے والی یہ یادگاری تقریبات ایسے وقت میں منعقد ہو رہی ہیں جب 7 اکتوبر کے حملے نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ پورے خطے کی سمت بدل دی،ایک حملے سے شروع ہونے والی جنگ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعہ کو ایک نئے اور کہیں زیادہ تباہ کن مرحلے میں داخل کر دیا، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے باہر عالمی سیاست تک پہنچے
تین سال بعد سدیروت کی سڑکوں سے نووا فیسٹیول کے مقام تک جلائی جانے والی یادگاری شمعیں ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کر رہی ہیں جو اپنے مقتولوں کو یاد کر رہا ہے، اپنے یرغمالیوں کے زخم کو محسوس کر رہا ہے اور اسی دوران یہ فیصلہ کرنے کی تیاری بھی کر رہا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کی قیادت نے ملک کو کہاں پہنچایا اور آئندہ راستہ کیا ہونا چاہیے؟

قومی خبریں سے مزید