Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایمنسٹی کا چونکا دینے والا مطالبہ: ICE ختم کیا جائے، امریکی امیگریشن نظام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات

ایمنسٹی کا چونکا دینے والا مطالبہ: ICE ختم کیا جائے، امریکی امیگریشن نظام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات

امریکا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی کرنے والے وفاقی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنی ICE، کے مستقبل پر ایک نیا اور غیر معمولی سوال اٹھ گیا ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ادارے کو ہی ختم کر دیا جائے، کیونکہ تنظیم کے مطابق اس کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات اب الگ الگ واقعات تک محدود نہیں رہے بلکہ مختلف شہروں اور مختلف کارروائیوں میں ایک مستقل اور تشویشناک نمونہ سامنے آ رہا ہے
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ تحقیق میں شکاگو، منیاپولس اور سینٹ پال، نیو اورلینز اور واشنگٹن ڈی سی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امیگریشن کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا،تنظیم کا کہنا ہے کہ اس دوران وفاقی ایجنٹوں پر ایسے افراد کو نسلی شناخت یا ظاہری شکل کی بنیاد پر روکنے اور حراست میں لینے کے الزامات سامنے آئے جو امریکی شہری تھے، قانونی امیگریشن حیثیت رکھتے تھے یا مقامی کمیونٹیز میں رہتے تھے،ایمنسٹی کے مطابق بعض کارروائیوں میں ایسے علاقوں اور کاروباری مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جنہیں حکام نے سیاہ فام اور لاطینی نژاد تارکین وطن کی آبادیوں سے منسلک سمجھا
تنظیم کی تحقیق میں طاقت کے استعمال کے ایسے واقعات بھی درج کیے گئے جن میں ایمنسٹی کے مطابق دروازے مسلح اہلکاروں نے توڑے، گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، لوگوں کو زمین پر گرایا گیا اور احتجاج کرنے والوں یا کارروائی کو دیکھنے والے افراد کے خلاف آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا گیا،رپورٹ میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کے بھی الزامات شامل ہیں
سب سے زیادہ تشویشناک دعوے حراستی مراکز کے بارے میں ہیں،ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس کے محققین نے ایسے افراد سے بات کی جو طویل عرصے تک گنجائش سے زیادہ بھرے اور غیر صحت بخش مراکز میں رکھے گئے، جہاں خوراک، طبی سہولت اور وکلا تک رسائی محدود ہونے کی شکایات سامنے آئیں،تنظیم نے بعض حالات کو ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک قرار دیا اور کہا کہ کچھ معاملات میں یہ حالات تشدد کے زمرے تک پہنچ سکتے ہیں،خاندانوں اور وکلا کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کا پتا نہ چلنے کے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس کی تشویش کسی ایک اہلکار یا کسی ایک شہر کے واقعے سے متعلق نہیں بلکہ چار مختلف بڑے شہری علاقوں میں سامنے آنے والی مماثلت ہے،تنظیم کے مطابق مختلف کمیونٹیز اور مختلف کارروائیوں میں ملتے جلتے الزامات سامنے آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ انفرادی واقعات سے بڑھ کر پورے نظام کی ساخت اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق ہو سکتا ہے
ایمنسٹی نے اپنی 30 ستمبر کو جاری کی گئی تحقیق میں کہا ہے کہ 20 جنوری 2025 کو ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکا میں تارکین وطن، پناہ کے متلاشی افراد اور مہاجرین کے خلاف بڑے پیمانے پر حراست اور ملک بدری کا نظام مزید وسیع ہوا ہے،تنظیم نے اس نظام کے بعض پہلوؤں کو انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے
یہ پہلا موقع نہیں کہ ICE پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہوں،ایمنسٹی کے مطابق اس ادارے کے قیام کے بعد سے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں اس کے طریقہ کار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، تاہم تنظیم کا مؤقف ہے کہ موجودہ دور میں کارروائیوں کا پیمانہ اور شدت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے
ایمنسٹی کی یہ مہم اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ تنظیم عام طور پر حکومتی پالیسیوں میں اصلاحات، قانونی نگرانی اور احتساب کا مطالبہ کرتی رہی ہے، جبکہ اس مرتبہ اس نے براہ راست ICE کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے،اس کا کہنا ہے کہ اگر ایک ادارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نمونہ طویل عرصے تک موجود رہے اور مؤثر احتساب نہ ہو تو صرف تربیت، بجٹ میں کمی یا چند اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کافی نہیں ہوگی
امریکی حکومت اور امیگریشن حکام کی جانب سے ICE کا بنیادی مؤقف مختلف ہے،وفاقی حکومت امیگریشن قوانین کے نفاذ، ایسے افراد کی گرفتاری اور ملک بدری کو اپنی قانونی ذمہ داری قرار دیتی ہے جنہیں امیگریشن قوانین کے تحت امریکا میں رہنے کا حق حاصل نہیں، جبکہ حکومت کی پالیسی کے حامی سخت کارروائی کو غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں،اسی لیے ICE کے خاتمے کا مطالبہ اب امریکا میں امیگریشن، قومی سلامتی، قانون کے نفاذ اور انسانی حقوق کے درمیان ایک بڑے سیاسی اور قانونی تنازعہ کا حصہ بن گیا ہے
ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ ICE کے خاتمے کے ساتھ کام ختم نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسا نیا امیگریشن نظام تشکیل دینا ہوگا جو انسانی حقوق، خاندانوں کے اتحاد اور قانونی تحفظ کو بنیادی حیثیت دے،تنظیم کا کہنا ہے کہ امریکا میں مختلف کمیونٹیز نے پہلے ہی ہنگامی رابطہ نیٹ ورک، قانونی مدد، طبی معاونت اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے نظام قائم کرنا شروع کر دیے ہیں
یوں امریکا میں بحث اب صرف اس سوال تک محدود نہیں رہی کہ ICE کو مزید اختیارات دیے جائیں یا اس کی کارروائیوں پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سے کہیں آگے بڑھ کر سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا موجودہ ICE نظام کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جا سکتی ہے، یا پھر پورے ادارے کو ختم کرکے ایک نیا نظام تشکیل دینا ہوگا،یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور ملک بدری کی پالیسی امریکا میں پہلے ہی شدید سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے

قومی خبریں سے مزید