انڈونیشیا میں نائب صدر کا عہدہ خطرے میں، گیبران کی تعلیمی اہلیت پر آج فیصلہ، حکومت کے مستقبل پر بھی اثرات
انڈونیشیا کی آئینی عدالت آج ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ سنانے والی ہے جس نے صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کے ساتھ ساتھ نائب صدر گیبران راکابومنگ راکا کے سیاسی مستقبل کو بھی غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے،درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گیبران 2024 کے صدارتی انتخاب میں نائب صدر کا امیدوار بننے کے لیے مطلوبہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے اور ان کی امیدواری کے لیے استعمال ہونے والے تعلیمی ریکارڈ میں قانونی خامیاں موجود تھیں
گیبران سابق صدر جوکو ویدودو کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور 2024 کے انتخابات میں پرابوو سوبیانتو کے ساتھ نائب صدر کے امیدوار تھے،دونوں کامیاب ہوئے اور اکتوبر 2024 میں اقتدار سنبھالا،اس وقت گیبران کی عمر 39 برس ہے اور وہ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت انڈونیشیا کے نائب صدر ہیں
تنازعہ بنیادی طور پر اس سوال پر ہے کہ کیا گیبران نے انڈونیشیا کے انتخابی قانون کے تحت مطلوبہ کم از کم تعلیمی قابلیت مکمل کی تھی،قانون کے مطابق صدر اور نائب صدر کے امیدوار کے لیے کم از کم ہائی اسکول یا اس کے مساوی تعلیم مکمل کرنا ضروری ہے،درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ گیبران کے بیرون ملک تعلیمی ریکارڈ سے اس شرط کی مطلوبہ قانونی دستاویزات کے ذریعے تصدیق نہیں ہوتی
گیبران نے سنگاپور کے اورکڈ پارک سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں آسٹریلیا میں بھی تعلیم جاری رکھی،انہوں نے سنگاپور کے مینجمنٹ ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے بیچلر ڈگری حاصل کی،تاہم مقدمے میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ نائب صدر کے امیدوار کی حیثیت سے ان کی ثانوی تعلیم مکمل ہونے کا مطلوبہ ثبوت کس طرح فراہم کیا گیا اور آیا انتخابی حکام نے اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی تھی
مقدمہ سابق نائب وزیر قانون ڈینی اندریانا سمیت 12 درخواست گزاروں نے دائر کیا ہے؟ان کا مطالبہ ہے کہ عدالت گیبران کی 2024 کی نائب صدارت کی امیدواری کو قانونی طور پر کالعدم قرار دے، ان کی بطور نائب صدر حلف برداری منسوخ کرے اور پارلیمنٹ کو نئے نائب صدر کے انتخاب کا راستہ دیا جائے،درخواست گزاروں کے مطابق اگر بنیادی اہلیت ہی پوری نہیں ہوئی تھی تو بعد کی کامیابی اور حلف برداری اس ابتدائی قانونی خامی کو ختم نہیں کر سکتی
دوسری طرف انتخابی حکام اور گیبران کے دفاع میں پیش ہونے والے فریقین نے اس الزام کو مسترد کیا ہے،سابق الیکشن کمیشن سربراہ ہاشم اسعری نے عدالت میں کہا کہ متعلقہ انتخابی ضابطے میں بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے امیدواروں کے لیے دستاویزی ثبوت سے متعلق ایک استثنا موجود تھا اور یہ ضابطہ کسی مخصوص امیدوار کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بنایا گیا تھا
مقدمے کی سماعت کے دوران انڈونیشیا کی وزارت تعلیم سے بھی سوالات کیے گئے،وزارت کے نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ گیبران کے تعلیمی مساوات کے معاملے میں ان کے ہائی اسکول ڈپلومے کی اصل دستاویز وزارت کو موصول نہیں ہوئی تھی،اسی طرح سنگاپور اور آسٹریلیا میں ان کی تعلیم کے حوالے سے سفارتی حکام کے بیانات بھی عدالت کے سامنے آئے
یہ مقدمہ اس لیے بھی حساس ہے کہ گیبران کی سیاست پہلے ہی انڈونیشیا میں ایک بڑے آئینی تنازعہ کا مرکز رہ چکی ہے،2023 میں آئینی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد صدارتی اور نائب صدارتی امیدواروں کی عمر سے متعلق قواعد میں تبدیلی ہوئی، جس نے اس وقت کے 36 سالہ گیبران کے لیے 2024 کا انتخاب لڑنے کا راستہ کھولا تھا،اس فیصلے پر ملک میں شدید سیاسی بحث ہوئی تھی
اب عدالت کے سامنے سوال صرف گیبران کی تعلیمی دستاویزات کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا موجودہ انتخابی کامیابی کے تقریباً دو سال بعد عدالت 2024 میں ان کی اہلیت کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے،انڈونیشیا کے جنرل الیکشن کمیشن نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ درخواست گزار دراصل انتخابی عمل سے متعلق معاملہ اٹھا رہے ہیں جو ان کے خیال میں آئینی عدالت کے بجائے انتخابی نگران ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے
اگر عدالت درخواست منظور کرتی ہے تو گیبران کو نائب صدر کے عہدے سے ہٹانے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے اور صدر پرابوو کو نئے نائب صدر کے لیے امیدوار تجویز کرنا پڑ سکتا ہے،درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ 60 دن کے اندر نئے نائب صدر کا انتخاب کرے
تاہم سوشل میڈیا پر اس مقدمے کے فیصلے سے پہلے ہی یہ دعوے گردش کر رہے ہیں کہ گیبران کو ہٹا کر کسی دوسرے شخص کو نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے،انڈونیشیا کے سرکاری حکام نے ایسے دعووں کو غلط قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک گیبران ہی ملک کے نائب صدر ہیں
آج کا فیصلہ اس لیے بھی اہم ہوگا کہ انڈونیشیا پہلے ہی انتخابی عمل، عدلیہ کے کردار اور سیاسی خاندانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بحث کر رہا ہے،اگر عدالت گیبران کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو یہ 2024 کے انتخابی عمل کی قانونی حیثیت پر ایک بڑا سوال بن سکتا ہے، جبکہ اگر عدالت درخواست مسترد کرتی ہے تو تعلیمی اہلیت سے متعلق تنازعہ قانونی طور پر ایک اہم مرحلے پر ختم ہو جائے گا
انڈونیشیا میں آج رات ہونے والا فیصلہ یوں ایک نائب صدر کی تعلیمی دستاویزات سے کہیں بڑا معاملہ بن چکا ہے،اس کے نتیجے سے یہ طے ہوگا کہ گیبران اپنی پانچ سالہ مدت جاری رکھتے ہیں یا ملک کو دوبارہ نائب صدر کے انتخاب کے ایک غیر معمولی آئینی مرحلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے





