اسٹار وارز اداکار جان بویگا نے 10 سالہ دوست دامیلوولا ٹیلر کے قتل کی یادیں دہائیوں بعد بیان کردیں
ہالی ووڈ کی فلم سیریز ’’اسٹار وارز‘‘ کے معروف اداکار جان بویگا نے اپنے بچپن کے دوست 10 سالہ دامیلوولا ٹیلر کے قتل کا واقعہ 26 سال بعد پہلی مرتبہ تفصیل سے بیان کرنے کی تیاری کرلی ہے،بویگا اس وقت صرف 8 سال کے تھے جب ان کے اسکول کے دوست کو لندن کے علاقے پیکھم میں چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا
بویگا نے بی بی سی ٹو کی نئی دستاویزی فلم کے ابتدائی منظر میں کہا کہ اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں،ان کے مطابق انہوں نے طویل عرصے سے اس واقعے کو دوبارہ یاد نہیں کیا اور ان کا دل تیزی سے دھڑک رہا ہے، تاہم شاید اس بارے میں بات کرنا ان کے لیے مددگار ثابت ہو
دامیلوولا ٹیلر کو 27 نومبر 2000 کو جنوبی لندن کے پیکھم علاقے میں اس وقت حملہ کرکے قتل کردیا گیا جب وہ لائبریری میں اسکول کے بعد کی سرگرمیوں میں شرکت کرکے گھر واپس جا رہا تھا،اسے ٹوٹی ہوئی بوتل سے ٹانگ پر وار کیا گیا اور وہ خون بہنے کے باعث ایک کنکریٹ کی سیڑھیوں والی جگہ پر دم توڑ گیا
اس واقعے نے برطانیہ میں شدید صدمہ پیدا کیا تھا اور قتل کی تحقیقات اور مقدمے کا عمل کئی برس تک جاری رہا،مقدمے کی کارروائی کے لیے اولڈ بیلی میں تین الگ ٹرائل ہوئے اور مجموعی طور پر تقریباً 16 ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے
بویگا کے مطابق دامیلوولا کے قتل نے بچپن ہی میں ان پر گہرا اثر ڈالا،انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ انہیں راتوں کو جگائے رکھتا تھا کیونکہ قتل سے کچھ ہی دیر پہلے وہ اپنے دوست کے ساتھ موجود تھے
اب خود والد بننے کے بعد بویگا کا کہنا ہے کہ اس سانحے نے نہ صرف ان کی اپنی زندگی کو متاثر کیا بلکہ بچوں، ان کی حفاظت اور والد کی حیثیت سے ان کی سوچ پر بھی اثر ڈالا ہے
بی بی سی کی یہ دستاویزی فلم دامیلوولا ٹیلر کے قتل، اس کے بعد ہونے والی طویل قانونی کارروائی اور اس سانحے کے ان بچوں پر اثرات کا جائزہ لیتی ہے جو اس وقت اس کے ہم جماعت اور دوست تھے،ان میں جان بویگا بھی شامل ہیں، جو بعد میں ’’اٹیک دی بلاک‘‘ اور ’’اسٹار وارز‘‘ جیسی فلموں کے ذریعے عالمی شہرت حاصل کر گئے





