Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

یمن میں نئی سعودی کارروائی سے جنگ مزید پھیلنے کا خطرہ

یمن میں نئی سعودی کارروائی سے جنگ مزید پھیلنے کا خطرہ

یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے سعودی عرب حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے تاکہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اہم سمندری راستے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جا سکے حوثیوں نے گزشتہ ماہ تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے اس اہم علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، جس سے عالمی بحری تجارت کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ خطرے میں پڑ گیا ہے
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی زیر قیادت کارروائی میں زمینی محاذ پر سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز حصہ لیں گی جبکہ سعودی فضائیہ اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کرے گی ممکنہ کارروائی کے لیے مختلف منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ فوجی پیش قدمی اور ایک سے زیادہ محاذوں سے حوثیوں کے خلاف حملہ شامل ہے
باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کا اہم راستہ ہے اس علاقے میں جنگ بڑھنے سے تیل کی ترسیل، تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور عالمی سپلائی چین ایک بار پھر شدید متاثر ہو سکتی ہے
یمن میں حالیہ لڑائی پہلے ہی بڑے پیمانے پر انسانی بحران پیدا کر چکی ہے گزشتہ ماہ حوثیوں کی کارروائی کے بعد مختلف علاقوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں اور سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جبکہ ہزاروں خاندان اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے
دوسری طرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے قریب ایک تیل تنصیب کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ سعودی عرب کی جانب سے صنعاء پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں یمنی حکومت کی فورسز نے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں حوثی اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے
اس صورتحال نے خطے کے دوسرے ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک نے یمن کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے پر زور دیا ہے
اس تنازعے کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی جڑی ہوئی ہے امریکا نے خلیج میں مزید فوجی دستے اور ایک طیارہ بردار جنگی گروپ بھیجنے کے احکامات دیے ہیں، جس سے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے یمن میں سعودی حوثی تنازع اور ایران امریکا کشیدگی ایک دوسرے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں
یمن گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے جنگ کا شکار ہے اور متعدد بیرونی فوجی مداخلتیں اس بحران کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکیں نئی فوجی کارروائی سے انسانی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ پہلے ہی لاکھوں یمنی شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں
ایسے حالات میں جنگ کے بجائے سعودی عرب، حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتی ہے باب المندب میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانا، سعودی سرزمین پر حملے روکنا اور یمن کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان سیاسی سمجھوتہ پیدا کرنا ہی اس بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کا بہتر راستہ دکھائی دیتا ہے

قومی خبریں سے مزید