Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

معاہدہ ہوا، پھر ٹوٹ گیا؟ حکومت، تحریک انصاف اور طاقت کے مراکز کے درمیان سانپ سیڑھی کا کھیل جاری، جس میں حکومت تحریک انصاف دونوں کو ہرانے کی حکمت عملی کام کررہی ہے

معاہدہ ہوا، پھر ٹوٹ گیا؟ حکومت، تحریک انصاف اور طاقت کے مراکز کے درمیان سانپ سیڑھی کا کھیل جاری، جس میں حکومت تحریک انصاف دونوں کو ہرانے کی حکمت عملی کام کررہی ہے

اسلام آباد میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی کہانی گزشتہ 48 گھنٹوں میں اس قدر تیزی سے بدلی ہے کہ اب اصل سوال یہ نہیں رہا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ ہوا یا نہیں، بلکہ یہ بن گیا ہے کہ اگر تقریباً تمام بڑے نکات پر اتفاق ہوچکا تھا تو پھر آخری لمحے پر ایسا کیا ہوا کہ وہی مذاکرات ڈیڈ لاک میں تبدیل ہوگئے جنہیں چند گھنٹے پہلے سیاسی بحران ختم کرنے کی امید قرار دیا جا رہا تھا
جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات مذاکرات کے بارے میں ذرائع کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تقریباً تمام نکات پر اتفاق ہوگیا ہے اور تحریری معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے،بعض ذرائع نے تو یہاں تک بتایا کہ معاہدے کی زبان اور حتمی مسودے پر کام مکمل ہونے کے قریب ہے،پاکستانی میڈیا نے بھی ہفتے کی رات ذرائع کے حوالے سے مشترکہ ڈرافٹ تیار ہونے اور دونوں جانب سے مفاہمت کی خبر دی، جبکہ پیپلز پارٹی کے مذاکرات کار نوید قمر نے بھی مذاکرات کو کامیاب قرار دینے کے امکان کا اظہار کیا
لیکن چند ہی گھنٹوں بعد منظر بدل گیا
محمود خان اچکزئی نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ ختم کرنے یا مذاکرات کے کسی حتمی فیصلے کا اختیار کسی دوسرے کے پاس نہیں،تازہ رپورٹس کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان متعدد نکات پر اتفاق کے بعد یہی شرط ایک نئی رکاوٹ بن گئی
یہاں سے اس پورے بحران کا سب سے اہم سوال شروع ہوتا ہے،اگر فریقین واقعی معاہدے تک پہنچ گئے تھے تو پھر معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے آخری منظوری کس کی ضرورت تھی؟
سیاسی ذرائع میں یہ بات گردش کرتی رہی کہ وزیر داخلہ محسن نقوی مذاکراتی پیش رفت سے وزیراعظم شہباز شریف کو آگاہ کر رہے تھے،بعض سیاسی ذرائع کا دعویٰ اس سے آگے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ طے شدہ مسودہ محسن نقوی وزیراعظم کی بجائے فیلڈ مارچل کے پاس لیکر گئے ، مطلب معائدہ طاقت کے اصل مرکز تک بھی پہنچایا گیا تاکہ سیاسی فیصلے کے بعد اسے عملی شکل دی جاسکے،لیکن یہی دعویٰ پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام کی ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے،کیا پارلیمانی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ صرف سیاسی قیادت کے دستخط سے نافذ ہوسکتا ہے، یا اس کے لیے ریاستی طاقت کے دوسرے مراکز کی رضامندی بھی درکار ہوتی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ موجودہ نظام میں Shehbaz Sharif حکومت آئینی طور پر مذاکرات کی فریق ہے، مگر قومی سلامتی، فوجی پالیسی اور دہشت گردی کے معاملات میں فوجی قیادت کا وزن کسی سے پوشیدہ نہیں،یہی وجہ ہے کہ اگر کسی معاہدے کو سیاسی طور پر طے شدہ سمجھا بھی جائے تو اس کے عملی اثرات کا تعلق صرف وزیراعظم ہاؤس سے نہیں رہتا
اور اسی مقام پر مذاکرات کا دوسرا بحران سامنے آتا ہے: خیبر پختونخوا
وفاقی حکومت نے مذاکرات میں مبینہ طور پر دو معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا،تحریک انصاف کا اسلام آباد مارچ ختم کرنا اور خیبر پختونخوا حکومت کا دہشت گردی کے خلاف وفاقی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ زیادہ مؤثر تعاون،میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حکومت نے واضح کیا تھا کہ مذاکرات میں بامعنی پیش رفت کے لیے دونوں معاملات پر پیش رفت ضروری ہے
یہ تنازعہ محض سیاسی الزام تراشی نہیں،گزشتہ ہفتے سے وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی پر شدید اختلافات سامنے آچکے ہیں،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ صوبے کو اعتماد میں لیے بغیر بند کمروں میں بنائی گئی پالیسی مؤثر نہیں ہوسکتی، جبکہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے تعاون اور سکیورٹی اداروں کے لیے سیاسی و انتظامی حمایت پر سوال اٹھا رہی ہے
یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے
وفاق کہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کو پوری طرح تعاون کرنا ہوگا،خیبر پختونخوا حکومت کہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی وہ لوگ بنائیں جو صوبے کی زمینی حقیقت کو سمجھتے ہیں،اور اسی وقت تحریک انصاف کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی تیاری کر رہا ہے
یوں ایک ہی سیاسی بحران میں سکیورٹی، صوبائی خودمختاری، عمران خان کی رہائی، اسلام آباد کا احتجاج اور وفاقی حکومت کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں
سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا تفصیلی شیڈول بھی جاری کیا ہے،ان کے مطابق قافلہ 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے نکلے گا، مختلف مقامات پر قیام کرتا ہوا 8 اکتوبر کو خیبر میں خیرآباد تک پہنچے گا، جہاں سے اگلے مرحلے کا اعلان کیا جائے گا
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد کے لیے اصل سیاسی امتحان فوری طور پر ختم نہیں ہوگا،مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو احتجاج کا خطرہ برقرار رہے گا، اور اگر احتجاج جاری رہتا ہے تو وفاقی حکومت کو دارالحکومت کی سکیورٹی اور آمدورفت کے لیے وہی غیر معمولی انتظامات برقرار رکھنا ہوں گے جو گزشتہ دو ہفتوں سے کیے جا رہے ہیں
اسلام آباد اور راولپنڈی میں کنٹینرز کی موجودگی پہلے ہی معمول کی شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہے،رائٹرز کے مطابق حکومت کی جانب سے احتجاج روکنے کے لیے کنٹینرز کے استعمال نے کراچی میں مال برداری اور ملک کے اندر سپلائی چین کو بھی متاثر کیا ہے، جبکہ ہزاروں گاڑیوں کو ستمبر میں سرکاری طور پر حاصل کیا گیا
یہاں ایک اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے،اگر مذاکرات کا مقصد احتجاج ختم کرکے سڑکیں کھولنا، کاروبار بحال کرنا اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنا تھا تو مذاکرات کی کامیابی سب سے زیادہ کس کے مفاد میں تھی؟
ظاہر ہے، حکومت کے
کیونکہ اگر تحریک انصاف لانگ مارچ ختم کردیتی، اسلام آباد کھل جاتا، خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان سکیورٹی تعاون کا کوئی فارمولا بن جاتا اور عمران خان سے ملاقات کا راستہ نکل آتا تو شہباز شریف حکومت فوری طور پر یہ دعویٰ کرسکتی تھی کہ اس نے ملک کو ایک بڑے سیاسی بحران سے نکال لیا ہے
اسی لیے مذاکرات کی ناکامی نے ایک عجیب سیاسی پہیلی پیدا کردی ہے
ایک طرف حکومت کو مذاکرات کامیاب ہونے چاہییں تھے،دوسری طرف اگر یہ قیاس درست ہو کہ موجودہ حکومت کے مستقبل کے بارے میں طاقتور حلقوں میں پہلے ہی سوالات موجود ہیں تو سیاسی بحران کا مکمل خاتمہ ان قوتوں کے لیے ضروری طور پر مفید نہیں ہوگا جو حکومت کی تبدیلی یا نئے سیاسی بندوبست کے امکانات دیکھ رہی ہیں
یہیں سے پاکستان کی سیاست کا وہ سوال شروع ہوتا ہے جس کا جواب کسی ایک جماعت کے بیانیے میں نہیں ملتا
آخر مذاکرات ناکام کس نے کروائے؟
تحریک انصاف کہہ سکتی ہے کہ حکومت نے عمران خان سے ملاقات کی شرط پوری نہیں کی،حکومت کہہ سکتی ہے کہ تحریک انصاف مارچ ختم کرنے کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی،وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے سکیورٹی تعاون کو مسئلہ بنا سکتی ہے،محمود خان اچکزئی کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان سے براہ راست مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں،لیکن ان تمام وضاحتوں کے درمیان ایک بنیادی حقیقت برقرار رہتی ہے،مذاکرات کے تقریباً آخری مرحلے میں پہنچ کر بھی سیاسی نظام بحران سے باہر نہیں نکل سکا
اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے سیاسی مبصرین کو صرف یہ دیکھنے کے بجائے کہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے، یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ناکامی سے فائدہ کس کو ہوسکتا ہے
ایک نظریہ یہ ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف دونوں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، طویل سیاسی بحران سے کچھ حاصل کرسکتی ہیں،تحریک انصاف کے لیے سڑکوں پر دباؤ عمران خان کی رہائی اور سیاسی طاقت کی بحالی کا ذریعہ ہوسکتا ہے،حکومت کے لیے احتجاج کا جاری رہنا ریاستی سختی، ایمرجنسی یا صوبائی حکومت کے خلاف مزید اقدامات کا جواز پیدا کرسکتا ہے
لیکن اس سے بھی آگے ایک تیسرا منظرنامہ زیر بحث ہے
اگر موجودہ سیاسی بندوبست کمزور ہوتا ہے، وفاقی حکومت اپنی پارلیمانی اکثریت یا سیاسی جواز کھوتی ہے اور ایک نئی حکومت، قومی حکومت یا کسی تکنیکی نوعیت کے عبوری بندوبست کی بات شروع ہوتی ہے تو اس کا سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ نئی حکومت بنے گی کیسے اور کس اختیار کے ساتھ؟
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان میں مقامی حکومتوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بحث غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتی ہے
پاکستان میں سیاسی طاقت کا ایک بڑا حصہ وفاق اور صوبوں کے پاس موجود مالی اور انتظامی اختیارات سے پیدا ہوتا ہے،مرکز کے پاس پیسہ، صوبوں کے پاس ترقیاتی وسائل، اور سیاسی جماعتوں کے پاس ان وسائل کو اپنے سیاسی نیٹ ورک میں تقسیم کرنے کی طاقت ہوتی ہے،سڑک، پل، ہسپتال، اسکول، ترقیاتی منصوبہ، سرکاری نوکری اور مقامی وسائل کی تقسیم اکثر سیاسی اثر و رسوخ کا حصہ بن جاتی ہے
اگر کبھی واقعی اختیارات اور وسائل بڑے پیمانے پر ضلعی، میونسپل اور مقامی حکومتوں تک منتقل کردیئے جاتے ہیں تو پاکستان کی روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے کھیل کی نوعیت بدل سکتی ہے
اس صورت میں ایم این اے یا ایم پی اے کے بجائے میئر، ضلع کے منتخب نمائندے اور مقامی کونسلیں براہ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہوں گی،سیاسی جماعتوں کے مرکزی ڈھانچے کے پاس وسائل کی تقسیم کا وہ اختیار نہیں رہے گا جو آج ان کے سیاسی اثر کا ایک اہم ذریعہ ہے
اور یہاں ایک انتہائی بنیادی سوال سامنے آتا ہے
کیا پاکستان کی سیاست کو واقعی مقامی حکومتوں تک اختیارات منتقل کرنے کی طرف لے جایا جا رہا ہے، یا یہ صرف ایک سیاسی نظریہ ہے جسے موجودہ بحران کے تناظر میں ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے؟
اس کا جواب ابھی موجود نہیں
اسی طرح یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ حکومت ختم ہونے والی ہے یا کوئی قومی یا تکنیکی حکومت لازماً آنے والی ہے،شہباز شریف کے مستقبل سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں سیاسی حلقوں میں گردش کرسکتی ہیں، لیکن ان کی ابھی کوئ ایسی تصدیق موجود نہیں جس کی بنیاد پر کہا جاسکے موجود سیاسی سیٹ اپ سو فیصد جارہا ہے
البتہ ایک چیز واضح ہے: پاکستان کا موجودہ بحران محض حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جھگڑا نہیں رہا
یہ اب پانچ الگ طاقتوں کا ملاپ بن چکا ہے،اسلام آباد کی وفاقی حکومت، خیبر پختونخوا کی تحریک انصاف حکومت، جیل میں موجود عمران خان کی سیاسی طاقت، سڑکوں پر احتجاج کی قوت اور ریاستی سکیورٹی ڈھانچہ
اور ان پانچوں کے درمیان اصل سوال یہی ہے کہ فیصلہ آخر کہاں ہوتا ہے،
اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو لانگ مارچ صرف ایک احتجاج نہیں ہوگا،یہ حکومت کی سیاسی بقا، خیبر پختونخوا اور مرکز کے تعلقات، عمران خان کے مستقبل اور ریاستی طاقت کے استعمال کا امتحان بن سکتا ہے
اگر مذاکرات دوبارہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس کے باوجود ایک سوال باقی رہے گا،کیا یہ واقعی سیاسی معاہدہ ہوگا یا صرف اگلے بحران تک پہنچنے والی ایک عارضی جنگ بندی؟
اور شاید سب سے بڑا سوال یہ ہوگا کہ جس معاہدے کے بارے میں چند گھنٹے پہلے کہا جارہا تھا کہ سب کچھ طے ہوگیا ہے، اسے آخر بالکل آختی لمحے پر کس نے روکا؟
اس سوال کا جواب اگر کبھی سامنے آیا تو ممکن ہے پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کی پوری تصویر ہی بدل جائے، مگر واقفان حال بضد ہیں مذاکرات کی ناکامی انہی کی حکمت عملی کی کامیابی تھی جو ملک میں انتظامی یونٹ کے قیام کے ذریعے نیا سیاسی تجربہ کرنا چاہتے ہیں کہ اسی راستے سے انکے اقتدار کی آخری منزل تک پہنچنے کی خواہش پوری ہوسکتی ہے، یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کیا تحریک انصاف “ انُکی “ حکمت عملی کی شریک ہے اور وہ مستقبل بعید کی بجائے بس آنے والے کل کی وقتی فتح کا گول حاصل کرنا چاہتی ہے، یہاں تحریک انصاف کی سیاست سمجھنے والے حلقے کہتے ہیں تحریک انصاف کی زمین پر کام کرنے والی قیادت کے پیٹ بہت چھوٹے ہیں جس میں کوئ بات سنبھال کر رکھنا ناممکن ہے ، حالات ظاہر کرتے ہیں حکومت اور تحریک انصاف ایک ہی شخص محسن نقوی کے ہاتھوں مستقبل کے خواب دکھا کر دام میں لائے گئے ہونگے کہ محسن نقوی کم بولتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ تولتے ہیں اور پھر انہیں معلوم ہے جب تک نظام برباد ہے اسکی تباہی کی گفتگو جاری ہے وہ اقتدار کا حصہ رہیں گے کہ اگر نظام درست ہوجائے یا اسکی درستگی کا فیصلہ ہی ہوجائے تو محسن نقوی ہی کیا انکے ممدوع کی گنجائش بھی ختم ہوجاتی ہے

قومی خبریں سے مزید