برازیل کا صدارتی انتخاب خوف اور بے چینی کی گرفت میں، ٹرمپ بھی بڑا مسئلہ بن گئے
برازیل کے صدارتی انتخابات میں اس بار مقابلہ صرف پالیسیوں اور سیاسی نعروں کا نہیں بلکہ خوف، غصے اور شدید بے اعتمادی کا بن گیا ہے،4 اکتوبر کو ہونے والے پہلے مرحلے سے قبل لاکھوں ووٹرز کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون انہیں سب سے زیادہ پسند ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ کس امیدوار کو کم خطرناک سمجھتے ہیں
انتخابی دوڑ میں بائیں بازو کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلیویو بولسونارو سب سے آگے ہیں،80 سالہ لولا چوتھی بار صدر بننے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ 45 سالہ فلیویو سابق صدر جائر بولسونارو کے بڑے بیٹے ہیں،اگر کوئی امیدوار پہلے مرحلے میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہ کرسکا، جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے، تو دونوں سرفہرست امیدوار 25 اکتوبر کو دوسرے مرحلے میں ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے
فلیویو بولسونارو کی انتخابی مہم کا ایک اہم مقصد اپنے والد کو جیل سے باہر لانا بھی ہے،جائر بولسونارو کو 2022 کے انتخابات میں لولا سے شکست کے بعد اقتدار پر قابض رہنے کے لیے بغاوت کی کوشش اور جمہوری نظام کا تختہ الٹنے کی سازش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے
لیکن اس انتخاب میں ایک غیر معمولی کردار برازیل سے باہر کا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلیویو اور بولسونارو خاندان سے قربت اور برازیل کے داخلی سیاسی معاملات پر واشنگٹن کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے امریکی مداخلت کو خود ایک انتخابی مسئلہ بنا دیا ہے،برازیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ انتخابی عمل اور ملک کے الیکٹرانک ووٹنگ نظام کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے،برازیل نے جولائی میں ٹرمپ انتظامیہ کے دو اعلیٰ امریکی حکام کو ملک آنے کے لیے ویزے دینے سے بھی انکار کر دیا تھا، کیونکہ برازیلی حکام کے مطابق انہیں انتخابی نظام پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کا خدشہ تھا
ٹرمپ کی جانب سے برازیل پر عائد کیے گئے نئے محصولات نے بھی انتخابی سیاست کو متاثر کیا ہے،لولا نے ان اقدامات کو اپنے مخالف فلیویو بولسونارو سے جوڑا، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ برازیل تجارتی معاملات میں غیر منصفانہ پالیسیاں اختیار کر رہا ہے،ایک سروے کے مطابق 51 فیصد برازیلیوں نے لولا کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ ان محصولات کی ذمہ داری بولسونارو پر عائد ہوتی ہے
برازیل میں امریکی مداخلت کے خدشات اس لیے بھی حساس معاملہ ہیں کہ ملک شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے،لولا کے حامی بولسونارو خاندان اور ٹرمپ کے تعلقات کو برازیل کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دائیں بازو کے ووٹرز لولا کی حکومت کو ملک کے معاشی اور سیاسی مسائل کی ذمہ دار سمجھتے ہیں،خود لولا نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ برازیل کے انتخابات میں مداخلت نہ کی جائے اور کہا تھا کہ برازیل کے انتخابات برازیل کا اپنا معاملہ ہیں
انتخابات سے پہلے برازیلی معاشرے میں مہنگائی، جرائم، معاشی سست روی، بدعنوانی کے الزامات اور سیاسی اداروں پر عدم اعتماد بھی نمایاں ہیں،نتیجتاً دونوں بڑے امیدوار اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ مخالف امیدوار کو ملک اور جمہوریت کے لیے زیادہ بڑا خطرہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
برازیل کا یہ انتخاب اب صرف لولا اور بولسونارو خاندان کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں رہا،اس میں یہ سوال بھی شامل ہوگیا ہے کہ کیا برازیل اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر کرے گا یا امریکہ اور ٹرمپ کی برازیل کے سیاسی منظرنامے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی خود ووٹرز کے فیصلے پر اثر انداز ہوگا





