Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

لانگ مارچ روکنے کے بدلے بڑا سیاسی پیکیج؟ حکومت اور پی ٹی آئی میں معاہدے کا ڈرافٹ تیار، عمران خان سے ملاقات اور آئندہ سیاسی سیٹ اپ پر بھی سوالات

لانگ مارچ روکنے کے بدلے بڑا سیاسی پیکیج؟ حکومت اور پی ٹی آئی میں معاہدے کا ڈرافٹ تیار، عمران خان سے ملاقات اور آئندہ سیاسی سیٹ اپ پر بھی سوالات
رپورٹ : آفاق فاروقی
اسلام آباد میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری مذاکرات نے اہم مرحلہ اختیار کر لیا ہے اور دونوں جانب سے معاہدے کے تحریری ڈرافٹ پر مشاورت جاری ہے،مذاکراتی ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا ہونے کے بعد تحریری معاہدے پر دستخط کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم ڈرافٹ میں تمام حساس سیاسی معاملات کی تفصیلات سامنے لانے کے بجائے قابلِ عمل نکات شامل کیے جانے کا امکان ہے،
مذاکرات میں حکومت کی بنیادی شرط تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کو ختم کرنا ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، ان کی موجودہ حراست سے منتقلی، ان کی بہنوں سے متعلق معاملے اور پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ و کارکنوں کی رہائی کے مطالبات سامنے رکھے گئے ہیں،دستیاب رپورٹوں کے مطابق پی ٹی آئی پہلے ہی یہ مؤقف رکھ چکی ہے کہ مارچ کے مستقبل کا فیصلہ مذاکرات میں پیش رفت اور عمران خان سے ملاقات سے منسلک ہے
ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں اس امکان پر بھی اتفاق سامنے آیا ہے کہ علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی عمران خان سے ملاقات کریں گے،سیاسی حلقوں میں اسے موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے،مذاکرات کے کامیاب ہونے کی صورت میں عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی اور اس کے بعد ان کی مزید منتقلی سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں،عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ پہلے ہی پی ٹی آئی کی مذاکراتی ترجیحات میں شامل بتایا گیا ہے
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسلام آباد اور راولپنڈی میں ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے؟بڑی تعداد میں کنٹینرز کے ذریعے راستے بند کرنے اور نقل و حمل محدود کرنے سے ملک کے لاجسٹکس اور تجارتی نظام پر بھی نمایاں اثر پڑا ہے،رائٹرز کے مطابق ستمبر میں دو ہزار سے زیادہ گاڑیاں کنٹینرز کی صورت میں استعمال کے لیے حاصل کی گئیں، جبکہ دارالحکومت کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹوں نے مال برداری کو متاثر کیا
مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کا معاملہ بھی پس منظر میں موجود رہا،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے آئینی آپشن پر غور کر رہا تھا، تاہم پیپلز پارٹی نے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کا مشورہ دیا،دوسری جانب حکومتی وزیر طارق فضل چوہدری کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی تجویز لانگ مارچ سے براہ راست منسلک نہیں بلکہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق ہے
اسلام آباد میں سیاسی تجزیہ کار موجودہ مذاکرات کو صرف لانگ مارچ روکنے کا معاملہ نہیں سمجھ رہے بلکہ اسے ملک کے وسیع تر سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے بھی اہم قرار دے رہے ہیں،ان حلقوں کے مطابق اگر عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں، خواہ پہلے ہسپتال اور بعد ازاں کسی دوسری جگہ منتقل کیے جائیں، تو اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال موجودہ حکومت، اپوزیشن اور طاقت کے مراکز کے درمیان توازن پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی رہائی یا طویل عرصے کے بعد ان کی عوامی سطح پر دوبارہ موجودگی تحریک انصاف کے سیاسی ردعمل کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے،یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں لانگ مارچ کے خاتمے کے بدلے عمران خان سے ملاقات اور ان سے متعلق معاملات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی ہے،تاہم موجودہ مذاکراتی ڈرافٹ میں حکومت کی آئینی مدت، حکومت کی تبدیلی یا کسی نئی قومی حکومت کی تشکیل جیسے بڑے سیاسی سوالات کو شامل کیے جانے کے بارے میں ابھی کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آئی
مذاکرات کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں،حکومتی وفد میں محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، طلال چوہدری اور دیگر رہنما شامل ہیں، جبکہ اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے کے بیانات پر سخت اعتراضات بھی سامنے آئے،حکومت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے لانگ مارچ سے متعلق بیان کو مذاکراتی عمل کے لیے رکاوٹ قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے حکومتی رہنماؤں کے بیانات اور خصوصاً سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھانے ہیں تو اعتماد بحال کرنا ہوگا
اب اصل سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ ختم کرنے کے بدلے تحریری معاہدے میں کیا دیا جاتا ہے؟ بظاہر مذاکرات کا فوری فارمولا لانگ مارچ کا خاتمہ، عمران خان سے ملاقات اور ان سے متعلق بعض اقدامات کے گرد گھوم رہا ہے، لیکن اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اس کے اثرات کو اس سے کہیں وسیع سمجھا جا رہا ہے،اگر عمران خان سے براہ راست ملاقات اور ان کی آئندہ سیاسی حیثیت سے متعلق کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے تو یہ محض ایک احتجاج ختم کرانے کا معاہدہ نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے مستقبل پر اثر انداز ہونے والا فیصلہ بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید