امریکی سیاست کا تنہا ترین شخص، مگر ساتھ ایک پوری فوج، ٹرمپ کے بغیر میگا کی ایک جھلک
سیکرامنٹو: امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سیاست میں کارل ڈی مایو ایک ایسے ریپبلکن رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جنہیں دونوں بڑی جماعتوں میں وسیع حمایت حاصل نہیں، لیکن اس کے باوجود ان کے ساتھ ایک منظم سیاسی کارکنوں اور حامیوں کا نیٹ ورک موجود ہے،پولیٹیکو کے مطابق ڈی مایو کی سیاست میں ٹرمپ کے بغیر میگا تحریک کے بعض پہلوؤں کی جھلک دکھائی دیتی ہے
اپریل 2025 میں، کیلیفورنیا کے ریاستی اسمبلی رکن کی حیثیت سے اپنی پہلی مدت کے صرف چار ماہ بعد، 52 سالہ ڈی مایو نے سیکرامنٹو کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اسمبلی کی کمیٹی کے سامنے اپنی ایک تجویز پیش کرتے ہوئے ساتھی قانون سازوں پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کے لیے ایک “کینسر” کو فروغ دے رہے ہیں
یہ ان کی پہلی کمیٹی سماعتوں میں سے ایک تھی اور انہیں اپنے اہم سیاسی ایجنڈے میں شامل ایک معاملہ ساتھی ارکان کے سامنے رکھنے کا موقع ملا تھا،ریپبلکن قانون ساز نے ووٹنگ کے لیے سرکاری شناختی دستاویز لازمی قرار دینے کی تجویز کو انتخابات کی شفافیت اور سالمیت یقینی بنانے کے لیے ایک عام فہم اور غیر جماعتی اصلاح قرار دیا
ڈی مایو کا مؤقف تھا کہ کسی امریکی شہری کو ملک کے جمہوری نظام کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہیے،ووٹر شناخت کا معاملہ تقریباً دو دہائیوں سے امریکی ریپبلکن سیاست کے اہم موضوعات میں شامل رہا ہے، تاہم ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی میں اس بل کی منظوری کے امکانات بہت کم تھے
سماعت بھی ڈی مایو کے لیے آسان ثابت نہیں ہوئی،ان کی بریفنگ سننے کے بعد سانتا کروز سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن گیل پیلرین نے ان سے سوال کیا کہ اگر انہیں انتخابی عمل پر اعتماد نہیں تو پھر وہ اس عمل کا حصہ کیوں ہیں
پولیٹیکو کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق ڈی مایو کی سیاسی تنہائی کے باوجود ان کا اثر و رسوخ روایتی جماعتی ڈھانچے سے باہر ایک ایسے حلقے میں بڑھ رہا ہے جو انتخابات، حکومتی احتساب اور قدامت پسند اصلاحات جیسے موضوعات پر متحرک ہے،ان کی سیاست اس بات کی مثال بھی پیش کرتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی کے بغیر بھی میگا سیاست سے وابستہ بعض سیاسی تصورات کس طرح مقامی سطح پر جگہ بنا سکتے ہیں






