مقتول کی اے آئی ویڈیو عدالت میں چلانا مہنگا پڑ گیا، امریکی روڈ ریج قاتل کی سزا کالعدم
ایریزونا: امریکی ریاست ایریزونا میں سڑک پر جھگڑے کے دوران ایک شخص کو قتل کرنے والے مجرم کی 10 سال قید کی سزا اس وقت کالعدم قرار دے دی گئی جب اپیل عدالت نے مقتول کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو عدالت میں دکھائے جانے کو قانونی طور پر نامناسب قرار دے دیا
گیبریئل پال ہورکاسیتاس کو 2021 میں ٹریفک سگنل پر جھگڑے کے دوران 37 سالہ کرسٹوفر پیلکی کو گولی مار کر قتل کرنے کے جرم میں جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ بعد ازاں اسے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی
تاہم ہورکاسیتاس کے وکلا نے سزا کے خلاف اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سال سزا سنائے جانے سے قبل عدالت میں مقتول کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو دکھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی،یہ ویڈیو مقتول کے خاندان نے تیار کی تھی
ایریزونا کورٹ آف اپیلز نے اپیل منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ 55 سالہ ہورکاسیتاس کو دوبارہ سزا سنائی جائے گی،عدالت نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو نے قابل قبول حد عبور کرلی تھی
عدالت کے مطابق یہ ویڈیو کسی حقیقی واقعے یا کسی مخصوص لمحے کی ریکارڈنگ نہیں تھی بلکہ مقتول کی بہن کے تصور سے تخلیق کردہ ایسی تصویر تھی جس میں مقتول اور اس کے خیالات کو مصنوعی طور پر پیش کیا گیا
مقتول کی بہن اسٹیسی ویلز نے بی بی سی سے گفتگو میں اس معاملے پر اپنا مؤقف بیان کیا، جبکہ ہورکاسیتاس کی وکیل کرسٹن ریلر نے اپیل دائر کرنے کے بعد تبصرہ کرنے سے انکار کردیا،متاثرین کی جانب سے مقرر وکیل جیسیکا گٹوسو نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا
یہ مقدمہ امریکی عدالتوں میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے استعمال سے متعلق ایک اہم قانونی سوال سامنے لاتا ہے کہ کیا کسی مقتول کی خیالی یا مصنوعی طور پر تخلیق کردہ تصویر اور اس کے مبینہ خیالات کو سزا سناتے وقت جیوری یا جج کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے






