ڈیموکریٹس کی بڑی ہاؤس اکثریت کی حکمت عملی، حکیم جیفریز کو پارٹی کے اندرونی دباؤ سے نکالنے کی کوشش
امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس آئندہ انتخابات میں صرف معمولی اکثریت حاصل کرنے کے بجائے ایک بڑی اکثریت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ اگر حکیم جیفریز اسپیکر بنتے ہیں تو انہیں اپنی ہی پارٹی کے ترقی پسند اور معتدل دھڑوں کے چند ارکان کی مسلسل بلیک میلنگ یا دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے
پولیٹیکو کے مطابق ڈیموکریٹس اب ان انتخابی حلقوں میں بھی بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو روایتی طور پر ریپبلکن کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں،مقصد یہ ہے کہ ایسے حلقے بھی جیتے جائیں جو عام حالات میں ڈیموکریٹس کے لیے مشکل تصور کیے جاتے ہیں اور یوں مستقبل کی پارلیمانی اکثریت میں اضافی نشستیں شامل کی جاسکیں
ایک سینئر ڈیموکریٹ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اگر پارٹی موجودہ اندازوں سے مزید تقریباً 5 نشستوں کا اضافی فرق حاصل کرلے تو یہ ’’گیم چینجر‘‘ ثابت ہوگا،ان کے مطابق بڑی اکثریت حکیم جیفریز کو اسپیکر بننے کے بعد قانون سازی کے معاملات میں پارٹی کے چھوٹے گروپوں کی شرائط ماننے سے کہیں زیادہ آزادی دے گی
مسئلہ یہ ہے کہ اگر اکثریت چند نشستوں تک محدود رہی تو ترقی پسند اور معتدل ڈیموکریٹس کے چھوٹے گروپ بھی اہم قانون سازی روکنے یا قیادت پر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں،ڈیموکریٹک قیادت کے اندر موجود خدشہ یہ ہے کہ معمولی اکثریت میں ہر ووٹ اہم ہوجاتا ہے اور چند ارکان اپنی حمایت کے بدلے سیاسی یا پالیسی رعایتیں حاصل کرسکتے ہیں
اسی لیے پارٹی گہری ریپبلکن نشستوں میں بھی وسائل لگا رہی ہے،ڈیموکریٹس اس حکمت عملی میں موجودہ سیاسی ماحول کو استعمال کرتے ہوئے صرف وہ نشستیں واپس لینے کی کوشش نہیں کر رہے جو پہلے ہی مقابلے میں ہیں بلکہ ایسی اضافی نشستوں کو بھی ہدف بنا رہے ہیں جنہیں جیتنے سے ایوان میں ان کی اکثریت کا حجم نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے
یہ حکمت عملی حکیم جیفریز کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسپیکر کے طور پر ان کی طاقت صرف ڈیموکریٹس کے ریپبلکنز پر عددی برتری سے نہیں بلکہ اپنی پارٹی کے اندر موجود اکثریت کی وسعت سے بھی طے ہوگی،جتنی بڑی اکثریت ہوگی، اتنا ہی کم امکان ہوگا کہ چند ترقی پسند یا معتدل ارکان کسی بڑے قانون سازی کے معاملے پر پوری پارٹی قیادت کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرسکیں
تاہم یہ ابھی انتخابی حکمت عملی ہے، نتیجہ نہیں،پولیٹیکو کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت موجودہ انتخابی ماحول کو استعمال کرکے ایک ایسی بڑی ہاؤس اکثریت بنانے کی کوشش کر رہی ہے جو حکیم جیفریز کو اسپیکر کی حیثیت سے پارٹی کے اندر زیادہ سیاسی گنجائش فراہم کرے





