اسرائیل پالیسی پر ڈیموکریٹس میں بڑھتی تقسیم، پارٹی کے لیے نیا امریکی فریم ورک پیش
امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور غزہ جنگ کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تقسیم کے درمیان ایک بااثر ڈیموکریٹک حامی اسرائیل گروپ نے پارٹی کے لیے نئی پالیسی سمت تجویز کر دی ہے۔ Democratic Majority for Israel کے جاری کردہ فریم ورک میں امریکہ سے اسرائیل کو سکیورٹی اور فوجی امداد جاری رکھنے کی حمایت کی گئی ہے، تاہم ساتھ ہی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے مذاکرات کے ذریعے ریاستی حل اور ایسے مستقبل کی حمایت کی گئی ہے جس میں غزہ کا انتظام حماس کے پاس نہ ہو
فریم ورک کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں اسرائیل کی حمایت کو اسرائیلی حکومت کے ہر فیصلے کی حمایت کے مترادف قرار نہیں دیا گیا،دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری نہیں کہ اسرائیلی حکومت کے ہر فیصلے کی حمایت کی جائے، جبکہ اسرائیل سے آبادکاروں کی دھمکیوں، خوف زدگی اور تشدد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے
یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے بارے میں پالیسی اختلاف نمایاں طور پر بڑھا ہے،حالیہ پرائمری انتخابات میں نیویارک اور مشی گن سمیت مختلف ریاستوں میں بعض ڈیموکریٹک امیدواروں کو ایسی حمایت ملی جو اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد ختم کرنے کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں،یوں پارٹی کے اندر ایک طرف روایتی طور پر اسرائیل کی سکیورٹی کی مضبوط حمایت موجود ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے ڈیموکریٹس کی آواز بڑھ رہی ہے جو امریکی امداد کو اسرائیلی پالیسیوں سے مشروط کرنے یا ختم کرنے کی بات کرتے ہیں
فریم ورک میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ فوجی امداد کا تعلق مستقبل میں تبدیل ہو سکتا ہے، تاہم تبدیلی امریکہ اور اسرائیل کی باہمی رضامندی سے ہونی چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت اور باہمی حکمتی مفادات پر زیادہ مرکوز کیا جا سکتا ہے،سابق امریکی سفیر برائے اسرائیل ڈینیئل شاپیرو نے تسلیم کیا کہ اس معاملے پر ڈیموکریٹس میں شدید اختلافات موجود ہیں، تاہم ان کے مطابق فریم ورک میں ایسے نکات بھی ہیں جن سے پارٹی کے بہت سے ارکان اتفاق کر سکتے ہیں
اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات کے بعد کانگریس میں آنے والے نئے ڈیموکریٹک ارکان اسرائیل اور غزہ کے بارے میں پارٹی کی پالیسی بحث پر اثر انداز ہو سکتے ہیں،یوں یہ معاملہ صرف موجودہ امریکی اسرائیل پالیسی تک محدود نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی آئندہ انتخابی اور خارجہ پالیسی سمت کے لیے بھی ایک اہم اختلافی موضوع بنتا جا رہا ہے





