پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی، طالبان حکومت کے سامنے امن اور تعاون کے چیلنجز
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کئی دہائیوں سے بداعتمادی، سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور تشدد کے واقعات کا شکار ہیں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی اسی تاریخی پس منظر کا تسلسل ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی اور افغان طالبان حکومت کی پالیسیوں کے باعث تعلقات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں خرابی کی تاریخ 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد سے شروع ہوتی ہے افغانستان نے پاکستان کے قیام کے بعد سرحدی معاملات اور پشتون علاقوں سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا، جبکہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مستحکم اور دوستانہ تعلقات کو اپنی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کے نتیجے میں مختلف ادوار میں سیاسی اور عسکری کشیدگی پیدا ہوتی رہی
افغانستان میں سوویت یونین کی 1979 میں فوجی مداخلت کے بعد خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی پاکستان نے امریکہ اور دیگر ممالک کے تعاون سے سوویت افواج کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی اس جنگ کے دوران افغانستان کے مختلف نسلی اور سیاسی گروہوں کے درمیان اختلافات بھی گہرے ہوئے، جبکہ پاکستان کی پالیسیوں کے باعث افغان معاشرے کے بعض حلقوں میں اس کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوا
1989 میں سوویت افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں مختلف گروہوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ 1996 میں طالبان نے کابل پر قبضہ کرکے حکومت قائم کرلی پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کیے، تاہم افغانستان میں مختلف نسلی گروہوں اور سیاسی دھڑوں کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر پاکستان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا
2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ اگلے 2 عشروں کے دوران افغان حکومتوں اور مغربی ممالک نے پاکستان پر طالبان کی حمایت کے الزامات عائد کیے، جنہیں پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کے حق میں ٹھوس شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اس دوران پاکستان کو بھی دہشت گردی کے متعدد واقعات اور جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا
2021 میں امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے دوبارہ افغانستان کا اقتدار سنبھال لیا، تاہم اس تبدیلی سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری کی توقعات پوری نہ ہوسکیں پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہورہی ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے
پاکستان کو خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں پر تشویش ہے پاکستان کے مطابق اس تنظیم کے جنگجو افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے اس کے برعکس افغان طالبان حکومت سرحدی صورتحال اور دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی مشکلات کا اظہار کرتی رہی ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی انتظامات اور تجارتی معاملات بھی کشیدگی کی اہم وجوہات ہیں پاکستان سرحد پر آمدورفت کی نگرانی، دستاویزات کی جانچ اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے اقدامات چاہتا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت سرحد پر نقل و حرکت اور افغان تجارتی سامان کی ترسیل میں آسانی کی خواہاں ہے ان اختلافات نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور عوامی آمدورفت کو بھی متاثر کیا ہے
رپورٹ میں افغانستان کے شمالی علاقوں میں آباد نسلی گروہوں اور پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ماضی میں پاکستان کے بعض افغان دھڑوں کی حمایت کے باعث شمالی افغانستان کے کئی حلقوں میں پاکستان کے بارے میں تحفظات پیدا ہوئے تھے، جبکہ حالیہ برسوں میں ان علاقوں کے بعض حلقوں نے پاکستان کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہےدوسری جانب افغان طالبان حکومت کے پشتون علاقوں میں بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط بھی علاقائی صورتحال کا حصہ ہیں
افغانستان کی تاریخ میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت، قبائلی اختلافات، نسلی تقسیم اور مسلسل جنگوں نے ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ 1839 کی پہلی افغان جنگ سے لے کر سوویت مداخلت اور امریکہ کی قیادت میں جنگ تک افغانستان مختلف عالمی طاقتوں کے مفادات کی کشمکش کا مرکز رہا ہے ان جنگوں کے باعث لاکھوں افغان شہری متاثر ہوئے اور ملک کی تعمیر نو ایک بڑا چیلنج بن گئی
پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت کو سرحدی انتظامات، تجارتی سہولتوں اور دہشت گرد تنظیموں سے متعلق معاملات پر مختلف تجاویز بھی دی گئی ہیں ان میں سرحدی نگرانی کے باہمی نظام، تجارتی حجم میں اضافے اور دونوں ممالک کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کے لیے اقدامات شامل ہیں تاہم سفارتی، سیاسی اور عسکری سطح پر ہونے والی بات چیت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں
پاکستان میں بعض سیاسی حلقے افغانستان کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے عسکری کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور سفارتی روابط کو ترجیح دینے کے حامی ہیں ان کا مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی سرحدی آبادی، تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہیں
افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم چیلنج طالبان حکومت میں سیاسی شمولیت، خواتین کے حقوق، اعتدال پسند طرز حکمرانی اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہے افغانستان کو عالمی معاشی اور مالیاتی نظام سے منسلک کرنے کے لیے داخلی سیاسی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر قابل قبول پالیسیوں کی ضرورت ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کی روک تھام، سرحدی انتظامات، تجارت اور سفارتی روابط پر اتفاق رائے ضروری ہے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی نہ صرف ان کی معیشتوں بلکہ پورے خطے کے امن اور استحکام کو بھی متاثر کرسکتی ہے افغانستان میں پائیدار امن اور پاکستان کے ساتھ مستحکم تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ افغان طالبان حکومت ایک مسلح تحریک سے ذمہ دار حکومتی نظام کی جانب کس حد تک پیش رفت کرتی ہے





