اونٹاریو کے نجی صحت کے منصوبے پر اربوں ڈالر کے اخراجات اور بڑھتے دباؤ پر سوالات
اونٹاریو میں ڈگ فورڈ حکومت کی صحت کے شعبے میں نجی اداروں کے بڑھتے کردار کے منصوبے پر اخراجات، سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال اور مریضوں کے لیے ممکنہ اثرات کے حوالے سے بحث جاری ہے اس معاملے پر مختلف ماہرین اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں کی آرا ایک جیسی نہیں ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کو شامل کرنے کا مقصد مریضوں کے انتظار کا وقت کم کرنا اور علاج کی سہولتیں بڑھانا ہے
اونٹاریو کے مالیاتی احتساب دفتر کے مطابق صوبائی حکومت نے 2026 کے بجٹ میں صحت کے شعبے کے اخراجات 2025 سے 2026 میں 97.1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 2028 سے 2029 تک 106.7 ارب ڈالر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم دفتر کے حساب کے مطابق آبادی میں اضافے، عمر رسیدہ آبادی اور طبی خدمات کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھا جائے تو 2027 سے 2028 میں تقریباً 2 ارب ڈالر اور 2028 سے 2029 میں 3.8 ارب ڈالر کی ممکنہ کمی پیدا ہو سکتی ہے
صحت کے شعبے میں نجی کلینکس کو عوامی فنڈز فراہم کرنے کی پالیسی بھی بحث کا اہم حصہ بن چکی ہے اونٹاریو ہیلتھ کولیشن کے مطابق حکومت نے حالیہ منصوبوں میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور اینڈوسکوپی کی نجی کلینکس کے لیے 155 ملین ڈالر جبکہ نجی آرتھوپیڈک کلینکس کے لیے 125 ملین ڈالر مختص کیے ہیں یہ اعداد و شمار ہیلتھ کولیشن کے تجزیے سے متعلق ہیں، جبکہ حکومت نجی مراکز کو سرکاری نظام کے اندر مریضوں کی اضافی سہولت اور انتظار کم کرنے کے لیے استعمال کرنے کا مؤقف رکھتی ہے
صوبائی حکومت کے مطابق نجی مراکز میں فراہم کی جانے والی خدمات کے لیے مریضوں سے بنیادی طبی علاج کی فیس نہیں لی جانی چاہیے اور حکومت کا مقصد ایسے مراکز کے ذریعے سرکاری نظام کی گنجائش بڑھانا ہے دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری رقم کو نجی اداروں کی طرف منتقل کرنے سے سرکاری ہسپتالوں کو درکار وسائل متاثر ہو سکتے ہیں
اونٹاریو کی قانون ساز اسمبلی میں بھی اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف سامنے آ چکا ہے حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 سال کے دوران سرکاری ہسپتالوں کے لیے سالانہ تقریباً 1.1 ارب ڈالر اضافی فنڈنگ فراہم کی گئی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں نجی کلینکس کے لیے سرکاری رقم مختص کرنے پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں
اونٹاریو کے مالیاتی احتساب دفتر نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں مستقبل کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت کو یا تو خدمات فراہم کرنے میں کارکردگی بہتر بنانا ہوگی یا مستقبل کے بجٹ میں مزید رقم مختص کرنا ہوگی رپورٹ میں کسی مخصوص پالیسی کی حمایت یا مخالفت کی سفارش نہیں کی گئی
اس معاملے میں اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ صحت کی سہولتیں بڑھانے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں مزید سرمایہ کاری کی جائے یا سرکاری فنڈنگ کے ساتھ نجی مراکز کو بھی زیادہ خدمات فراہم کرنے کا موقع دیا جائے حکومت اسے انتظار کم کرنے اور اضافی گنجائش پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے، جبکہ ناقدین نجی شعبے کو بڑھتے ہوئے عوامی فنڈز اور سرکاری ہسپتالوں پر ممکنہ اثرات پر توجہ دلاتے ہیں





