12 یہودی اساتذہ نے اونٹاریو کے 4 اسکول بورڈز اور 2 ٹیچر یونینز کے خلاف انسانی حقوق کی شکایات دائر کر دیں
اونٹاریو کے 12 یہودی اساتذہ نے صوبے کے 4 اسکول بورڈز اور 2 بڑی ٹیچر یونینز کے خلاف انسانی حقوق کی شکایات دائر کی ہیں اساتذہ کا الزام ہے کہ اسکول بورڈز اور یونینز نے تعلیمی اداروں میں یہود مخالف رویوں اور امتیازی سلوک کی شکایات کو مناسب طور پر نہیں نمٹایا
شکایات ہیومن رائٹس ٹربیونل آف اونٹاریو میں دائر کی گئی ہیں جن اسکول بورڈز کو شکایات میں نامزد کیا گیا ہے ان میں ٹورنٹو ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ، یارک ریجن ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ، سیمکو کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ اور اوٹاوا کارلٹن ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ شامل ہیں اس کے علاوہ ایلیمنٹری ٹیچرز فیڈریشن آف اونٹاریو اور اونٹاریو سیکنڈری اسکول ٹیچرز فیڈریشن کو بھی فریق بنایا گیا ہے
اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہود مخالف امتیاز کو صرف مذہبی بنیادوں تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہودی افراد کو نسل، خاندانی پس منظر، نسلی شناخت اور شہریت کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے واقعات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ان کے مطابق موجودہ طریقہ کار میں ایسے کئی واقعات کو مناسب طور پر درج یا تسلیم نہیں کیا جاتا
اساتذہ کی نمائندگی کرنے والی وکیل کیتھرین مارشل کے مطابق بعض اساتذہ نے کلاس رومز میں سواستیکا بنائے جانے، اسرائیلی پرچموں کو نقصان پہنچانے اور یہودی علامات ہٹائے جانے کے واقعات کی شکایات کیں ان کا کہنا ہے کہ بعض اساتذہ کو مبینہ طور پر یونین یا اسکول انتظامیہ کے سامنے آواز اٹھانے کے بعد مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا یہ تمام الزامات ابھی ہیومن رائٹس ٹربیونل کے سامنے زیر غور ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا
ہر درخواست گزار استاد نے وقار، جذبات اور عزت نفس کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کے ازالے کے لیے 150,000 ڈالر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے اس کے علاوہ کونسلنگ کے لیے مالی معاونت اور اسکول بورڈز اور یونینز میں یہود مخالف اور صیہونیت مخالف رویوں سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیاں بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے
اساتذہ نے ایک ایسے پینل کے قیام کی درخواست بھی کی ہے جس میں کم از کم 50 فیصد یہودی نمائندگی ہو اور جس کے ارکان کو انسانی حقوق، یہود مخالف تعصب اور صیہونیت مخالف رویوں کے بارے میں مہارت حاصل ہو
ٹورنٹو ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ نے کہا ہے کہ وہ جاری قانونی کارروائی پر تبصرہ نہیں کرے گا اور مخصوص الزامات کا جواب ہیومن رائٹس ٹربیونل کے عمل کے ذریعے دے گا۔ بورڈ نے تاہم کہا کہ اسکولوں میں یہود مخالف تعصب سمیت نفرت کی تمام شکایات کی تحقیقات کی جاتی ہیں اور ایسے رویوں کی تعلیمی اداروں میں کوئی جگہ نہیں ایلیمنٹری ٹیچرز فیڈریشن آف اونٹاریو نے بھی جاری قانونی کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے
یہ شکایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اونٹاریو کے اسکولوں میں یہود مخالف واقعات کے بارے میں پہلے ہی تشویش موجود ہے کینیڈا کے خصوصی ایلچی کے دفتر کی جانب سے جاری 2025 کی ایک تحقیق میں 599 یہودی والدین کی جانب سے رپورٹ کیے گئے 781 واقعات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق تقریباً نصف واقعات کی اسکول انتظامیہ نے تحقیقات نہیں کیں، جبکہ ایک تہائی سے بھی کم معاملات میں کونسلنگ، تادیبی کارروائی یا دیگر اقدامات کیے گئے
ہیومن رائٹس ٹربیونل آف اونٹاریو میں دائر درخواستوں پر پہلے لازمی ثالثی کا عمل ہوگا اگر فریقین کے درمیان معاملہ طے نہ ہو سکا تو کیس باقاعدہ سماعت کے لیے جا سکتا ہے، تاہم ٹربیونل کے مطابق زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد کے باعث سماعت میں کافی وقت لگ سکتا ہے





