Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ڈزنی ورلڈ نے زیرِ زمین نظام کا ایسا حل نکال لیا جو امریکا کے 83 ارب ڈالر سالانہ نقصان کو کم کر سکتا ہے

ڈزنی ورلڈ نے زیرِ زمین نظام کا ایسا حل نکال لیا جو امریکا کے 83 ارب ڈالر سالانہ نقصان کو کم کر سکتا ہے

امریکا کے شہروں کے نیچے بجلی، گیس، پانی، سیوریج اور انٹرنیٹ کی تاروں اور پائپوں کا ایسا پیچیدہ جال بچھا ہوا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران معمولی سی غلطی بھی بڑے حادثے اور اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے،لیکن ڈزنی ورلڈ نے کئی دہائیاں پہلے اس مسئلے کا ایک ایسا حل اختیار کیا جو اب امریکی شہروں کے لیے مثال بن رہا ہے
فلوریڈا کے ڈزنی ورلڈ میں میجک کنگڈم کے نیچے ایک وسیع زیرِ زمین سرنگوں کا نظام موجود ہے جسے “یوٹیلی ڈورز” کہا جاتا ہے،ان سرنگوں میں بجلی، پانی، مواصلاتی نظام اور دیگر سہولیات کی لائنیں زمین میں بے ترتیب دفن کرنے کے بجائے باقاعدہ راستوں میں نصب کی گئی ہیں،اس نظام کی وجہ سے لائنوں کی نگرانی، نقشہ بندی اور مرمت نسبتاً آسان ہے اور کسی نئی تعمیر کے دوران غلطی سے گیس پائپ یا مواصلاتی کیبل کاٹنے کا خطرہ بہت کم ہوجاتا ہے
امریکا میں اس کے برعکس ہر سال تقریباً 700,000 مرتبہ زیرِ زمین سہولیات کو نقصان پہنچنے کے واقعات پیش آتے ہیں، یعنی اوسطاً ہر 47 سیکنڈ میں ایک واقعہ،Common Ground Alliance کے مطابق ان حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی رکاوٹوں کی سالانہ لاگت تقریباً 83.2 ارب ڈالر ہے،بعض واقعات میں بجلی یا مواصلاتی نظام بند ہوجاتا ہے، تعمیراتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور گیس لائنوں کو نقصان پہنچنے سے جان لیوا دھماکے بھی ہوچکے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شہر کے تمام موجودہ نظام کو ایک ساتھ زیرِ زمین سرنگوں میں منتقل کرنا انتہائی مہنگا ہوگا، لیکن جہاں بار بار سڑکیں کھودی جاتی ہیں وہاں مرحلہ وار “یوٹیلیٹی کوریڈورز” بنائے جاسکتے ہیں،نیویارک یونیورسٹی کی ایک ماہر کے مطابق بعض علاقوں میں ابتدائی لاگت عام زیرِ زمین تنصیب سے تقریباً دو گنا ہوسکتی ہے، لیکن طویل مدت میں بار بار سڑکیں کھودنے اور مرمت کے اخراجات کم ہونے سے یہ سرمایہ کاری پوری ہوسکتی ہے
اس مسئلے کا دوسرا حل زیرِ زمین لائنوں کی جدید نقشہ بندی ہے،نیویارک میں زیرِ زمین یوٹیلیٹی نظام کی تھری ڈی نقشہ بندی کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جبکہ برطانیہ اور سنگاپور میں ڈیجیٹل نقشہ بندی اور مربوط یوٹیلیٹی نظام کے ذریعے حادثات اور تعمیراتی رکاوٹوں کو کم کرنے کے تجربات کیے جا رہے ہیں
یوں ڈزنی ورلڈ کا “یوٹیلی ڈور” ماڈل محض ایک تفریحی پارک کا منفرد انتظام نہیں رہا بلکہ امریکی شہروں کے ایک بڑے بنیادی ڈھانچے کے مسئلے کے ممکنہ حل کی مثال بن گیا ہے،البتہ 83.2 ارب ڈالر پورا کا پورا بچایا جاسکتا ہے، یہ ثابت شدہ پیش گوئی نہیں بلکہ موجودہ سالانہ نقصان کا تخمینہ ہے؛ اصل بچت اس بات پر منحصر ہوگی کہ امریکا کہاں اور کس پیمانے پر یہ نظام اختیار کرتا ہے

قومی خبریں سے مزید