Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی تارکینِ وطن حراست پالیسی کا بڑا امتحان، لاکھوں افراد کا معاملہ عدالت عظمیٰ پہنچ گیا

سپریم کورٹ میں ٹرمپ کی تارکینِ وطن حراست پالیسی کا بڑا امتحان، لاکھوں افراد کا معاملہ عدالت عظمیٰ پہنچ گیا

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اس متنازعہ امیگریشن پالیسی کو چیلنج کرنے والے مقدمے کی سماعت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جس کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدری کی کارروائی مکمل ہونے تک لازمی طور پر حراست میں رکھا جا سکتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ پالیسی جولائی 2025 میں نافذ کی تھی اور اسے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے منصوبے کا اہم حصہ قرار دیا گیا،پالیسی کے تحت ایسے تارکین وطن جن کے خلاف ملک بدری کی کارروائی جاری ہو، مخصوص حالات میں حکام کو انہیں ضمانت یا دیگر متبادل انتظام کے بجائے لازمی حراست میں رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے
اس پالیسی کو متعدد تارکین وطن، انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلا نے عدالتوں میں چیلنج کیا،سیکڑوں وفاقی ججوں نے مختلف مقدمات میں انتظامیہ کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا، جبکہ وفاقی اپیل عدالتوں کے درمیان بھی اس معاملے پر اختلاف پیدا ہو گیا،اسی قانونی تقسیم کے باعث اب معاملہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت تک پہنچا ہے
یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ انتظامیہ ملک بدری کے منتظر تارکین وطن کی حراست کو کس حد تک لازمی بنا سکتی ہے،اگر عدالت پالیسی کو برقرار رکھتی ہے تو انتظامیہ کے لیے امیگریشن حراست کا دائرہ وسیع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ اسے غیر قانونی قرار دینے کی صورت میں حکومت کو اپنی موجودہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں
ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پہلے ہی متعدد عدالتی محاذوں پر زیرِ سماعت ہے،ان کی انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن روکنے اور بڑے پیمانے پر ملک بدری کے لیے گرفتاریوں، حراست اور ملک بدری کے طریقہ کار کو سخت کیا ہے،لازمی حراست کا معاملہ اسی وسیع تر پالیسی کا ایک اہم قانونی جزو ہے
سپریم کورٹ کی طرف سے مقدمہ قبول کیے جانے کے بعد اب اصل توجہ اس سوال پر ہوگی کہ وفاقی امیگریشن قوانین انتظامیہ کو ملک بدری کی کارروائی کے دوران تارکین وطن کی لازمی حراست کا کتنا اختیار دیتے ہیں،یہ فیصلہ نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ امیگریشن حکمت عملی بلکہ امریکہ میں لاکھوں تارکین وطن کی قانونی صورتحال پر بھی براہ راست اثر ڈال سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید