Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چونکا دینے والا عدالتی فیصلہ: ٹرمپ انتظامیہ کو ریفلیکٹنگ پول مقدمے میں بڑا دھچکا، عدالت نے کیس ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا

چونکا دینے والا عدالتی فیصلہ: ٹرمپ انتظامیہ کو ریفلیکٹنگ پول مقدمے میں بڑا دھچکا، عدالت نے کیس ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا

واشنگٹن کی ایک عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نیشنل مال کے ریفلیکٹنگ پول کو نقصان پہنچانے کے الزام میں سابق اولمپک کینو ایتھلیٹ ڈیوڈ ہرن کے خلاف قائم فوجداری مقدمہ مستقل طور پر خارج کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت اسی شواہد کی بنیاد پر انہیں دوبارہ فردِ جرم عائد نہیں کر سکے گی
سپیریئر کورٹ کے جج ٹوڈ ایڈلمین نے مقدمہ اس طریقے سے خارج کیا جسے قانونی اصطلاح میں “with prejudice” کہا جاتا ہے،جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہرن کو دوبارہ مقدمے کا سامنا کرنے کا خطرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے محکمہ انصاف کے حکام پر مبینہ سیاسی دباؤ کے باعث موجود تھا
ہرن پر جولائی میں واشنگٹن کی امریکی اٹارنی جینین پیرو نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی،عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کی جانب سے مستقبل میں مزید شواہد سامنے آنے کی امید عملی طور پر محض ایک نظری امکان ہے
جج ایڈلمین نے کہا کہ حکومت کے اپنے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں مقدمہ چلانے کے لیے نئے شواہد ملنے کا امکان انتہائی کم بلکہ تقریباً خیالی ہے،یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اور قانونی دھچکا ہے، خصوصاً اس لیے کہ صدر ٹرمپ اس مقدمے کو آگے بڑھانے پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں

قومی خبریں سے مزید