مراکش میں پہلی خاتون وزیرِاعظم، بادشاہ کے مضبوط نظام میں نئی سیاسی تبدیلی نے دنیا کی توجہ کھینچ لی
رباط: مراکش نے اپنی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب کھولتے ہوئے 50 سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم مقرر کردیا ہے،بادشاہ محمد ششم نے 29 ستمبر کو شاہی محل میں ان سے ملاقات کے بعد انہیں حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی،المنصوری کی تقرری 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ہوئی، جن میں ان کی جماعت ’’آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی‘‘ (PAM) نے 395 رکنی ایوانِ نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کیا
فاطمہ الزہرا المنصوری کی عمر 50 سال ہے۔ وہ 3 جنوری 1976 کو مراکش کے شہر مراکش میں پیدا ہوئیں،انہوں نے محمد پنجم یونیورسٹی رباط سے قانون کی تعلیم حاصل کی، فرانس کی یونیورسٹی آف مونٹ پلیئر سے کاروباری معاہدوں کے قانون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نیویارک کی پیس یونیورسٹی سے اینگلو امریکن بزنس لا کی تعلیم حاصل کی،سیاست میں آنے سے پہلے وہ جائیداد اور تجارتی معاملات کی وکیل رہی ہیں
ان کا سیاسی سفر بھی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھا،2008 میں PAM کے قیام کے ساتھ ہی وہ اس جماعت سے وابستہ ہوئیں اور صرف ایک سال بعد 2009 میں 33 برس کی عمر میں مراکش شہر کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوئیں،بعد ازاں وہ پارلیمنٹ کی رکن بنیں اور 2011 سے 2021 تک دو مسلسل ادوار ایوانِ نمائندگان میں رہیں،2021 کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ مراکش کی میئر بنیں اور اسی سال اکتوبر میں بادشاہ نے انہیں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری ترقی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر مقرر کیا،2024 میں وہ PAM کی اجتماعی قیادت کی رابطہ کار بنیں اور 2026 کے انتخابی مرحلے میں جماعت کی مرکزی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئیں
المنصوری کا تعلق مراکش کے ایک بااثر خاندان سے ہے،ان کے والد عبد الرحمان المنصوری مراکش کے سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور متحدہ عرب امارات میں مراکش کے سفیر بھی رہے،خود PAM کی بنیاد 2008 میں فواد علی الہمہ نے رکھی تھی، جو بادشاہ محمد ششم کے قریبی اور بااثر مشیر رہ چکے ہیں،اسی وجہ سے المنصوری کی سیاسی شناخت صرف ایک روایتی جماعتی سیاست دان کی نہیں بلکہ مراکش کے شاہی سیاسی نظام کے اندر ابھرنے والی ایک اہم شخصیت کی بھی ہے
مراکش کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ ملک محض ایک عام پارلیمانی جمہوریت نہیں بلکہ آئینی بادشاہت ہے،2011 کے آئین کے تحت بادشاہ کو ایوانِ نمائندگان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے حکومت کا سربراہ مقرر کرنا ہوتا ہے،موجودہ صورت حال میں یہی جماعت PAM ہے۔ لیکن خارجہ پالیسی، دفاع اور مذہبی معاملات سمیت ریاست کے کئی بنیادی شعبوں میں بادشاہ کا کردار انتہائی اہم اور مضبوط ہے،آئین بادشاہ کو ریاست کا سربراہ، مسلح افواج کا کمانڈر اور مذہبی معاملات میں امیرالمؤمنین قرار دیتا ہے
یہی وجہ ہے کہ المنصوری کی آمد کو صرف ’’ایک خاتون کا وزیرِاعظم بننا‘‘ سمجھنا مراکش کی موجودہ سیاست کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا،اصل سیاسی تبدیلی یہ ہے کہ پہلی مرتبہ PAM پارلیمانی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے،اس سے پہلے 2021 سے حکومت نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (RNI) کے سربراہ عزیز اخنوش کی قیادت میں تھی، جس کے ساتھ PAM اور استقلال پارٹی بھی حکومت میں شامل تھیں،2026 کے انتخابات میں PAM نے 97 نشستیں حاصل کیں، جبکہ RNI کو 66 اور استقلال پارٹی کو 65 نشستیں ملیں
تاہم المنصوری کے سامنے فوری مسئلہ حکومت بنانا ہے، کیونکہ 395 رکنی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 198 نشستیں درکار ہیں اور PAM کے پاس صرف 97 نشستیں ہیں،انہیں دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا،RNI اور استقلال دونوں ممکنہ اتحادی ہیں، اگرچہ انتخابی مہم میں PAM اور RNI کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ رہا،دوسری طرف اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی، جو 2011 سے 2021 تک حکومت میں رہی تھی، 54 نشستوں کے ساتھ واپس آئی ہے مگر اس نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا اعلان کیا ہے
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب مراکش کو نوجوانوں کی بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم کی سہولتوں اور علاقائی عدم مساوات کے مسائل کا سامنا ہے،2025 میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاج بھی ہوئے تھے جن میں سرکاری ہسپتالوں، تعلیم اور روزگار کی صورتحال پر شدید ناراضگی سامنے آئی،تازہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 38 فیصد رہی، جو 2021 کے تقریباً 50 فیصد سے نمایاں کم ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ المنصوری کو تاریخی منصب ملنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے میں حکومت چلانی ہے جہاں سیاسی نظام سے نوجوانوں کی وابستگی اور اعتماد کے سوالات بھی موجود ہیں
ان کی حکومت کے سامنے ایک اور بڑا امتحان 2030 کا فٹبال ورلڈ کپ ہے، جس کی میزبانی مراکش اسپین اور پرتگال کے ساتھ کرے گا،انفراسٹرکچر، روزگار، سرمایہ کاری اور شہری سہولتوں پر اربوں ڈالر خرچ ہونے ہیں،اسی کے ساتھ المنصوری کی جماعت نے آئندہ برسوں میں 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے،اس وعدے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ نوجوانوں کی بے روزگاری پہلے ہی مراکش کے سیاسی مباحث کا مرکزی مسئلہ بن چکی ہے
یوں فاطمہ الزہرا المنصوری کا اقتدار میں آنا مراکش میں ایک بیک وقت علامتی اور سیاسی تبدیلی ہے،ایک طرف ایک 50 سالہ خاتون، وکیل، سابق میئر اور سابق وزیر پہلی مرتبہ حکومت کی سربراہی کر رہی ہیں، دوسری طرف انہیں ایک ایسے شاہی نظام کے اندر حکومت بنانا ہے جہاں بادشاہ کے آئینی اور عملی اختیارات بہت وسیع ہیں،ان کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ مراکش کو پہلی خاتون وزیرِاعظم مل گئی، بلکہ یہ ہے کہ وہ شاہی نظام، مخلوط جماعتی پارلیمنٹ، نوجوانوں کی معاشی بے چینی اور 2030 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے درمیان اپنی حکومت کے لیے ایک قابلِ عمل سیاسی اتحاد اور معاشی پروگرام کس طرح تشکیل دیتی ہیں
مراکش میں پہلی خاتون وزیرِاعظم، بادشاہ کے مضبوط نظام میں نئی سیاسی تبدیلی نے دنیا کی توجہ کھینچ لی
رباط: مراکش نے اپنی سیاسی تاریخ کا ایک نیا باب کھولتے ہوئے 50 سالہ فاطمہ الزہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم مقرر کردیا ہے،بادشاہ محمد ششم نے 29 ستمبر کو شاہی محل میں ان سے ملاقات کے بعد انہیں حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی،المنصوری کی تقرری 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں ہوئی، جن میں ان کی جماعت ’’آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی‘‘ (PAM) نے 395 رکنی ایوانِ نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت کا اعزاز حاصل کیا
فاطمہ الزہرا المنصوری کی عمر 50 سال ہے۔ وہ 3 جنوری 1976 کو مراکش کے شہر مراکش میں پیدا ہوئیں،انہوں نے محمد پنجم یونیورسٹی رباط سے قانون کی تعلیم حاصل کی، فرانس کی یونیورسٹی آف مونٹ پلیئر سے کاروباری معاہدوں کے قانون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور نیویارک کی پیس یونیورسٹی سے اینگلو امریکن بزنس لا کی تعلیم حاصل کی،سیاست میں آنے سے پہلے وہ جائیداد اور تجارتی معاملات کی وکیل رہی ہیں
ان کا سیاسی سفر بھی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھا،2008 میں PAM کے قیام کے ساتھ ہی وہ اس جماعت سے وابستہ ہوئیں اور صرف ایک سال بعد 2009 میں 33 برس کی عمر میں مراکش شہر کی پہلی خاتون میئر منتخب ہوئیں،بعد ازاں وہ پارلیمنٹ کی رکن بنیں اور 2011 سے 2021 تک دو مسلسل ادوار ایوانِ نمائندگان میں رہیں،2021 کے انتخابات کے بعد وہ دوبارہ مراکش کی میئر بنیں اور اسی سال اکتوبر میں بادشاہ نے انہیں قومی علاقائی منصوبہ بندی، شہری ترقی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر مقرر کیا،2024 میں وہ PAM کی اجتماعی قیادت کی رابطہ کار بنیں اور 2026 کے انتخابی مرحلے میں جماعت کی مرکزی سیاسی شخصیت کے طور پر سامنے آئیں
المنصوری کا تعلق مراکش کے ایک بااثر خاندان سے ہے،ان کے والد عبد الرحمان المنصوری مراکش کے سرکاری عہدوں پر فائز رہے اور متحدہ عرب امارات میں مراکش کے سفیر بھی رہے،خود PAM کی بنیاد 2008 میں فواد علی الہمہ نے رکھی تھی، جو بادشاہ محمد ششم کے قریبی اور بااثر مشیر رہ چکے ہیں،اسی وجہ سے المنصوری کی سیاسی شناخت صرف ایک روایتی جماعتی سیاست دان کی نہیں بلکہ مراکش کے شاہی سیاسی نظام کے اندر ابھرنے والی ایک اہم شخصیت کی بھی ہے
مراکش کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ ملک محض ایک عام پارلیمانی جمہوریت نہیں بلکہ آئینی بادشاہت ہے،2011 کے آئین کے تحت بادشاہ کو ایوانِ نمائندگان میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے حکومت کا سربراہ مقرر کرنا ہوتا ہے،موجودہ صورت حال میں یہی جماعت PAM ہے۔ لیکن خارجہ پالیسی، دفاع اور مذہبی معاملات سمیت ریاست کے کئی بنیادی شعبوں میں بادشاہ کا کردار انتہائی اہم اور مضبوط ہے،آئین بادشاہ کو ریاست کا سربراہ، مسلح افواج کا کمانڈر اور مذہبی معاملات میں امیرالمؤمنین قرار دیتا ہے
یہی وجہ ہے کہ المنصوری کی آمد کو صرف ’’ایک خاتون کا وزیرِاعظم بننا‘‘ سمجھنا مراکش کی موجودہ سیاست کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا،اصل سیاسی تبدیلی یہ ہے کہ پہلی مرتبہ PAM پارلیمانی انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے،اس سے پہلے 2021 سے حکومت نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس (RNI) کے سربراہ عزیز اخنوش کی قیادت میں تھی، جس کے ساتھ PAM اور استقلال پارٹی بھی حکومت میں شامل تھیں،2026 کے انتخابات میں PAM نے 97 نشستیں حاصل کیں، جبکہ RNI کو 66 اور استقلال پارٹی کو 65 نشستیں ملیں
تاہم المنصوری کے سامنے فوری مسئلہ حکومت بنانا ہے، کیونکہ 395 رکنی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 198 نشستیں درکار ہیں اور PAM کے پاس صرف 97 نشستیں ہیں،انہیں دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا،RNI اور استقلال دونوں ممکنہ اتحادی ہیں، اگرچہ انتخابی مہم میں PAM اور RNI کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ رہا،دوسری طرف اسلام پسند جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی، جو 2011 سے 2021 تک حکومت میں رہی تھی، 54 نشستوں کے ساتھ واپس آئی ہے مگر اس نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا اعلان کیا ہے
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب مراکش کو نوجوانوں کی بے روزگاری، مہنگائی، صحت اور تعلیم کی سہولتوں اور علاقائی عدم مساوات کے مسائل کا سامنا ہے،2025 میں نوجوانوں کی قیادت میں احتجاج بھی ہوئے تھے جن میں سرکاری ہسپتالوں، تعلیم اور روزگار کی صورتحال پر شدید ناراضگی سامنے آئی،تازہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح تقریباً 38 فیصد رہی، جو 2021 کے تقریباً 50 فیصد سے نمایاں کم ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ المنصوری کو تاریخی منصب ملنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے میں حکومت چلانی ہے جہاں سیاسی نظام سے نوجوانوں کی وابستگی اور اعتماد کے سوالات بھی موجود ہیں
ان کی حکومت کے سامنے ایک اور بڑا امتحان 2030 کا فٹبال ورلڈ کپ ہے، جس کی میزبانی مراکش اسپین اور پرتگال کے ساتھ کرے گا،انفراسٹرکچر، روزگار، سرمایہ کاری اور شہری سہولتوں پر اربوں ڈالر خرچ ہونے ہیں،اسی کے ساتھ المنصوری کی جماعت نے آئندہ برسوں میں 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے،اس وعدے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ نوجوانوں کی بے روزگاری پہلے ہی مراکش کے سیاسی مباحث کا مرکزی مسئلہ بن چکی ہے
یوں فاطمہ الزہرا المنصوری کا اقتدار میں آنا مراکش میں ایک بیک وقت علامتی اور سیاسی تبدیلی ہے،ایک طرف ایک 50 سالہ خاتون، وکیل، سابق میئر اور سابق وزیر پہلی مرتبہ حکومت کی سربراہی کر رہی ہیں، دوسری طرف انہیں ایک ایسے شاہی نظام کے اندر حکومت بنانا ہے جہاں بادشاہ کے آئینی اور عملی اختیارات بہت وسیع ہیں،ان کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ مراکش کو پہلی خاتون وزیرِاعظم مل گئی، بلکہ یہ ہے کہ وہ شاہی نظام، مخلوط جماعتی پارلیمنٹ، نوجوانوں کی معاشی بے چینی اور 2030 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے درمیان اپنی حکومت کے لیے ایک قابلِ عمل سیاسی اتحاد اور معاشی پروگرام کس طرح تشکیل





