چونکا دینے والی پیش رفت: امریکا مشرقِ وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار جنگی بیڑا اور 10 ہزار مزید فوجی بھیج رہا ہے
امریکی محکمہ دفاع نے مشرقِ وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار جنگی بیڑا اور مزید بحری جہاز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں تقریباً 9,000 سے 10,000 اضافی امریکی فوجی پہنچ سکتے ہیں،امریکی حکام کے مطابق نئے بحری جہاز، جنگی طیارے، میرینز اور دیگر اہلکار نومبر کے اختتام تک خطے میں پہنچ جائیں گے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ فضائی حملے شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں،وال اسٹریٹ  کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ نومبر میں ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی توقع رکھتے ہیں
طیارہ بردار بحری جہاز USS Theodore Roosevelt اتوار کو سان ڈیاگو سے معمول کی تعیناتی کے لیے روانہ ہوا، جبکہ USS Makin Island Amphibious Ready Group پیر کو تین بحری جہازوں اور 13th Marine Expeditionary Unit کے میرینز کے ساتھ روانہ ہوا
اس وقت USS George H.W. Bush اور USS George Washington پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں،اگر George Washington کو Roosevelt کی آمد کے بعد بھی خطے میں برقرار رکھا گیا تو اپریل کے بعد پہلی مرتبہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ہی وقت میں تین امریکی طیارہ بردار جنگی بیڑے موجود ہوں گے
یہ تعیناتی محض فوجی موجودگی میں اضافے کے بجائے ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی کارروائی کے لیے خطے میں بڑی سطح پر بحری، فضائی اور زمینی قوت جمع کرنے کی علامت ہے،تاہم امریکی حکام کی جانب سے ابھی یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ ایران کے خلاف کوئی نیا حملہ حتمی طور پر کب یا کس پیمانے پر کیا جائے گا





