Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی مسترد کر دی، نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری کی تیاری

ٹرمپ نے ایران کی 7 روزہ جنگ بندی مسترد کر دی، نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد دوبارہ بمباری کی تیاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور امریکی حکام کے مطابق اپنے معاونین سے کہا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ بمباری شروع کی جا سکتی ہے
وال اسٹریٹ جرنل کی الیگزینڈر وارڈ اور سمر سعید کی رپورٹ کے مطابق تہران نے جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات بحال کرنے کی پیشکش کی تھی،ایران کی تجویز میں یہ بھی شامل تھا کہ امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے، جس نے ایرانی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے
ٹرمپ نے ایران کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ان کے معاہدے کو مسترد کر رہے ہیں”،امریکی حکام کے مطابق صدر بیک وقت سفارتی مذاکرات، اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائی سمیت مختلف راستوں پر غور کر رہے ہیں، تاہم ان کی تازہ پوزیشن نے جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کسی ایسے معاہدے کے لیے بے تاب ہوگا جس کے تحت ایران کا جوہری پروگرام ختم کیا جائے،امریکی صدر پہلے بھی ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی پالیسی کا مرکزی ہدف قرار دیتے رہے ہیں
ایرانی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نے عالمی توانائی اور تجارت کے لیے بھی خطرات پیدا کر دیے ہیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ واشنگٹن کی ایران پالیسی اس وقت کسی ایک واضح راستے پر نہیں بلکہ سفارت کاری، معاشی دباؤ اور فوجی کارروائی کے درمیان مسلسل تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔ جنگ بندی کی تجویز مسترد ہونے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نومبر کے انتخابات تک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کس حد تک بڑھتی ہے اور انتخابات کے بعد ٹرمپ واقعی دوبارہ فضائی کارروائی کا حکم دیتے ہیں یا مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید