Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

چونکا دینے والی رپورٹ نے بھارت ہلا دیا:الیکشن کمیشن کے اندر 14 بار بغاوت، رتیکا چوپڑا کی تحقیق نے مودی حکومت کے سامنے نیا انتخابی بحران کھڑا کر دیا

چونکا دینے والی رپورٹ نے بھارت ہلا دیا:الیکشن کمیشن کے اندر 14 بار بغاوت، رتیکا چوپڑا کی تحقیق نے مودی حکومت کے سامنے نیا انتخابی بحران کھڑا کر دیا
تجزیاتی رپورٹ: آفاق فاروقی
بھارت میں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر جاری سیاسی تنازعہ نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی صحافی رتیکا چوپڑا کی رپورٹ نے خود تین رکنی الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کو دستاویزی شواہد کے ساتھ سامنے رکھ دیا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 ماہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے زیرقیادت کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے کم از کم 14 مرتبہ انتخابی فہرستوں اور ووٹروں کی خصوصی نظرثانی سے متعلق فیصلوں اور طریقہ کار پر باضابطہ اعتراضات ریکارڈ کرائے
یہ محض سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن پر الزام تراشی نہیں تھی،ان اعتراضات کی خاص اہمیت اس لیے پیدا ہوئی کہ اعتراض کرنے والے خود الیکشن کمیشن کے دو ارکان تھے،ان کے مطابق بعض فیصلے ان کی پیشگی معلومات کے بغیر کیے گئے، نئے ووٹروں کے اندراج اور موجودہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے گئے اور ووٹر ڈیٹا کو ریاستی سطح سے مرکز میں مرکوز کرنے کے عمل پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے،دونوں ارکان نے ووٹر سافٹ ویئر کی سالمیت کے بارے میں ملک کے کابینہ سیکریٹری تک سے رابطہ کیا
رتیکا چوپڑا کی تحقیق میں ایک اہم مثال نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 کی خامی بھی سامنے آئی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق جولائی میں فارم میں ایک نیا اعلان شامل کیا گیا جس میں نئے ووٹر سے یہ بتانے کو کہا گیا کہ آیا وہ یا اس کے والدین یا دادا دادی گزشتہ خصوصی نظرثانی کی انتخابی فہرست میں موجود تھے،تحقیق کے مطابق کمیشن کے دو ارکان نے مئی میں اعتراض کیا تھا کہ ایسا اقدام متعلقہ قواعد میں ترمیم کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور اسے “غیر مجاز” اور “غیر قانونی” قرار دیا
تنازعہ کا دائرہ صرف کاغذی ریکارڈ تک محدود نہیں رہا،گوا میں انڈین ایکسپریس کی ایک اور تحقیقات کے مطابق 97 اہل ووٹر ایسے بھی سامنے آئے جن کے نام مرکزی نظام کے ذریعے حذف ہونے کے بعد مقامی انتخابی افسر انہیں بحال نہیں کر سکے،اخبار نے اسے ان خدشات کی عملی مثال قرار دیا جن کی نشاندہی دونوں انتخابی کمشنروں نے گزشتہ ایک برس کے دوران کی تھی
سب سے زیادہ سیاسی ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب انڈین ایکسپریس کی تحقیقات منظرعام پر آنے کے بعد حزب اختلاف نے پہلی مرتبہ اپنی تنقید کا رخ پورے الیکشن کمیشن کے بجائے براہ راست چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی طرف موڑ دیا،کانگریس، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کمار کے عہدے سے ہٹائے جانے، خصوصی نظرثانی کے عمل کو روکنے اور پورے معاملے کی غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا
کانگریس نے جمعہ کو ملک کی متعدد ریاستی راجدھانیوں میں احتجاج کیا،دہلی، چندی گڑھ، لکھنؤ، بھوپال، پٹنہ، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے، متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اور بعض مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت، پانی کی توپوں اور دیگر ذرائع کا استعمال کیا،انڈین ایکسپریس کے مطابق کانگریس نے پیر کو ضلعی سطح پر مزید احتجاج اور منگل کو اپنی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے
دوسری طرف ایک نسبتاً چھوٹی لیکن احتجاجی سیاست میں نمایاں ہونے والی جماعت، کاکروچ جنتا پارٹی، نے گیانیش کمار کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ عہدے سے مستعفی ہوں، ورنہ 2 اکتوبر سے ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا،اس اعلان کے مطابق مہم کا آغاز ممبئی سے کیا جائے گا اور بعد میں دوسرے شہروں تک پھیلایا جائے گا
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے،مظاہروں کی شدت اور چیف الیکشن کمشنر کا قانونی طور پر عہدے سے ہٹنا دو الگ معاملات ہیں،بھارتی آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو سپریم کورٹ کے جج کی طرح انتہائی مشکل پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے ہی ہٹایا جا سکتا ہے،کارروائی کے لیے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں کم از کم 50 ارکان کے دستخط درکار ہوتے ہیں،اس کے بعد مبینہ بدعنوانی یا نااہلی کی تحقیقات اور پھر دونوں ایوانوں میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان کی دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور ہونا ضروری ہے،اس کے بعد صدر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کرنا ہوتا ہے
اسی لیے موجودہ حالات میں یہ کہنا کہ گیانیش کمار کا استعفیٰ یقینی ہے، شواہد سے زیادہ ہوگا،فی الحال جو چیز واضح ہے وہ استعفے کا بڑھتا ہوا سیاسی مطالبہ، ملک گیر احتجاج، پارلیمانی کارروائی کی تیاری اور الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کا غیر معمولی طور پر عوام کے سامنے آ جانا ہے،انڈین ایکسپریس کے مطابق اپوزیشن اس سے پہلے بھی کمار کو ہٹانے کے لیے دونوں ایوانوں میں کارروائی شروع کر چکی تھی، لیکن اپریل میں پیش کی گئی تحریکیں لوک سبھا اسپیکر اور راجیہ سبھا چیئرمین نے مسترد کر دی تھیں،ایک نئی راجیہ سبھا کارروائی کا نوٹس بھی زیرالتوا بتایا گیا ہے
الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا،اس نے انڈین ایکسپریس کی تحقیقات کے جواب میں کہا کہ اختلاف رائے ادارہ جاتی فیصلہ سازی کا حصہ ہے اور گزشتہ ایک برس کے تمام فیصلے متفقہ تھے،تاہم اخبار کے مطابق کمیشن نے ان 14 تحریری اعتراضات کے وجود، تاریخ یا متن سے انکار نہیں کیا، جبکہ فارم 6 میں تبدیلی، بعض فیصلوں کے طریقہ کار اور کئی دوسرے سوالات کی تفصیلی وضاحت نہیں دی گئی
یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس پوری کہانی کو معمول کے سیاسی الزام سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے،ایک انتخابی ادارے کے بارے میں سوال اگر حزب اختلاف اٹھائے تو حکومت اسے سیاسی حملہ قرار دے سکتی ہے،لیکن جب اسی ادارے کے دو ارکان بار بار تحریری طور پر اعتراضات ریکارڈ کرائیں، کابینہ سیکریٹری تک پہنچیں اور پھر ان اعتراضات کی دستاویزات ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعے منظرعام پر آئیں تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کس پارٹی کو فائدہ ہوا؟ سوال یہ بن جاتا ہے کہ انتخابی ادارے کے اندر فیصلے کس طریقے سے ہو رہے تھے؟
مودی حکومت کے لیے سیاسی نقصان کا اصل پیمانہ بھی فی الحال یہی ہے،یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کو اس تنازع سے انتخابی طور پر کتنا نقصان پہنچے گا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ معاملہ محض اپوزیشن کے روایتی “الیکشن کمیشن جانبدار ہے” والے الزام تک محدود نہیں رہا،اب بحث میں خود کمیشن کے دو ارکان کے تحریری اعتراضات، ووٹر ڈیٹا کے مرکزی انتظام، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر ناموں کے حذف ہونے اور سافٹ ویئر کے اختیار جیسے عملی سوالات شامل ہو چکے ہیں
اور اسی مرحلے میں رتیکا چوپڑا کی صحافت اس تنازعہ کا ایک الگ پہلو بن جاتی ہے،ان کی رپورٹ کسی جلسے کی تقریر یا کسی سیاسی رہنما کے الزام پر کھڑی نہیں تھی بلکہ متعدد ریاستوں کے حکام، داخلی دستاویزات، کمیشن کے ارکان کے تحریری اعتراضات اور مخصوص انتخابی معاملات کو جوڑ کر ایک ادارہ جاتی تصویر بناتی ہے،انڈین ایکسپریس کے مطابق چوپڑا گزشتہ 19 برس سے سیاست، حکمرانی اور عوامی پالیسی پر رپورٹنگ کر رہی ہیں
بھارتی صحافت کے لیے اس معاملے کا شاید سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے،اگر ایک صحافی ریاست کے سب سے حساس اداروں میں سے ایک کے اندرونی ریکارڈ تک پہنچ کر یہ پوچھ سکتی ہے کہ فیصلے کیسے کیے گئے، کس نے اعتراض کیا اور کس اعتراض کا کیا جواب دیا، تو کیا ایسی تحقیقاتی صحافت آئندہ بھی اسی آزادی کے ساتھ جاری رہ سکے گی؟ اس کا جواب موجودہ تنازعہ خود نہیں دیتا،لیکن یہ ضرور دکھاتا ہے کہ دستاویزی تحقیق ابھی بھی بھارتی سیاسی نظام میں ایسے سوالات پیدا کر سکتی ہے جنہیں محض حکومتی یا اپوزیشن بیانات سے دبانا آسان نہیں
اب اگلا امتحان سڑک پر بھی ہے اور پارلیمنٹ میں بھی،ایک طرف کانگریس نے احتجاجی سلسلہ آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے، دوسری طرف اپوزیشن پارلیمانی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی نے 48 گھنٹے کے الٹی میٹم کے بعد 2 اکتوبر سے ملک گیر تحریک کی دھمکی دی ہے
لیکن اس پوری کہانی کا سب سے دھماکہ خیز سوال ابھی باقی ہے،کیا 14 تحریری اختلافات، سڑکوں پر اترتی اپوزیشن اور ملک گیر احتجاج کا دباؤ چیف الیکشن کمشنر کو واقعی استعفے تک لے جائے گا، یا بھارت کا انتہائی مضبوط آئینی حفاظتی نظام اس عہدے کو سیاسی طوفان کے باوجود برقرار رکھے گا؟ موجودہ شواہد میں پہلے امکان کی ضمانت نہیں، مگر دوسرے کی ضمانت بھی نہیں،فیصلہ اب صرف احتجاج کی آواز نہیں بلکہ دستاویزی شواہد، عدالتی نگرانی اور پارلیمانی طاقت کے باہمی تصادم سے ہوگا

قومی خبریں سے مزید