پاکستان واپسی سے پہلے ہی اگلے سفر کی بے چینی؟ شہباز شریف کے بیرون ملک قیام پر حافظ نعیم کا طنزیہ وار، نیویارک میں کریانہ اسٹور مالکان سے ملاقات اور سرمایہ کاری کے اعلانات
وزیراعظم شہباز شریف 18ستمبر کو پاکستان سے روانہ ہو کر پہلے لندن، پھر نیویارک اور اب دوبارہ لندن پہنچ چکے ہیں,اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وہ 26 ستمبر کو نیوجرسی سے لندن روانہ ہوئے، جہاں چند روز قیام کے بعد پاکستان واپس پہنچنے کی توقع ہے، اس طرح ایک بار پھر وزیراعظم کی بیرون ملک مصروفیات کئی دنوں پر محیط ہوگئی ہیں
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وزیراعظم کُے مسلسل دوروں اور پاکستان واپسی کے فورا بعد کسی نئے بیرونی دورے پر روانگی کی روایت کے تناظر میں ہی اپنے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے طنزیہ کہا ہے “ جب وزیراعظم پاکستان کے دورے پر آئیں گے ان سے ہونے والی ملاقات کا نتیجہ طے کرے گا لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، جماعت اسلامی پہلے ہی حکومت سے اخراجات کم کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کر رہی ہے
پاکستانی سیاست میں اب ایک طنزیہ سوال مستقل گردش کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان میں کتنے دن رہتے ہیں اور بیرون ملک کتنے دن،لندن، نیویارک اور دوسرے عالمی دارالحکومتوں میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، عالمی رہنماؤں سے رابطے، سرمایہ کاری کی دعوتیں، سفارتی کامیابیوں کے اعلانات اور پاکستان کے عالمی کردار کی تصویریں مسلسل سامنے آتی ہیں، مگر ملک کے اندر عام شہری کے لیے اصل سوال وہی ہے کہ ان ملاقاتوں کا اثر اس کی روزمرہ زندگی تک کب پہنچے گا
حکومتی بیانیے میں پاکستان کی معیشت، سفارت کاری اور عالمی تعلقات کو مسلسل پیش رفت کی تصویر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،وزیراعظم کے حالیہ دورۂ نیویارک میں بھی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں، اقوام متحدہ میں خطاب اور بیرون ملک آباد عام پاکستانیوں سے بڑے کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں اور سرمایہ کاری کا تاثر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی حکمت عملی تصور کی جانے لگی ہے ، جیسے نیویارک میں کمیونٹی کے کریانہ اسٹور کے مالکان سے بزنس مینوں سے اجلاس کی خبروں نے وزیراعظم کی نیت پر شکوک پیدا کیے تو مصنوعی ذہانت آٹو انڈسٹری اور آئ ٹی کے ماہرین سے ملاقاتوں کے نام پر چکن فرائ اور فروخت کرنے والوں کے ساتھ عام میڈیکل ڈاکٹروں سے ملاقاتوں نے وزیراعظم کے سیاسی سماجی اور معاشی فکر پر ہی سنگین سوالات کھڑے کردئیے
ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی تقسیم، مہنگائی، دہشت گردی، روزگار اور سرمایہ کاری کے سوال اپنی جگہ موجود ہیں، وہاں ملک کا وزیراعظم اس قدر غیر سنجیدہ نظر آئے اور جس کے بارے میں عام تاثر ہو وقت ٹپاؤ تے مٹی پاؤ ، یہی وہ خلا ہے جو سرکاری بیانات کی روشن تصویر اور عام پاکستانی کے تجربے کے درمیان نمایاں ہوتا جا رہا ہے،عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں جتنی نمایاں دکھائی دیتی ہیں، اتنا ہی بڑا سوال یہ بنتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے نتائج پاکستان کے اندر کب محسوس ہوں گے
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہباز شریف ابھی پاکستان واپس بھی نہیں پہنچے کہ اگلے غیر ملکی سفر کے امکانات کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں،تاہم 26 ستمبر تک دستیاب سرکاری اور معتبر اطلاعات میں اگلے چند دنوں کے لیے کسی نئے غیر ملکی دورے کا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا،فی الحال وزیراعظم لندن میں ہیں اور چند روز بعد اسلام آباد واپسی متوقع ہے
یوں سوال صرف یہ نہیں کہ وزیراعظم کتنے دن بیرون ملک رہے، سوال یہ بھی ہے کہ وطن واپسی کے بعد وہ کتنے دن ملک کے اندر رہ کر ان مسائل کا سامنا کرتے ہیں جن کی شدت سے عام پاکستانی روزانہ دوچار ہے،عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے لیے مواقع تلاش کرنے کا سلسلہ اپنی جگہ، لیکن پاکستان میں موجود معاشرے کو بھی کسی ایسے دورے کا انتظار ہے جس کا مقصد صرف روانگی اور واپسی نہ ہو بلکہ اندرون ملک موجود بحرانوں سے براہ راست نمٹنا ہو






