Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا امریکا میں ICE ختم کرنے کا مطالبہ، شکاگو، منیاپولس سمیت چار شہروں میں تارکینِ وطن کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹ

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا امریکا میں ICE ختم کرنے کا مطالبہ، شکاگو، منیاپولس سمیت چار شہروں میں تارکینِ وطن کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹ

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پہلی مرتبہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، یعنی ICE، کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے،انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی نئی 100 سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا ہے کہ شکاگو، منیاپول،سینٹ پال، نیو اورلینز اور واشنگٹن ڈی سی میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی امیگریشن کارروائیوں کے دوران تارکینِ وطن، پناہ کے متلاشی افراد، پناہ گزینوں اور بعض امریکی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں
رپورٹ کی تیاری کے لیے ایمنسٹی کے محققین نے ان چاروں علاقوں میں 154 افراد کے انٹرویوز کیے،رپورٹ میں نسلی بنیادوں پر امیگریشن کارروائی، من مانی گرفتاریوں اور حراست، غیر ضروری طاقت کے استعمال، مہلک طاقت اور مبینہ غیر قانونی ہلاکتوں، پُرامن مظاہروں کو آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے سے دبانے، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے استعمال، غیر انسانی حراستی حالات اور قانونی کارروائی کے حق سے محرومی جیسے الزامات شامل ہیں
ایمنسٹی نے کہا ہے کہ اس کے سامنے آنے والے واقعات الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ امیگریشن نافذ کرنے کے موجودہ نظام میں بار بار سامنے آنے والے ایک وسیع تر نمونے کی نشاندہی کرتے ہیں،تنظیم کی امریکی شاخ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نادیہ دار نے کہا کہ ICE کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ نیا نہیں، لیکن جن واقعات کے دستاویزی حقائق سامنے آئے ان کی شدت نئی سطح تک پہنچ چکی ہے،تنظیم کی ڈائریکٹر برائے پناہ گزین اور تارکین وطن کے حقوق ایمی فشر کے مطابق اصلاحات کے ذریعے ICE کو امریکی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کے مطابق لانے کا راستہ باقی نہیں رہا
رپورٹ میں منیاپولس کے ایک واقعے کا بھی ذکر ہے جس میں ریاستی رکن اسمبلی لیش کوزلوفسکی نے محققین کو بتایا کہ ان کی حاملہ کزن کو وفاقی امیگریشن اہلکاروں نے گاڑی سے نکال کر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا، حالانکہ اس کے شوہر نے اہلکاروں کو اس کی مقامی قبائلی شناخت دکھائی تھی،ایمنسٹی نے اس واقعے کو نسلی بنیاد پر پروفائلنگ کے اپنے دعوے کی متعدد مثالوں میں سے ایک قرار دیا ہے،یہ الزامات رپورٹ میں دیے گئے عینی بیانات اور دیگر مواد پر مبنی ہیں، جبکہ انفرادی واقعات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں کریں گی
شکاگو میں بھی Broadview کے حراستی مرکز کے باہر احتجاج کے دوران وفاقی اہلکاروں کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے گئے،ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایک پادری ڈیوڈ بلیک کا بیان شامل ہے جن کے مطابق وہ مرکز کے باہر دعا اور نعرے لگا رہے تھے جب وفاقی اہلکاروں نے ان پر مرچوں کے اسپرے والے دھماکہ خیز گولے فائر کیے،ایمنسٹی نے ایسے واقعات کو پُرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کے حق کو دبانے کے تناظر میں پیش کیا ہے
یہاں ایک اہم آئینی اور قانونی نکتہ ہے،ICE کوئی ایسا ادارہ نہیں جسے صرف صدارتی حکم سے وجود میں لایا گیا ہو،یہ ادارہ 2003 میں Homeland Security Act of 2002 کے تحت محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے قیام کے بعد تشکیل دیا گیا تھا،خود ICE کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق مارچ 2003 میں نئی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی تنظیم نو کے تحت Immigration and Customs Enforcement کا ادارہ قائم ہوا، جبکہ اس کے افسران کو وفاقی قوانین کے تحت امیگریشن اور دیگر قانون نافذ کرنے کے اختیارات حاصل ہیں
اس لیے ICE کو مکمل طور پر قانونی ادارے کے طور پر ختم کرنا بنیادی طور پر کانگریس کی کارروائی کا معاملہ ہے،صدر انتظامی اختیارات استعمال کرکے ادارے کے اندر ترجیحات، تنظیم، وسائل اور بعض آپریشنز تبدیل کر سکتے ہیں، لیکن کانگریس کے قانون میں قائم کردہ ادارے کو محض ایک صدارتی حکم سے مستقل طور پر ختم کر دینا الگ قانونی سوال پیدا کرے گا،مزید یہ کہ ICE کے بیشتر امیگریشن اختیارات خود وفاقی امیگریشن قانون، خصوصاً Immigration and Nationality Act کے تحت آتے ہیں،ICE بھی تسلیم کرتا ہے کہ ملک بدری کے اس کے اختیارات Title 8 کے تحت وفاقی قانون سے حاصل ہوتے ہیں
چنانچہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ’’ICE ختم کرو‘‘ مطالبہ ایک سیاسی اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسی مطالبہ ہے، کوئی عدالتی حکم یا خودکار قانونی فیصلہ نہیں،اگر امریکی حکومت واقعی ICE کو موجودہ شکل میں ختم کرنا چاہے تو کانگریس کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کے قانونی اختیارات اور ذمہ داریاں کس دوسرے وفاقی ادارے کو منتقل ہوں گی اور امیگریشن قانون کے نفاذ کا نیا ڈھانچہ کیا ہوگا
یہی اس معاملے کا بنیادی تنازعہ ہے،ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ ادارہ بنیادی طور پر ایسی ساخت اختیار کر چکا ہے جسے اصلاحات کے ذریعے درست نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ICE کا قانونی وجود کانگریس کے بنائے ہوئے وفاقی قانون اور امیگریشن قوانین کے نفاذ سے جڑا ہوا ہے

قومی خبریں سے مزید