Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اقوام متحدہ نے اسرائیلی بستیوں سے کاروباری روابط رکھنے والی مزید 61 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا

اقوام متحدہ نے اسرائیلی بستیوں سے کاروباری روابط رکھنے والی مزید 61 کمپنیوں کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں سے کاروباری روابط رکھنے والی مزید 61 کمپنیوں کو اپنی فہرست میں شامل کر لیا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق ان کمپنیوں کی سرگرمیاں فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے منسلک ہیں
نئی 61 کمپنیوں کے اضافے کے بعد اقوام متحدہ کے اس ڈیٹا بیس میں شامل کمپنیوں کی مجموعی تعداد 214 ہو گئی ہے، جن کا تعلق 11 ممالک سے ہے،فہرست میں شامل کمپنیوں کی اکثریت اسرائیلی ہے، جبکہ امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اسپین، میکسیکو، جنوبی افریقہ، نیدرلینڈز اور دیگر ممالک کی کمپنیاں بھی شامل ہیں،تازہ جائزے میں گزشتہ فہرست میں شامل 158 کمپنیوں میں سے 5 کو نکال بھی دیا گیا ہے
اقوام متحدہ کے مطابق کسی کمپنی کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے اس کے بارے میں معقول بنیادوں پر یہ نتیجہ سامنے آنا ضروری ہے کہ وہ ممنوعہ سرگرمیوں میں سے کم از کم ایک میں ملوث ہے،ان سرگرمیوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں سہولت فراہم کرنا، نگرانی اور شناخت کا سامان فراہم کرنا، بینکاری خدمات، بنیادی سہولیات اور دیگر خدمات فراہم کرنا شامل ہیں،اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ اس معیار کا مطلب فوجداری عدالت میں جرم ثابت ہونا نہیں ہے بلکہ انسانی حقوق سے متعلق جائزے کا معیار ہے
فہرست میں نئی شامل ہونے والی کمپنیوں میں اسرائیلی کیڑے مار ادویات بنانے والی کمپنی ADAMA، اسرائیلی رئیل اسٹیٹ کمپنی Alony Hetz اور اسپین کی Salvat Logistica شامل ہیں،پہلے سے موجود فہرست میں Airbnb، Expedia، TripAdvisor اور Motorola جیسی عالمی کمپنیوں کے نام بھی شامل ہیں
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ کمپنیوں کو یاد دہانی کراتی ہے کہ انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے اور اس بات کی جانچ کرنی چاہیے کہ ان کی کاروباری سرگرمیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاون نہ بنیں
اسرائیل نے اقوام متحدہ کی فہرست کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے،جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن نے کہا کہ وولکر ترک کا دفتر اس ڈیٹا بیس کو کاروباری اداروں کے خلاف مہم کے لیے استعمال کر رہا ہے اور فہرست میں شامل کمپنیوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا
یہ اقوام متحدہ کی فہرست پہلی بار 2020 میں انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کے بعد قائم کی گئی تھی،اس کا مقصد ایسی کمپنیوں کی نشاندہی کرنا ہے جن کی کاروباری سرگرمیوں کا اسرائیلی بستیوں سے تعلق ہے، تاہم اقوام متحدہ کے پاس ان کمپنیوں کو فہرست میں شامل ہونے کے باعث براہ راست کارروائی کا پابند بنانے کا اختیار نہیں ہے

قومی خبریں سے مزید