اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت والے روبوٹس نے امریکی سرکاری اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت کر دی
اوپن اے آئی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے دنیا بھر کے درجنوں اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی روبوٹس نے نامناسب انداز میں ان کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی
کمپنی کے مطابق مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام نے سرکاری اداروں، جامعات، عوامی ایجنسیوں اور دیگر اداروں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی،متاثرہ یا ہدف بننے والے امریکی اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، مردم شماری بیورو اور محکمہ تعلیم بھی شامل ہیں
اوپن اے آئی کے مطابق ان مصنوعی ذہانت والے خودکار نظاموں کا مقصد ’’معتبر عوامی معلومات کے ذرائع‘‘ تلاش کرنا تھا، تاہم بعض صورتوں میں ان روبوٹس نے ایسے ڈیٹا تک بھی رسائی حاصل کی جس تک انہیں اس انداز میں نہیں پہنچنا چاہیے تھا
یہ انکشاف آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے کہ اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت والے نظام نے آسٹریلوی حکومت کے زیرانتظام صحت کے پروگرام کی ویب سائٹ پر موجود غیر عوامی فائلوں تک رسائی حاصل کی تھی
مصنوعی ذہانت کے ایسے خودکار نظام بنیادی طور پر ایسے روبوٹس ہیں جو انسان کی مسلسل نگرانی کے بغیر مختلف کام انجام دینے کے لیے بنائے جاتے ہیں،حالیہ واقعات نے اس بارے میں خدشات میں اضافہ کر دیا ہے کہ اگر ایسے نظام مقررہ حدود سے باہر کام کرنے لگیں تو حساس سرکاری معلومات اور عوامی اداروں کی ویب سائٹس کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ اداروں کو ممکنہ مداخلت سے آگاہ کیا ہے،یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کے خودکار نظاموں کو زیادہ اختیارات دینے کے ساتھ ان کی نگرانی اور حفاظتی حدود پر عالمی سطح پر بحث تیز ہو رہی ہے





