کانگریس کا یو پی آئی فیس کے معاملے پر مودی حکومت پر امریکی دباؤ میں آنے کا الزام
دہلی:بھارت میں یونائیٹڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کے بعض کاروباری لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) عائد کرنے کے فیصلے پر کانگریس نے نریندر مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے،کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے امریکی دباؤ کے سامنے جھک کر یو پی آئی پر عائد صفر MDR کی پالیسی ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا یہ اقدام امریکی کارڈ کمپنیوں کو یو پی آئی کا مقابلہ کرنے کا موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے،انہوں نے طنزیہ طور پر NOTA کی نئی تشریح کرتے ہوئے اسے ’’Narendra’s Ongoing Trump Appeasement‘‘ قرار دیا
حکومت کے مطابق 15 اکتوبر سے 2,000 بھارتی روپے تک کے مرچنٹ یو پی آئی لین دین بدستور مفت رہیں گے، جبکہ مخصوص صورتوں میں 2,000 روپے سے زیادہ کے کاروباری لین دین پر MDR لاگو ہوگا،حکومت کا کہنا ہے کہ صارفین سے براہ راست کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور تقریباً 96 فیصد مرچنٹ ٹو پرسن لین دین بھی متاثر نہیں ہوں گے،حکومت نے واضح کیا ہے کہ MDR ٹیکس نہیں بلکہ ادائیگی کے نظام میں شامل بینکوں اور پیمنٹ ایپ فراہم کرنے والوں کے درمیان تقسیم ہونے والی فیس ہے
بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین پر MDR کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا،اس کے ترجمان پردیپ بھنڈاری کے مطابق 2,000 روپے یا اس سے کم کے تقریباً 96 فیصد یو پی آئی مرچنٹ لین دین مکمل طور پر فیس سے مستثنیٰ رہیں گے
یوں تنازعہ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ حکومت اسے یو پی آئی کے طویل مدتی مالی استحکام کے لیے محدود مرچنٹ فیس قرار دے رہی ہے، جبکہ کانگریس اسے امریکی دباؤ اور امریکی کارڈ کمپنیوں کے مفاد سے جوڑ رہی ہے،ادھر بھارتی کاروباری افراد اور رہنماؤں کا MDR کے نفاذ پر کہنا ہے ، یہ نیا ٹیکس بالآخر عام آدمی کی جیب سے ہی ادا ہونا ہے ، چھوٹے کاروبار کو اس کے نفاذ سے بڑا نقصان ہوگا






