مودی سے ملاقات کے چند روز بعد اسکول کے مسلمان ساتھی کو بی جے پی رکن اسمبلی سے متنازعہ زمین واپس مل گئی
دہلی : 81 سالہ اصغر علی وورا، جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اسکول کے زمانے کے ساتھی رہ چکے ہیں، کو وزیر اعظم سے ملاقات کے چند روز بعد بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا کے ساتھ متنازع زمین کے معاملے میں اپنی زمین واپس مل گئی
رپورٹ کے مطابق وورا کی زمین پر طویل عرصے سے تنازعہ جاری تھا اور معاملہ نریندر مہتا سے منسلک تھا،وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پیش آنے والی پیش رفت کے نتیجے میں وورا کو زمین واپس مل گئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ زمین کی واپسی کس قانونی یا انتظامی کارروائی کے تحت ہوئی
اصغر علی وورا اور مودی کی پرانی شناسائی اس معاملے کو مزید نمایاں بناتی ہے،زمین کے تنازعہ اور اس کے حل سے متعلق دیگر تفصیلات اور فریقین کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ زمین کی واپسی کا وزیر اعظم سے ہونے والی ملاقات سے براہ راست کوئی تعلق تھا یا نہیں، اکیاسی سالہ اصغر علی وورا گجرات کے شہر وڈنگر کے بی این اسکول میں نریندر مودی کے ہم جماعت رہے ہیں،دونوں نے اسکول کے زمانے میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی اور وورا نے 8 ستمبر کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرکے اپنی تقریباً 15 سال پرانی زمین کے تنازع کا معاملہ براہ راست ان کے سامنے رکھا،وورا کے مطابق انہوں نے 1989 میں بھیوندر ایسٹ کے نواگھر علاقے میں تقریباً 2,810 مربع میٹر زمین رجسٹرڈ معاہدے کے ذریعے خریدی تھی اور اسے کبھی فروخت یا منتقل نہیں کیا،ان کا الزام تھا کہ 2011 میں ان کی اجازت کے بغیر جعلی دستاویزات کے ذریعے زمین کو دو حصوں میں تقسیم کرکے تعمیراتی کمپنیوں کے نام منتقل کیا گیا،وورا نے اس معاملے میں 2015 میں پولیس شکایت بھی درج کرائی تھی اور وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران مبینہ جعل سازی کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا تھا






