کور کمانڈرز کانفرنس کے فوراً بعد فوج میں ترقی و تبادلوں کی اطلاعات ، 10 میجر جنرلز کی تھری اسٹار پر ترقی ، واجد عزیز بھی تھری اسٹار جنرل ، ڈرٹی ہیری نظر انداز
راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس کے چند گھنٹے بعد پاک فوج کی اعلیٰ کمان میں بڑے پیمانے پر تقرریوں اور ترقیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق تقریباً 10 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے اور بعض اہم کور کمانڈز میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں
ان اطلاعات میں سب سے زیادہ توجہ میجر جنرل واجد عزیز کے نام پر ہے، جو ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں، اور فیلڈ مارشل کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق انہیں بھی تھری اسٹار رینک دیا گیا ہے، جس کے بعد فوجی حلقوں میں یہ قیاس آرائی شروع ہوگئی ہے کہ انہیں مستقبل میں انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ کی اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے،تاہم ان کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرری کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی
ستمبر میں سامنے آنے والی رپورٹس میں بھی واجد عزیز ان میجر جنرلز میں شامل تھے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اکتوبر کی متوقع ریٹائرمنٹس کے نتیجے میں خالی ہونے والی تین اسٹار نشستوں پر ان کی ترقی زیر غور ہے،اسی تناظر میں کامران تبریز سوارہ، جاوید دوست چانڈیو، افتخار حسن چوہدری، محمد امتناں بابر اور محمد نعیم اختر سمیت متعدد نام زیر بحث آتے رہے ہیں،
یہ پیش رفت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ اسی روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں فوجی قیادت نے اندرونی استحکام، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سیاسی بے چینی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا،آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس نے قرار دیا کہ کسی بھی جانب سے 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے یا انتشار کی کوشش کو ’’فیصلہ کن قوت‘‘ اور قانون کے مطابق، بلاامتیاز کارروائی کے ذریعے روکا جائے گا
یوں ایک ہی دن میں دو اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں،ایک طرف سیاسی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، جبکہ دوسری طرف فوجی قیادت نے اندرونی بدامنی کے خلاف اپنی سخت پالیسی واضح کی اور اسی ماحول میں اعلیٰ فوجی کمان میں متوقع تبدیلیوں کا عمل تیز ہوتا دکھائی دے رہا ہے
اکتوبر کی متوقع ریٹائرمنٹس اس پورے معاملے کا دوسرا اہم پہلو ہیں،مختلف رپورٹس میں سات لیفٹیننٹ جنرلز کی اکتوبر میں ریٹائرمنٹ کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، جن میں موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کا نام بھی شامل ہیے بعض رپورٹس نے ان کی ریٹائرمنٹ کی متوقع تاریخیں اکتوبر کے دوران بتائی ہیں، تاہم ان تفصیلات کی ابھی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ کچھ دفاعی ماہرین کا خیال ہے جنرل عاصم ملک کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیکر وائس چیف آف آرمی اسٹاف بنایا جاسکتا ہے
اگر نئی ترقیوں اور تقرریوں کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض چند عہدوں کی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ فوج کی تین اسٹار قیادت میں ایک اہم مرحلہ وار تبدیلی ہوگی،نئی لیفٹیننٹ جنرلز کو کور کمانڈز، اہم ہیڈکوارٹرز، انٹیلی جنس اور دیگر حساس ذمہ داریاں ملنے کی صورت میں آنے والے دنوں میں پاک فوج کی اعلیٰ کمان کا نیا نقشہ واضح ہوگا
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2022 میں بھی 12 میجر جنرلز کو ایک ہی مرحلے میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی اور اس کے بعد متعدد اہم کور کمانڈز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہوئیں،اس وقت بھی ان ترقیوں کو اعلیٰ کمان میں آنے والی وسیع تر تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھا گیا تھا
اس بار بھی اصل سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے میجر جنرلز کو تین اسٹار ملا، بلکہ یہ ہے کہ نئی قیادت میں کون سی شخصیت آئی ایس آئی، کور کمانڈز اور دیگر حساس اداروں کی ذمہ داری سنبھالتی ہے اور اکتوبر میں ریٹائر ہونے والے سینئر جنرلز کی جگہ کون لیتا ہے،یہی تقرریاں آنے والے مہینوں میں پاکستان کے عسکری اور سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے زیادہ اہم ہوں گی، تاہم اس سارے انتظام میں فیلڈ مارشل کے لیے انسانی اخلاقی حدود کو پار کرنے کے لیے مشہور میجر جنرل فیصل نصیر جنہیں سابق وزیراعظم عمران خان نے ڈرٹی ہیری کے خطاب سے نوازا جو ابھی دو ہفتے قبل تک آئ ایس آئ میں ڈپٹی چیف کے عہدے پر فائز تھے ترقی کی قطار میں کہیں آگے رکھے گئے نہ پیچھے، البتہ انہیں ایک سول کم فوج کے زیر انتظام ادارے کی سربراہی دیکر قصہ تمام کردیا گیا





