Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مذاکرات کی میز پر حکومت، سڑکوں پر لانگ مارچ اور جی ایچ کیو کا انتباہ: ’9 مئی دوبارہ ہوا تو فیصلہ کن کارروائی ہوگی‘

مذاکرات کی میز پر حکومت، سڑکوں پر لانگ مارچ اور جی ایچ کیو کا انتباہ: ’9 مئی دوبارہ ہوا تو فیصلہ کن کارروائی ہوگی‘

اسلام آباد میں حکومت اور تحریک انصاف کے نمائندے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پہلی باضابطہ مذاکراتی نشست میں بیٹھے تو تقریباً اسی وقت راولپنڈی میں فوج کی اعلیٰ قیادت نے ایک ایسا پیغام جاری کیا جس نے سیاسی بحران کے اگلے مرحلے کی حدیں واضح کردی ہیں،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی بھی جواز پر پُرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش سے ’’فیصلہ کن طاقت‘‘ اور قانون کے تحت بلاامتیاز نمٹا جائے گا
آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز نے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ملک کی داخلی سلامتی، دہشت گردی، پولیس کی استعداد اور افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خطرات پر غور کیا،فورم نے انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونے والی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی کے ساتھ بہتر انتظامی اور حکومتی اقدامات بھی ضروری ہیں،افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا
لیکن اعلامیے کی سیاسی اہمیت اس حصے میں ہے جہاں ’’9 مئی جیسے حالات‘‘ کا نام لے کر یہ کہا گیا کہ کسی بھی قسم کے پُرتشدد انتشار کو برداشت نہیں کیا جائے گا،اعلامیے میں تحریک انصاف، عمران خان یا 4 اکتوبر کے مارچ کا نام نہیں لیا گیا،اس کے باوجود اس بیان کا وقت غیر معمولی ہے،اسی روز حکومت اور تحریک انصاف کے وفود قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں مذاکرات کررہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی 4 اکتوبر کی احتجاجی کال ابھی واپس نہیں لی گئی،دونوں فریق مذاکرات دوبارہ ہفتے کو جاری رکھنے پر متفق ہوئے ہیں
یوں موجودہ صورتحال میں بیک وقت دو مختلف پیغامات سامنے آرہے ہیں،سیاسی حکومت مذاکرات کے ذریعے مارچ روکنے کا راستہ تلاش کررہی ہے، جبکہ فوجی قیادت نے یہ واضح کردیا ہے کہ اگر احتجاج پرتشدد انتشار میں تبدیل ہوا تو ریاستی ردعمل سخت ہوگا،اسے براہ راست تحریک انصاف کو دیا گیا فوجی الٹی میٹم کہنا درست ہوگا، گُو کے اعلامیے میں پارٹی کا نام موجود نہیں، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں اسے ایک بالواسطہ انتباہ کے طور پر پڑھا جانا ایک قابل فہم سیاسی تعبیر ہے
یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی بھی دو متوازی راستوں پر چل رہی ہے،ایک طرف اس نے حکومت سے مذاکرات قبول کیے ہیں اور عمران خان سے ملاقات کو اہم مطالبہ بنایا ہے، دوسری طرف 4 اکتوبر کا لانگ مارچ ابھی تک واپس نہیں لی،میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے مذاکرات اور مارچ کے درمیان تعلق برقرار رکھا ہے اور عمران خان سے ملاقات کو بنیادی مطالبات میں شامل کیا ہے
حکومت بھی محض مذاکرات پر انحصار نہیں کررہی،وفاقی حکومت پہلے ہی اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں پر بڑے پیمانے پر رکاوٹیں کھڑی کرچکی ہے،رائٹرز کے مطابق ستمبر میں 2,000 سے زیادہ گاڑیاں اور کنٹینرز راستے بند کرنے کے لیے استعمال یا ضبط کیے گئے، جس کے نتیجے میں ملک کے مال بردار نظام اور کراچی سے شمالی علاقوں تک رسد شدید متاثر ہوئی ہے
یہ انتظامات بتاتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کو احتجاج روکنے کا سیاسی راستہ ضرور سمجھ رہی ہے، لیکن ساتھ ہی ریاستی مشینری نے مارچ کی صورت میں طاقت کے استعمال کے لیے بھی تیاری کررکھی ہے،یہی دوہرا پن موجودہ بحران کو محض حکومت اور تحریک انصاف کا سیاسی تنازعہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ریاستی نظم، احتجاج کے حق اور طاقت کے استعمال کے سوال سے جوڑ دیتا ہے
’’9 مئی‘‘ کا حوالہ بھی محض تاریخی نہیں،9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد فوجی تنصیبات پر حملوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات میں ریاست کا ردعمل انتہائی سخت رہا تھا،اسی طرح نومبر 2024 کے اسلام آباد احتجاج میں بھی تحریک انصاف کے کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں،رائٹرز کے مطابق اس وقت ایک پولیس افسر ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ اگلے روز سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاع سامنے آئی
اس لیے آج کے کور کمانڈرز اعلامیے کو اگر موجودہ سیاسی تناظر میں پڑھا جائے تو اس کا بنیادی پیغام یہ دکھائی دیتا ہے کہ مذاکرات کی گنجائش موجود ہے، مگر ریاست نے احتجاج اور تشدد کے درمیان ایک واضح سرخ لکیر کھینچ دی ہے،سیاسی احتجاج قابل بحث اور مذاکرات کا موضوع ہوسکتا ہے، لیکن فوجی قیادت کے مطابق اگر صورتحال 9 مئی جیسے پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوئی تو اسے محض سیاسی احتجاج سمجھ کر نہیں چھوڑا جائے گا
یہی وہ پیغام ہے جہاں حکومت اور فوج کے بیانیے میں فرق بھی نظر آتا ہے،حکومت کے مذاکراتی وفد کے لیے سوال یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقات اور دیگر سیاسی مطالبات پر کتنی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے تاکہ لانگ مارچ رک جائے،فوجی قیادت کے لیے مرکزی سوال داخلی استحکام اور ریاستی اداروں کے تحفظ کا ہے،اس لیے مذاکرات میں سیاسی رعایت کی گنجائش اور سڑکوں پر طاقت کے استعمال کی سرخ لکیر بیک وقت موجود دکھائی دے رہی ہے
کور کمانڈرز کانفرنس میں تقرریوں اور تبادلوں کا معاملہ بھی اس وقت توجہ کا مرکز ہے، کیونکہ اکتوبر میں کئی تین ستارہ افسران کی متوقع ریٹائرمنٹ کے باعث سینئر فوجی کمان میں تبدیلیاں متوقع ہیں،بعض رپورٹوں میں سات لیفٹیننٹ جنرلز کی ممکنہ ریٹائرمنٹ کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں آئی ایس آئی کے سربراہ، بعض کور کمانڈرز اور دوسرے اہم عہدوں پر فائز افسران شامل ہیں،ان تبدیلیوں سے میجر جنرلز کی ترقی اور نئی کور کمانز کی تقرریوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے،تاہم آج کی کور کمانڈرز کانفرنس کو انہی تقرریوں کے لیے منعقد کیا گیا تھا، اس کی سرکاری تصدیق موجود نہیں
اس سیاسی بحران کا سب سے اہم پہلو شاید یہی تضاد ہے،ایک ہی دن ریاست کا سیاسی بازو مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے اور عسکری قیادت ممکنہ انتشار کے خلاف طاقت کے استعمال کی سرخ لکیر کھینچ رہی ہے،اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں، نہ یہ کہ لانگ مارچ لازماً ہونے جارہا ہے،لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ اگر مذاکرات 4 اکتوبر سے پہلے کسی قابل قبول سمجھوتے تک نہ پہنچ سکے اور احتجاج سڑکوں پر آگیا تو حکومت کے پاس صرف سیاسی مذاکرات کا راستہ نہیں ہوگا؛ ریاستی ادارے پہلے ہی اس امکان کے لیے سخت سکیورٹی پوزیشن اختیار کرچکے ہیں
آج کا اصل سوال اس لیے یہ نہیں کہ مذاکرات ہورہے ہیں یا نہیں،اصل سوال یہ ہے کہ کیا مذاکرات عمران خان سے ملاقات اور سیاسی مطالبات پر اتنی گنجائش پیدا کرسکتے ہیں کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کی کال واپس لے، یا پھر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد وہی سڑکیں دوبارہ میدان بنیں گی جہاں 9 مئی اور نومبر 2024 کے تجربات ریاست اور تحریک انصاف دونوں کے لیے پہلے ہی ایک سخت سبق چھوڑ چکے ہیں
اور شاید آج کے کور کمانڈرز اعلامیے کا سب سے اہم سیاسی مطلب بھی یہی ہے،بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا گیا، لیکن طاقت کے استعمال کی حد پہلے ہی واضح کردی گئی ہے، اس ساری صورت حال اور تناظر میں ملک کے سنئیر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے دونوں فریق ایک ایسی بند گلی میں کھڑے ہیں جہاں مفہامت کے سوا کوئ دوسرا راستہ نہیں جس کے امکانات انتہای محدود ہیں اور ان فریقوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنی ضرورتیں اور مجبوریاں فروخت کرنے کی کوشش کی تو اسکے سیاسی پلے میں کچھ بھی نہیں بچے گا

قومی خبریں سے مزید