Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کارنی کا معاشی ترقی پر بڑا داؤ، 85 ارب ڈالر سے زائد سودی ادائیگیوں اور نئے بحران کا خطرہ

کارنی کا معاشی ترقی پر بڑا داؤ، 85 ارب ڈالر سے زائد سودی ادائیگیوں اور نئے بحران کا خطرہ

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت نے 2026 کے وفاقی بجٹ میں معیشت کو مضبوط بنانے، کاروباری سرمایہ کاری بڑھانے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اخراجات اور ٹیکس مراعات کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ تاہم اس منصوبے کے ساتھ ایک بڑا خطرہ بھی جڑا ہوا ہے اگر حکومت کی توقع کے مطابق نئی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی نہ ہوئی، یا عالمی معیشت کو کسی نئے بحران کا سامنا کرنا پڑا، تو بڑھتا ہوا قرض اور اس پر سود کی ادائیگی کینیڈا کے مالی وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے
سی بی سی کے سینئر کاروباری نامہ نگار پیٹر آرمسٹرانگ کے تجزیے کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ کارنی حکومت نے مستقبل کی معاشی ترقی پر ایک بڑا داؤ لگایا ہے حکومت امید کر رہی ہے کہ کاروباری اداروں کو ٹیکس میں رعایت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے فروغ سے معیشت میں تیزی آئے گی لیکن اس حکمت عملی کی کامیابی یقینی نہیں اور ناکامی کی صورت میں اس کی مالی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے
کارنی حکومت کے دوسرے وفاقی بجٹ میں 5 سال کے دوران تقریباً 142 ارب ڈالر کے نئے اخراجات اور مالی مراعات شامل ہیں ان میں کاروباری سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سب سے نمایاں اقدام پروڈکٹیوٹی میگا ڈیڈکشن ہے، جس کے تحت کمپنیاں اہل سرمایہ کاری کی پوری لاگت فوری طور پر اپنے قابل ٹیکس منافع سے منہا کر سکیں گی حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سہولت پر 5 سال میں تقریباً 36 ارب ڈالر خرچ ہوں گے اس کا مقصد کمپنیوں کو نئی مشینری، ٹیکنالوجی، کارخانوں اور پیداواری صلاحیت میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس رعایت سے کینیڈا میں کاروبار کرنا نسبتاً سستا ہو گا اور سرمایہ امریکا یا دوسرے ممالک منتقل ہونے کے بجائے کینیڈا میں رہے گا اس کے نتیجے میں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، پیداوار بڑھے گی اور ملک کی عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہو گی لیکن ناقدین کا سوال ہے کہ کیا اربوں ڈالر کی ٹیکس رعایت واقعی اتنی نئی سرمایہ کاری پیدا کرے گی جو اس کی لاگت پوری کر سکے؟ اگر کمپنیاں وہی سرمایہ کاری کریں جو وہ پہلے ہی کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں تو حکومت کو ٹیکس آمدنی میں کمی تو برداشت کرنا پڑے گی، مگر معیشت کو متوقع اضافی فائدہ نہیں ملے گا
اس بجٹ میں وفاقی خسارہ رواں مالی سال 2026 اور 2027 کے لیے 62.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو اپریل کے تخمینے 65.3 ارب ڈالر سے کم ہے حکومت نے اس سال مجموعی اخراجات تقریباً 603 ارب ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی ہے بجٹ کے مطابق کینیڈا کی معاشی ترقی کی رفتار 2026 میں تقریباً 1 فیصد اور 2027 میں 1.7 فیصد رہنے کی توقع ہے یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت ایک ایسے وقت میں بڑے مالی اقدامات کر رہی ہے جب معیشت کی رفتار بہت تیز نہیں
قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ اس منصوبے کا سب سے اہم خطرہ ہے بجٹ کے تخمینوں کے مطابق 2031 تک وفاقی حکومت کی قرضوں پر سود کی ادائیگی تقریباً 85.5 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے یہ رقم وفاقی حکومت کے بڑے اخراجات میں دوسرے نمبر پر آ سکتی ہے اس کا مطلب ہے کہ مستقبل میں حکومت کی آمدنی کا بہت بڑا حصہ صرف قرضوں پر سود ادا کرنے میں خرچ ہو گا، جس سے صحت، تعلیم، رہائش، دفاع اور دیگر عوامی خدمات کے لیے مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے
کنزرویٹو پارٹی کے مالیاتی اور صنعتی امور کے ناقد ایڈم چیمبرز نے بھی اس حکمت عملی کے خطرات کی نشاندہی کی ہے ان کے مطابق حکومت ایک ایسے وقت میں قرض لے کر بڑے منصوبوں پر سرمایہ لگا رہی ہے جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال بڑھ رہی ہے اگر کوئی نیا عالمی مالیاتی یا معاشی بحران پیدا ہو گیا تو کینیڈا کے لیے قرضوں کا بوجھ سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے ان کا خدشہ ہے کہ مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سطح پر کسی نئے جھٹکے کا امکان نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
کینیڈا کی حکومت کا جواب ہے کہ ملک کی مالی حالت کئی دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے اور اس کے پاس سرمایہ کاری کے لیے قرض لینے کی گنجائش موجود ہے حکومت کے مطابق گزشتہ برسوں میں کمزور پیداواری صلاحیت، نجی شعبے کی محدود سرمایہ کاری اور امریکا پر حد سے زیادہ انحصار نے کینیڈا کی معیشت کو کمزور کیا ہے اس لیے اب صرف اخراجات کم کرنے کے بجائے ایسی سرمایہ کاری ضروری ہے جو مستقبل میں قومی آمدنی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے
اس بجٹ کا ایک اہم مقصد امریکا پر تجارتی انحصار کم کرنا بھی ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور محصولات نے کینیڈین صنعتوں اور برآمدات کے لیے غیر یقینی صورت حال پیدا کی ہے کارنی حکومت چاہتی ہے کہ کینیڈا یورپ اور ایشیا سمیت دوسری منڈیوں میں اپنی برآمدات بڑھائے، توانائی اور قدرتی وسائل کی صنعتوں کو وسعت دے اور ملک کے اندر نئی سرمایہ کاری لائے وزیراعظم نے 2035 تک امریکا سے باہر کینیڈا کی برآمدات دگنی کرنے کا ہدف بھی پیش کیا ہے
بجٹ میں رہائش، توانائی، دفاع اور بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی بڑے منصوبے شامل ہیں حکومت نے کینیڈا میں گھروں کی تعمیر اور بے گھر افراد کے لیے رہائش کی فراہمی پر 11 ارب ڈالر سے زائد کی رقم مختص کی ہے توانائی کے شعبے میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو وسعت دینے، جوہری توانائی اور اہم معدنیات کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی اربوں ڈالر کے اقدامات کیے گئے ہیں دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے اور فوجی سازوسامان کی خریداری میں کینیڈین کمپنیوں کا حصہ بڑھانے کا منصوبہ بھی بجٹ کا حصہ ہے
عام شہریوں کے لیے بھی کچھ ریلیف اقدامات شامل ہیں کم آمدنی والے خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے گروسریز اینڈ ایسنشلز بینیفٹ میں ایک مرتبہ 50 فیصد اضافی ادائیگی کی جائے گی، جو 2027 کے آغاز میں دی جائے گی ایک فرد کے لیے یہ اضافی رقم 339 ڈالر اور 2 بچوں والے جوڑے کے لیے 679 ڈالر تک ہو سکتی ہے تاہم یہ ایک مرتبہ کی ادائیگی ہے، مستقل ماہانہ اضافہ نہیں
اصل امتحان یہ ہو گا کہ حکومت کے یہ اخراجات کتنی نئی سرمایہ کاری، ملازمتوں اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں اگر منصوبے کامیاب ہوئے تو کینیڈا کی معیشت امریکا پر انحصار کم کر سکتی ہے اور طویل مدت میں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے لیکن اگر عالمی تجارت میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں، سرمایہ کاری توقعات کے مطابق نہ بڑھی یا شرح سود بلند رہی تو قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے
کارنی حکومت نے مستقبل کی ترقی کے لیے بڑے مالی وسائل مختص کر دیے ہیں، مگر اس کے نتائج ابھی سامنے آنا باقی ہیں یہی وجہ ہے کہ اس بجٹ کو ایک طرف کینیڈا کی معیشت کو نئی سمت دینے کی کوشش اور دوسری طرف ایک مہنگا معاشی تجربہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ حکومت کے وعدے حقیقی سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں کتنے تبدیل ہوتے ہیں

قومی خبریں سے مزید