Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا میں چین سے منسلک 18 مبینہ پولیس مراکز کا انکشاف، غیر ملکی مداخلت پر تشویش

کینیڈا میں چین سے منسلک 18 مبینہ پولیس مراکز کا انکشاف، غیر ملکی مداخلت پر تشویش

کینیڈا میں چین سے منسلک مبینہ غیر ملکی پولیس مراکز کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے ایک نئی رپورٹ میں کینیڈا کے اندر ایسے 18 مراکز سے تعلق کے الزامات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ان مراکز کے بارے میں بنیادی تشویش یہ ہے کہ آیا انہیں بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کو سرکاری خدمات فراہم کرنے کے بجائے ان کی نگرانی، دباؤ ڈالنے اور چین کی حکومت کے ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے
یہ معاملہ پہلی مرتبہ 2022 میں عالمی سطح پر نمایاں ہوا تھا، جب انسانی حقوق کی تنظیم سیف گارڈ ڈیفنڈرز نے تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ چین نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے 100 سے زیادہ غیر سرکاری پولیس سروس مراکز قائم کیے ہیں ان مراکز کا تعلق چین کے مختلف شہروں کے پبلک سکیورٹی اداروں سے بتایا گیا تھا۔ تنظیم کے مطابق ان کا ایک مقصد بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کی نگرانی اور بعض افراد کو دباؤ کے ذریعے چین واپس جانے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے
کینیڈا میں ابتدائی تحقیقات کے دوران گریٹر ٹورنٹو ایریا میں 3 مراکز کی نشاندہی ہوئی تھی بعد ازاں وینکوور اور مونٹریال میں بھی ایسے مراکز کے پتے سامنے آئے کینیڈا کی پارلیمانی دستاویزات میں مارچ 2023 تک ملک میں کم از کم 7 ایسے مراکز کی موجودگی کا ذکر کیا گیا تھا، جن میں ٹورنٹو کے 3، وینکوور کے 2 اور مونٹریال کے 2 مراکز شامل تھے
کینیڈا کی سکیورٹی ایجنسیوں کے خدشات محض ان مراکز کے وجود تک محدود نہیں تھے ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی غیر ملکی حکومت کو کینیڈا کی سرزمین پر اپنی پولیس کی سرگرمیاں چلانے، شہریوں کی نگرانی کرنے یا انہیں دھمکانے کا اختیار حاصل ہے؟ کینیڈا کے قانون کے تحت کسی دوسرے ملک کے پولیس افسران اپنی مرضی سے یہاں تفتیش یا کارروائی نہیں کر سکتے غیر ملکی تفتیش کاروں کی سرگرمیوں کے لیے کینیڈین حکام کو مطلع کرنا اور مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے
رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس، یعنی آر سی ایم پی نے اکتوبر 2022 میں ان مراکز سے متعلق مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات شروع کی تھیں پولیس نے مشتبہ مقامات کے دورے کیے اور مقامی سطح پر معلومات جمع کیں جون 2023 میں کینیڈین حکام نے بتایا تھا کہ ان مراکز سے منسلک مبینہ پولیس سرگرمیاں بند کرا دی گئی ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں
کینیڈا کی حکومت نے چین کے سفیر کو متعدد مرتبہ طلب کرکے ان مراکز پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ ایسی تمام سرگرمیاں بند کی جائیں جو کینیڈا کے قوانین اور بین الاقوامی سفارتی معاہدوں کے خلاف ہوں چین کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ پولیس اسٹیشن نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم چینی شہریوں کے لیے خدمات کے مراکز ہیں، جہاں ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید اور دیگر انتظامی معاملات میں مدد فراہم کی جاتی ہے
اس معاملے کا ایک حساس پہلو کینیڈا میں آباد چینی نژاد شہریوں کا تحفظ ہے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ چین میں حکومت کے ناقدین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی اختلاف رکھنے والے افراد کو کینیڈا میں بھی نگرانی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بعض صورتوں میں چین میں موجود ان کے رشتہ داروں پر دباؤ ڈال کر بیرون ملک مقیم افراد کو خاموش رہنے یا واپس آنے پر مجبور کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں اس طرز عمل کو بین الاقوامی سطح پر سرحد پار جبر کہا جاتا ہے
کینیڈا کی پارلیمانی تحقیقات میں بھی اس مسئلے کو قومی سلامتی اور شہری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا حکومت نے واضح کیا کہ چینی کمیونٹی کو مجموعی طور پر مشتبہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ تحقیقات کا مقصد کسی بھی غیر ملکی حکومت کی جانب سے کینیڈا کے اندر غیر قانونی سرگرمیوں اور شہریوں کو دھمکانے کے واقعات کا سراغ لگانا ہے
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کینیڈا میں چین کی مبینہ غیر ملکی مداخلت کے الزامات صرف پولیس مراکز تک محدود نہیں رہے انتخابی عمل، سیاسی شخصیات، چینی حکومت کے ناقدین اور تارکین وطن کی کمیونٹیز سے متعلق بھی مختلف تحقیقات اور سرکاری جائزے سامنے آ چکے ہیں کینیڈا کی حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ایک طرف غیر ملکی مداخلت اور شہریوں کو دھمکانے کی روک تھام کی جائے اور دوسری طرف چینی نژاد کینیڈین شہریوں کے حقوق، آزادی اور قانونی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے
رپورٹ میں 18 مراکز سے متعلق دعویٰ اس بحث کو دوبارہ زندہ کرتا ہے، لیکن ان تمام مقامات کو فعال پولیس اسٹیشن قرار دینا درست نہیں ہوگا ماضی میں کینیڈین حکام نے متعدد مراکز کی سرگرمیاں بند کرانے کی اطلاع دی تھی اور ہر مقام کے خلاف غیر قانونی کارروائی ثابت ہونے کا مطلب الگ ہے اصل سوال یہ ہے کہ آیا نئے سامنے آنے والے مراکز کا تعلق بھی چین کے سرکاری اداروں سے ہے، وہ کس نوعیت کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اور کیا ان کے خلاف کینیڈا کے قوانین کے تحت مزید کارروائی کی ضرورت ہے

قومی خبریں سے مزید