2026 ریکارڈ کا دوسرا گرم ترین سال بننے کے قریب، شدید ال نینو نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر رہے ہیں یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کے تازہ تخمینے کے مطابق 2026 تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال بننے کا امکان ہے اس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت کے ساتھ بحرالکاہل میں غیر معمولی طور پر طاقتور ال نینو موسمیاتی نظام ہے، جو پہلے سے گرم ہوتی زمین کے درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر رہا ہے
کوپرنیکس کے مطابق 2026 میں اس بات کا تقریباً 80 فیصد امکان ہے کہ یہ سال ریکارڈ کا دوسرا گرم ترین سال ثابت ہوگا، جبکہ 20 فیصد امکان ہے کہ یہ 2024 کے برابر یا اس سے بھی زیادہ گرم ہو جائے، جو اب تک ریکارڈ کیا گیا گرم ترین سال ہے
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میں عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے زمانے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رہنے کا امکان تقریباً یقینی ہے۔ 2023 سے 2026 تک کے 4 سال کا اوسط درجہ حرارت بھی پہلی مرتبہ اس حد سے تجاوز کر سکتا ہے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں عالمی حدت کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کو روکا جا سکے
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین اکتوبر رہا اس مہینے عالمی سطح پر ہوا کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے زمانے کے مقابلے میں 1.75 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ تھا جس میں عالمی درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے اوپر رہا
کوپرنیکس کے مطابق اکتوبر کے دوران عالمی درجہ حرارت کے ساتھ سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت بھی غیر معمولی طور پر بلند رہا یورپی مرکز برائے درمیانی مدت کے موسمیاتی پیش گوئی کے ادارے کی ماہر سمانتھا برگس نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ال نینو پہلے سے انسانی سرگرمیوں کے باعث گرم ہونے والی زمین میں مزید حرارت شامل کر رہا ہے
ال نینو بحرالکاہل کے استوائی خطے میں سمندر کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے کا قدرتی موسمیاتی عمل ہے۔ اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کا توازن تبدیل کر سکتے ہیں کہیں شدید خشک سالی پیدا ہوتی ہے تو کہیں غیر معمولی بارشوں، سیلاب اور شدید گرمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ماہرین کے مطابق موجودہ ال نینو ابھی اپنی بلند ترین شدت تک نہیں پہنچا اور رواں سال کے آخر میں مزید طاقتور ہو سکتا ہے
موسمیاتی پیش گوئی کرنے والے اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ال نینو کے اثرات 2027 میں بھی برقرار رہ سکتے ہیں اور اگلا سال دنیا کا نیا گرم ترین سال بن سکتا ہے
اس سال دنیا کے مختلف خطوں میں موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات پہلے ہی دیکھے جا چکے ہیں نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب، یورپ میں شدید گرمی کی لہریں اور انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ نے لاکھوں افراد کی زندگیوں اور ماحول کو متاثر کیا ہے ان واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ عالمی حدت محض مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ دور کا سنگین بحران بن چکی ہے
2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے میں دنیا کے ممالک نے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سے کافی کم رکھنے اور اسے 1.5 ڈگری تک محدود کرنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا تاہم اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ طویل المدتی 1.5 ڈگری کا ہدف اب مقررہ وقت میں حاصل کرنا ممکن نہیں دکھائی دیتا
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیل، گیس اور کوئلے جیسے فوسل ایندھن کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ضروری ہے اگر اخراج کم نہ کیا گیا تو شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب، جنگلاتی آگ اور خوراک و پانی کی قلت جیسے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں
دنیا کے ممالک پیر کو ترکی میں اقوام متحدہ کی 2 ہفتوں پر مشتمل COP31 ماحولیاتی کانفرنس کے لیے جمع ہونے والے ہیں اس اجلاس میں عالمی حدت کو روکنے، فوسل ایندھن کے استعمال میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی مدد جیسے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے
پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے، کیونکہ یہاں شدید گرمی، سیلاب، پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں غیر یقینی صورتحال پہلے ہی بڑے مسائل ہیں عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ان خطرات کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ ان سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی، پانی کے ذخائر کا تحفظ، زرعی اصلاحات اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے مؤثر انتظامات ناگزیر ہیں






